ایک غیر ملکی کی نظر میں پاکستان

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

آپ ایک ایسے ملک میں رہنے کاتصور کیسے کرسکتے ہیں جہاں طالبان کے بڑھتے ہوئے قدموں کی دھمک بندکمروں میں بھی کانوں میں سنائی دے رہی ہو؟ یہ کیسا ملک ہے جو دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں سے ایک ہے؟ آپ ملاوٹ زدہ خوارک کھا کر کیسے زندہ ہیں؟اور ہاں بجلی اور گیس کے بغیر بھی اہتمامِ زیست کرنا آپ نے شاید سیکھ لیا ہے؟یہ وہ چند ایک سوالات ہیں جن کا ہم پاکستانیوں کو دیارِ غیر میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر ملکی حیران ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے اور مزید حیران اس لیے ہم یہاں زندگی کیسے بسر کررہے ہیں۔ سچی بات پوچھیں تو گزشتہ کئی عشروں سے ہم یہ سوال پیہم سن رہے ہیں لیکن ہمارے جواب سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ اس لیے میں نے چند امریکی دوستوں کو دعوت دی ہے کہ جب بھی میں اگلی مرتبہ پاکستان جاؤں تو وہ میرے ساتھ جانے کی کوشش کریں تو میں اُن کو اپنے ملک کا اصلی چہرہ دکھاؤں گی۔

قارئین بھی سوچ میں پڑ گئے ہوں کہ غیر ملکی احباب کے سوالات تو بجا ہیں اور ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے انہیں ملک اور معاشرے کی کوئی خوشنما تصویر دکھانا دشوار ہے ، لیکن ٹھہریں، ایسا نہیں ہے۔دراصل یہ سوالات مسائل کے نصاب سے لیے گئے ہیں اور ان کا سرچشمہ میڈیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مسائل موجود نہیں، یقیناًیہ اور بہت سے دیگر مسائل معاشرے کا حصہ ہیں لیکن میڈیا کے سامنے مسلہ ٗ یہ ہے کہ اُسے خبر چاہیے اور خبر کی صف میں عام واقعات کھڑے نہیں ہو سکتے ہیں۔ خبر کے لیے کوئی ہنگامہ آرائی درکار ہے اورہنگامہ متوازن زندگی سے نہیں لیا جاسکتا۔ پس چہ باید کرد؟کیا خبر کے علاوہ سماج کوئی وجود نہیں رکھتا۔

اگر آپ امریکی یا یورپی میڈیا پر نظر رکھتے ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ وہ اپنا دامن بریکنگ نیوز سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کی بجائے وہ خبری کہانیاں نشر یا شائع کرتے ہیں۔ وہ عام حادثات اور جرائم کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں میڈیا پنڈت عام واقعے کو ہی مرچ مصالحہ لگا کر چٹ پٹا بنادیتے ہیں۔ا س کے نتیجے میں عوام ذہنی خلجان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اب واپس بنیادی سوالات پر کہ ہمارے معاشرے میں اس کے سوا اور کیا ہے؟ کیا ہم غیر ملکیوں کے سامنے اپنے ملک کی کوئی اچھی تصویر رکھ سکتے ہیں؟ اس پر میرا جواب اثبات میں ہے کیونکہ مجھے کوئی شک نہیں کہ اگر اہم ان مسائل کے ہوتے ہوئے بھی زندہ ہیں تو پھر ہمارے اندر کچھ تو پوٹینشل موجود ہے۔ آئیے میں آپ کو اس پوٹینشل کی ایک جھلک دکھاؤں۔

چلچلاتی ہوئی دھوپ میں گندم کی فصل کاٹتا ہوا کسان، ورکشاپ میں انتہائی جدید کاروں کے انجن کو آسانی سے ٹھیک کرلینے والے بائیس سالہ مکینک، گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ٹیپ بال سے زبردست سیدھے شاٹ کھیلتا ہوا پندرہ سالہ بلے باز، روزانہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک پرائیویٹ اکیڈمیوں میں پڑھانے والے نوجوان اساتذہ، مختلف بیماریوں کا شکار لیکن ہمہ وقت کام میں مصروف خاتونِ خانہ اور ننگے پاؤں تپی سڑک پر اپنی گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ چلنے والا لڑکا اوردس گھنٹے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ٹرک چلانے والے ڈرائیور ہمارا ٹیلنٹ ہی تو ہیں لیکن انہیں معمول سمجھ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہمارا نظام درست ہوتا تو ان میں سے ہی بہت سے عالمی سطح پر خود کو منوانے والے انسان بن سکتے تھے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے، اس لیے یہ لوگ گمنامی کی زندگی بسر کرکے اس جہاں سے رخصت ہولیں گے۔

کیا یہ لوگ نظام کی خرابی کے ذمہ دار ہیں؟اگر دیکھا جائے تو سیاست دانوں کو ووٹ تو اُنھوں نے ہی دیے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے عام لوگ اپنی اجتماعی قوت کو بروئے کار لانے کا ہنر نہیں جانتے۔ جس دن ان کو اندازہ ہو گیا کہ وہ سماجی دباؤ پیدا کرکے اپنی بات منوا سکتے ہیں تو اس دن پاکستان میں تبدیلی کے آثار پیدا ہونا شروع جائیں گے۔ سماجی دباؤ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کوئی سماج رکھتے ہوں۔ آبادی سے بھرے ہوئے شہروں کا مطلب سماج نہیں ۔یہ ایک سوچ ، رویے اور ردِ عمل کا نام ہے۔ کیا ہم پاکستان میں درپیش مسائل پر ردِ عمل دیتے ہیں؟ درحقیقت ہمیں جمہوریت کے متوازی سماجی دباؤ پیدا کرنے کا طریقہ سیکھنا ہو گا۔ ہم عوام کی اجتماعی سوچ کو حکمرانوں تک منتقل کرنا سیکھیں۔ اس سے مراد دھرنے اور احتجاج، جس کے ہم ماہر ہوچکے ہیں، کی ضرورت نہیں ۔ اگر آپ کے نمائندے کو کسی طور احساس ہوجائے کہ آپ کے علاقے میں ایک سکول یا ہسپتال یا کھیل کے میدان کی ضرورت ہے تو وہ ہوسکتا ہے کہ اس کا اہتمام نہ کرسکے لیکن وہ اس مسلے کو اپنے باس تک ضرور پہنچائے گا۔

ایسا سماجی دباؤ پیدا کرنے کے لیے ایک کالونی یا ایک محلے میں مختلف ذوق اور صلاحیتیں رکھنے والے افرد کی فہرست مرتب کی جائے۔ مثال کے طور پر کرکٹ کھیلنے ، کتابیں پڑھنے والے، گلوکاری کا شوق رکھنے والے، کاریا بائیک ریس میں حصہ لینے کے شوقین وغیرہ۔ اس کے بعد ان افراد کی ہر ہفتے ایک میٹنگ ہو اور اس میں کوشش کی جائے کہ آپ کے کسی مقامی نمائندے کی شرکت ہو۔ اس مخاطب ہوئے بغیر اپنے معاملات اور امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے لیے مستقل مزاجی اور خلوص کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کی گفتگو سیاسی مکالمے میں ڈھلنا شروع ہو جائے گی۔

اس وقت پاکستان میں دو امور کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ نمبر ایک، ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے، نمبر دو ہر پیش رفت کو مذہب کے پسِ منظر میں دیکھنے سے اجتناب کرنا۔اس پر ایک مرتبہ پھر میڈیا کوموردِ الزام ٹھہرایا جانا چاہیے کہ اس نے ملاؤں اور سیاست دانوں کو تقویت دیتے ہوئے عوام کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ آج ہم عوامی مسائل کی بجائے سیاسی مسائل میں الجھ گئے ہیں۔ سیاسی مسائل کو حل ہونے سے بچانے کے لیے کچھ نادیدہ ہاتھ اُنہیں مذہبی رنگ دے دیتے ہیں۔ اس پر نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی ہے ۔ غٖیر ملکی افراد پاکستان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے… کم از کم نوے فیصد عوام کے بارے میں لاعلم ہیں۔وہ صرف ہمارے بارے میں منفی تاثر رکھتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں سیاسی موسم پھر گرم ہو رہا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سماجی مضبوطی کی طرف بڑھیں تاکہ سیاست دان اُنہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ملک کی مضبوطی کے لیے جمہوریت اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سماج کی ضرورت ہے۔ اس میں میڈیا کی بریکنگ نیوز کا کوئی کردار نہیں بنتا۔ چھوٹی چھوٹی کالونیوں میں رہنے والے افراد اپنے درمیان مکالمے کی عادت ڈالیں۔ بہت عرصہ پہلے یہ کام مسجد کے پلیٹ فارم سے کیا جا سکتا تھا لیکن لاؤڈسپیکر کی ایجاد اور مولوی کی بے پناہ طاقت نے تمام معاملہ خراب کردیا۔ اب یہ کام شہریوں کو اپنے طور پر کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کو توانا کر سکیں۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں