پاک بھارت تعلقات ۔ نیا رُخ؟

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نریندر مودی سادہ اکثریت سے کامیاب ہو کر بھارت کے وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا میں 543 میں سے 283 نشستیں جیت لی ہیں۔ 29 ریاستوں میں سے 8 ریاستوں میں کلین سوئپ کیا اور اب21 مئی 2014ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ کانگریس کو صرف 43 نشستیں مل سکیں۔ اگر اِن نتائج پر کسی کو حیرت ہوئی ہو تو اس پر ہمیں تعجب ہوگا کہ یہ سب کچھ دیوار پر لکھا تھا۔

ایک غیرملکی خوفزدہ خاتون کانگریس کی سربراہ تھی، وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے حوالے سے کوئی خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں تھی اور یہ بات عام آدمی سمجھ جاتا ہے کہ اِن تلوں میں تیل نہیں۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کو تھپڑ لگے تو غلام ذہنیت کے حامل لوگ یا ویسے بھی عوام یہ پسند نہیں کرتے کہ اُن کا حکمراں اتنا عام ہو کہ جب چاہئے اُسے تھپڑ مارا جا سکے، سو عام آدمی پارٹی بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

نریندر مودی کو پاکستان اور مسلمانوں کے بارے میں سخت موقف رکھنے کی بنا پر عام ہندو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہے، سچ مانئے تو مودی نے ہندو ووٹوں کو ایک حکمت عملی کے ذریعے یکسو کیا جو بی جے پی کا کوئی اور لیڈر نہیں کر سکا۔ نریندر مودی کی ذہنی حالت کے بارے میں کسی کو شبہ نہیں تھا، دوسرے بھارت کے تمام بڑے بڑے سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل کمپنیاں نریندر مودی کا دم بھر رہی تھیں اور اس پر دائو لگا رہی تھیں جبکہ امریکہ کی آشیرباد بھی بلواسطہ اُن کے ساتھ تھی، اگرچہ 2002ء کے گجرات فسادات کی وجہ سے اس نے اُن کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا مگر ارضی سیاست کے حوالے سے انہوں نے جان لیا تھا کہ نریندر مودی اُن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اچھا مہرہ ثابت ہو گا چنانچہ انہوں نے اپنا وزن مودی کے پلڑے میں ڈالا اور تذویری رہنمائی فراہم کی۔

اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے جس طرح سے ہندوئوں کو مجتمع کیا جس میں اُن کا ماضی میں مسلمانوں کا گجرات میں بہیمانہ قتل عام اور اُن کی پاکستان کے بارے میں اشتعال انگیز تقریریں اور من موہن سنگھ کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ پاکستان سے نرم رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ بھارت کے متشدد ہندو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے، سو پہلے مرحلے میں انہوں نے ہندوئوں کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے پاکستان مخالفانہ بیان دیئے اور بھارت کے مسلمانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُن کا ماضی ان کے بیان اور عزائم کی گواہی دے رہا تھا، یوں متشدد ہندو ووٹر یکسو ہو رہا تھا۔ دوسرے مرحلے میں انہوں نے ہندوستان کی معیشت کے بارے میں خیالات کا اظہار شروع کیا اور بیروزگاری کو کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور یہاں بھی گجرات ریاست میں اُن کی کارکردگی اُن کے وعدوں کی پشت پر کھڑی تھی، جو لوگوں کو یقین دلا رہی تھی کہ یہ شخص واقعی اُن کے لئے کچھ کرسکتا ہے، تیسرے مرحلے میں انہوں نے برادریوں اور مقتدر لوگوں سے تعلق جوڑا کہ وہی ہے جو ان کی اعلیٰ حیثیت کو برقرار رکھ سکتا ہے، چوتھے مرحلے میں انہوں نے مسلمانوں کو بھی پیغام دیا۔ اس طرح انہوں نے Time Management کی تکنیک کو اپنایااور لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے رہے، مزدوروں کو اپنی طرف کھینچنے میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹیوں کو ضرب لگائی اور مسلمانوں کو بھی انہوں نے بانٹ دیا کہ وہ کسی ایک طرف ووٹ نہیں ڈال سکے، نتیجے کے طور پر کئی مسلمان رہنمائوں نے نریندر مودی کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں تھا، یہ طریقہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ استعمال کیا، وہ سندھ میں کچھ کہتے تھے تو پنجاب میں کچھ، مگر بھارت بہت بڑا ملک ہے اس لئے مودی کی ٹیم نے جو نعرے وضع کئے یا جو پیغام دیئے وہ پہلے ہندوئوں کو مجتمع کرنے، پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے، بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے اعلان کے بعد غریب عوام کو اپنی طرف آس لگانے پر راضی کیا۔ آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ اتنے بھی بُرے نہیں پھر انہوں نے جس قدر برق رفتاری سے خطابات کئے اور سفر کیا وہ اور کوئی ہندوستان کا لیڈر نہیں کر سکا۔ اُن کی کامیابی کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انٹرنیٹ، ایس ایم ایس، اسکائپ اور ریڈیو لنک سے ایک وقت میں کئی کئی جگہ خطاب کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا اور اُن کو مسحور کیا۔ یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں تھا، عمران خان صاحب اور الطاف حسین نے بھی یہی طریقہ استعمال کیا، مگر نریندر مودی نے بڑے پیمانے پر ایک بڑی آبادی سے رابطے کئے۔ ظاہر ہے کہ اُن کے پاس سرمایہ اور تذویری رہنمائی موجود تھی اور معاملات کا وقت کے مطابق بندوبست کر رہے تھے، اِس کے مقابلے میں کانگریس کے پاس کوئی بڑا لیڈر نہیں تھا اور کمیونسٹ پارٹیوں کے پاس کوئی نیا پروگرام نہیں تھا اِس لئے سب کے سب اس میں کام آئے۔

ان کے کامیاب ہونے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے جس میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اب کیسے رہیں گے۔ اگرچہ بی جے پی کی حکومت کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ماضی میں بہتر ہوئے مگر وہ اٹل بہاری واجپائی تھے، ایک شاعر، نرم مزاج اور یہ نریندر مودی ہیں جو گرم مزاج اور اپنے دامن پرمسلمانوں کے خون کے نمایاں دھبے لے کر آئے ہیں اور پھر جن قوتوں نے اُن کے آنے میں مدد کی ہے اُن کے عزائم پاکستان کے بارے میں اچھے نہیں ہیں، اس لئے تو ایک بات واضح طور پر کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تنائو آئے گا، بھارت کی پاکستان میں مداخلت بڑھے گی، مشرقی سرحد سے بھی اور مغربی سرحد سے بھی کیونکہ افغانستان میں وہ افغان فوج کو روسی ہتھیاروں سے مسلح کررہا ہے، اگرچہ نریندر مودی نے انتخابات کے آخری مرحلے میں جب اُن کو اپنی کامیابی یقینی نظر آرہی تھی کہ پاکستان ایک پڑوسی ملک ہے اور پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے، اسلئے اُن سے معاملات نرم گوئی سے کئے جائینگے۔ یہ ایک سیاسی بیان تو کہا جاسکتا ہے مگر حقیقت سے بہت دور، خود اُن کی طبیعت اور اُن کے ووٹر کی خواہش کہ پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جائے اور تیسرے عالمی بساط میں پاک چین تعلقات چین کا بڑھتا ہوا قدم، اسی وجہ سے عالمی طاقتیں پاکستان پر دبائو بڑھائےرکھنا ضروری سمجھتی ہیں۔ مودی کے اقتدار میں آجانے سے ایک دفعہ نظریۂ پاکستان کو جلا ملے گی اور پاکستان کی ضرورت کا احساس نئی نسلوں پر اچھی طرح سے عیاں ہو جائے گا اور اُن لوگوں پر بھی واضح ہو جائے گا جو بے وقت کی راگنی الاپتے رہتے ہیں۔مودی کا انتخاب 1944ء کے غیر منقسم پنجاب کے انتخاب سے مماثلت رکھتا ہے۔ جس نے مسلم قومیت کو تقویت پہنچائی تھی، اس کے علاوہ نریندر مودی کو اپنے کئے ہوئے وعدوں کا کچھ نہ کچھ پاس تو رکھنا ہوگا جس میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا وعدہ جو اگرچہ بھارت کے دستور کی شق 370 سے متصادم ہے، اگر وہ اس سے صرفِ نظر کرتے ہیں تو اپنے ووٹروں کو کیا جواب دیں گے، کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا وعدہ، پاکستان سے دائود ابراہیم کی حوالگی کا مطالبہ اور اگر دہشت گردی کا واقعہ ہوا جو بھارت خود کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیونکہ اس کے پاس اُن 90 پشتون، پنجابی یا مختلف علاقوں کے پاکستانی ہیں جو ایک جہاز میں بھر کر افغانی شمالی اتحاد نے بھارت کو دیئے تھے اور وہ لکھنو کی کسی جیل یا سیف ہائوس میں قید ہیں، اُن کو استعمال کر کے پاکستان پر گرم تعاقب کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس پر ہم یہی کہیں گے کہ ایں خیال است مجال است و جنوں است کیونکہ پاکستان ان سب معاملات سے نمٹنے کے لئے حالتِ تیاری میں ہے۔ بھارت ایٹمی قوت 1974ء میں بنا تو پاکستان نے یہ صلاحیت 1983ء میں حاصل کرلی۔ انہوں نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن بنایا، پاکستان پر اچانک آٹھ جگہوں سے حملہ کرکے اُس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے تو پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور ایٹمی ہتھیار سے مزین کم فاصلے کے میزائل بنا کر اِس ڈاکٹرائن کو ناکارہ بنادیا۔ بھارت بڑا ملک ہو یا مالدار ملک یا اُس کے ساتھ امریکہ کھڑا ہو یا پورا مغرب، اُس کو پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کافی مہنگی پڑے گی، اس لئے مودی صاحب کو ذرا دیکھ بھال کر کام کرنا ہوگا،اگر پڑوسی ہیں تو اچھے پڑوسی بن کر رہیں، خطے پر امن رہے گا، اگر کسی کا آلہ کار بننا ہے اور ہندو توا کو برتنا ہے تو بھارت سے ایک نیا مسلم ملک جنم لے گا۔ جس ملک میں 29 صوبوں سے 22 صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہوں، اُس کو اس آگ سے جسے وہ لگانا چاہتا ہے خود اپنا دامن بچانا مشکل ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں