.

بھارت بول پڑا ہے!

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے عوام نے اپنے حق رائے دہی کا اظہار کر دیا ہے اور بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندرامودی کو بھاری اکثریت سے سرفراز کیا ہے جب کہ کانگریس ،شکست فاش سے دوچار ہو چکی ہے۔

بھارت کے ایک سیاسی تجزیہ کارسے جب یہ پوچھا گیا کہ بھارت میں انتخابات کے اس نتیجے کے حوالے سے پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا تو جواب میں اس سیاسی تجزیہ کارنے کہا کہ جب اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی کی سربراہی میں این ڈی اے کی حکومت قائم تھی، پاکستان کے متعلق سمجھا جا رہا تھا کہ نیودہلی میں بی جے پی اور اسلام آباد میں فوج، اس خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے ضمن میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھیں۔ اور اس وقت بھی پاکستان میں یہی صورت حال ہے اور صرف ایک امر غیریقینی ہے کہ مودی، پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کریں گے اور کیا یہ تعلقات دوستانہ ہوں گے یا دشمنی پر مشتمل ہوں گے۔

اپنی انتخابی مہم کے اواخر میں مودی نے پاکستان کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا۔ دوسروں کو بتا دیا گیا کہ جو لوگ مودی کو ووٹ نہیں دیں گے، انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے، یہ ان کی طرف سے پاکستان دشمنی کا واضح اشارہ تھا۔ تاہم، یہ ایک گرماگرم انتخابی مہم تھی اور ممکن تھا کہ مودی کا یہ مؤقف ان کا سرکاری مؤقف نہ ہو جب وہ اقتدار میں آ جاتے۔

یہ ابتدائی دنوں کا احوال تھا اور مودی بھی ڈرامائی شخصیت کے مالک ہیں جو یہ فیصلہ کر سکتے ہیں جب ان کے اقتدار اور اختیار میں ہو تو وہ اپنے مقصد کی خاطرا یک کلومیٹر فالتو چل سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسا مرحلہ بھی آ سکتا ہے جب مودی ، واجپائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور دورے کا اشارہ دیں جبکہ کانگریس کے وزیراعظم من موہن سنگھ ، عرصہ دراز ہی سے پاکستان کا دورہ کرنے سے قاصر رہے تھے۔ مزیدبرآں وہ اپنے حلقے کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ بھارت کی حکومت ان کی گرفت میں ہے اور وہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ نئی دہلی کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی مشکل ہو گی اور بی جے پی کی طرف سے بھارت کو ہمیشہ یہ نصیحت کی جاتی رہے گی کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اپنانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

واجپائی کی نسبت نریندرامودی، ایک لحاظ سے سخت مؤقف کے حامل ہیں۔ درحقیقت ، ان کی اصل حمایت بی جے پی کی طرف سے نہیں بلکہ آر ایس ایس کی طرف سے ہے جس نے مودی کے لیے انتخاب کا اہتمام کیا۔ اگر وہ داخلی طور پر مشکل فیصلے کرنے چاہیں گے تو انہیں اپنے اس ’حلقے‘ کو خوش رکھنا ہو گا۔

اس وقت بھارت نے ایک نیا باب نہیں بلکہ ایک نئی کتاب رقم کی ہے۔ نہرو خاندان کا دور اب ختم ہو چکا اور ملک اب مکمل طور پر مختلف عہد میں داخل ہو چکا ہے جہاں قوم پرست دایاں بازو، ایک حیران کن فتح کے ذریعے ایوان اقتدار میں داخل ہو چکا ہے۔ مخالف جماعتیں مکمل طور پر بکھرچکی ہیں لیکن تامل ناڈو، اڑیسا اور مغربی بنگال میں مخالف جماعتیں زیادہ ناکام نہیں ہوئیں۔ تاہم یہ دیوار پر لکھا جا چکا ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ اڑیسا اور تامل ناڈو کی حکومتوں کو تعاون کرنا ہو گا۔ ممکن ہے کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ، مماتابنرجی، جنہوں نے انتخابات میں بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مودی کے ساتھ براہ راست تعاون نہ کریں۔

اس وقت بھارت میں میڈیا مکمل طور پر مودی کے حق میں ہے کیونکہ تجارتی افراد نے مودی کے حق میں بلینک چیک لکھ دیا تھا۔ اس وقت حزب مخالف مایوس دکھائی دے رہی ہے کیونکہ کانگریس کی نشستوں کی تعداد ماضی سے بہت کم ہے۔ اس وقت کانگریس کے حامی یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پریانیکاگاندھی کو جماعت کی قیادت دی جائے۔ اس وقت اترپردیش اور بہار کی علاقائی جماعتیں، واحد عدد تک محدود ہو چکی ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بی جے پی کو درپیش مزاحمت کا اب کہیں نشان نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.