.

وزیراعظم کا دورہ ایران۔ خطے کیلئے مثبت قدم

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف کے حالیہ دورہ ایران کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت کیا گیا جب خطے بالخصوص پڑوسی ممالک افغانستان اور بھارت میں انتخابات کے بعد نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم کے دورے کو اس لئے بھی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہےکہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے جس کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کو ملنے والے ایسے اشارے تھے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت کا جھکائو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جن کے ایران سے اچھے تعلقات نہیں، کی جانب ہے۔

ان غلط فہمیوں کو اُس وقت مزید تقویت ملی جب ایک عرب ملک کے فرمانرواں کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کی شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی میں اچانک تبدیلی آئی جس نے اس طرح کی افواہوں کو جنم دیا کہ پاکستان شام کی جنگ میں خلیجی ملکوں کی پراکسی وار کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ ابھی یہ غلط فہمیاں دور بھی نہ ہوئی تھیں کہ پاکستان نے ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان کا یہ فیصلہ بیرونی دبائو کا نتیجہ ہے۔ اس دوران صورت حال اس وقت مزید گمبھیر ہو گئی جب ایران نے اپنے 5 سرحدی گارڈز کے اغواء کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لئے پاکستانی سرحد کے اندر فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔

ایران کا یہ موقف تھا کہ ایرانی سرحدی گارڈز کو اغواء کر کے پاکستان لے جایا گیا ہے جبکہ پاکستان ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا۔ ان حالات میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اگر پاکستان کی ایران کے ساتھ کشیدگی اور سرد مہری کی فضا زیادہ عرصے جاری رہی تو افغانستان اور بھارت کی نئی حکومتیں جن کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان مخالف ہوں گی، موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوششیں کریں گی، اس لئے پاکستان کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ ایران کے ساتھ غیر یقینی صورت حال کو بہتر بنائے اور اپنی سرحد کو پرامن و محفوظ رکھنے اور کسی نئے علاقائی تنازع سے بچنے کے لئے فوری طور پر متحرک ہو۔

پاکستان اور ایران میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد کسی اعلیٰ قیادت کا یہ پہلا دورہ تھا اور نواز شریف جو اس سے قبل 2 بار وزیراعظم رہ چکے ہیں، نے پہلی بار ایران کا دورہ کیا تھا۔ دورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ دورے میں قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیردفاع خواجہ آصف، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، وزارت خارجہ کے طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ نواز شریف نے اپنے دورے کے دوران ایرانی صدر کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔

دوران ملاقات آیت اللہ خامنہ ای نے واضح الفاظ میں نواز شریف اور وفد کے ارکان کو یہ باور کرایا کہ امریکہ پاک ایران سرحد پر فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دے کر دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ کررہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان امریکی اثر و رسوخ سے دور رہے اور ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرے کیونکہ ہمیں اپنے باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں کسی تیسرے ملک کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اُنہیں پاکستانی عوام اتنے ہی عزیز ہیں جتنے ایرانی عوام اور اُن کی یہ خصوصی دعا ہے کہ پاکستان اور ایران تعلقات کو فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے انتہا پسند گروپوں کو تمام مسلمانوں کیلئے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اگر انتہا پسندوں کا مقابلہ نہ کیا گیا تو وہ عالم اسلام کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم میاں نواز شریف نے خامنہ ای کو یقین دلایا کہ پاکستان کا کسی ملک کے ساتھ گہری دوستی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف ہے۔

وزیراعظم کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر پاک ایران باہمی تجارت 5 بلین ڈالر تک لے جانے اور سرحدوں پر سیکورٹی انتظامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال، افغان صدارتی انتخابات، امریکی و اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد کے معاملات،مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران سعودی عرب تعلقات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران کے ساتھ 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے۔ دورے کا سب سے اہم پہلو وزیراعظم نواز شریف کا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے کا اعلان تھا۔ واضح ہو کہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت جو ایران سے زیادہ قریب تصور کی جاتی تھی، نے اپنے دور کے آخری ایام میں عالمی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ کیا تھا جبکہ ایران نے پاکستان کو گیس پائپ لائن منصوبے میں سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی تھی۔ معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ اگر پاکستان 31 دسمبر 2014ء تک اپنے حصے کا کام نہیں کرتا اور یکم جنوری 2015ء تک معاہدے کے تحت گیس نہیں لیتا تو اُسے گیس کے حجم کے عوض رقم کی ادائیگی کے علاوہ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا جو تقریباً 200 ملین ڈالر ماہانہ بنتا تھا مگر نواز شریف کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے خیر سگالی جذبے کے تحت جرمانہ معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نواز شریف کے دورہ ایران کی خوش آئند بات یہ ہے کہ اب گیس پائپ لائن منصوبے پر دوبارہ پیشرفت شروع ہو جائے گی جس سے نہ صرف ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاک ایران تجارتی تعلقات بڑھنے اور گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں معاشی و صنعتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔ واضح ہو کہ ایران گیس منصوبے پر اپنے حصے کی پائپ لائن بچھانے کا کام پہلے ہی مکمل کر چکا ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد نواز حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر خوشحال ملک بنایا جائے، اس مقصد کے لئے ان کا دورہ ایران اور یہ بیان خوش آئند ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے وسیع امکانات ہیں اور پاکستان اس حجم کو بڑھاکر 5 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔ نواز شریف کے حالیہ دورہ ایران کا ایک اور مقصد سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرکے دونوں ممالک کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے دوران اس معاملے پر بھی پس پردہ گفتگو ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کئی عشروں سے تنائو کا شکار ہیں جبکہ شام میں خانہ جنگی اور ایرانی جوہری پروگرام کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو اچانک سعودی عرب کے دورے کی دعوت دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جارہا ہے اور ایسے اشارے ملے ہیں کہ پاکستان کی کاوشوں سے سعودی عرب اور ایران خطے میں استحکام کے لئے مذاکرات پر رضامند ہو گئے ہیں جو ایک خوش آئند امر ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لئے مثبت قدم ہوگا بلکہ امت مسلمہ جو اس وقت دو حصوں میں منقسم اور ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہے، کے اتحاد میں مدد ملے گی جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.