.

دبئی چلو!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کا نام لبوں پر یا قلم پر آتے ہی عارف وقار کا یادگار ڈرامہ ’’دبئی چلو‘‘ یادآ جاتا ہے۔ کیا اعلیٰ ڈرامہ تھا۔ یوں تو اس کے سبھی کردار ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر جو منظر میرے ذہن کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے اور جس کے یاد آتے ہی اداس سے اداس لمحوں میں میرے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، وہ دبئی جانے کےلئے علی اعجاز کا تصویر اتروانے کا منظرہے۔ شروع شروع میں کوئی دیہاتی تو کیاشہری بھی ’’برقعے والے‘‘ کیمرے سے تصویر کھنچواتے ہوئے اسی طرح کی شکلیں بنایا کرتے تھے۔ بہرحال اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ پاکستان بھی بدل گیا ہے، دبئی بھی بدل گیا ہے اور یار لوگ بھی بدل گئے ہیں!!

دبئی کے ساتھ میرا تعلق بھی بہت پرانا ہے۔ اس کا آغاز 1980کی دہائی کے آغازمیں ہوا تھا جب میں اور پیرزادہ قاسم نے پہلی بار بیرون ملک کسی انٹرنیشنل مشاعرے میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد تو چل سو چل! اسی طرح دوحہ قطر سے میرا تعلق بھی ہمدم دیرینہ قاضی محمد اصغر کی وساطت سے اتنا ہی دیرینہ ہے جتنا دبئی سے ہے بلکہ شاید دبئی سے زیادہ ہے۔ ان دونوں ملکوں کا یہ ’’اخلاقی فرض‘‘ بنتا ہے کہ وہ مجھے اپنی اعزازی شہریت دیں۔ دبئی کے ساتھ میرے تعلق کو مضبوط بنانے میں بردار عزیز نور الحسن تنویر کا بھی بہت اہم کردار ہے جو اس علاقے کی ادبی، سیاسی، معاشرتی اور دینی تقریات کے انعقاد میںگہری دلچسپی لیتے ہیں۔ اب تو معاملہ کچھ یوںہے کہ جب دبئی سے کسی تنظیم کی طرف سے کوئی دعوت نامہ موصول ہوتاہے تو مجھے اپنے مقامی پروگراموں میںزیادہ رد و بدل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آج گئے، کل واپس آگئے بلکہ اسی رات کو بھی واپس آنا ممکن ہوتا ہے۔ اب کچھ عرصے سے میں اور برادرم عرفان صدیقی دبئی کے حوالے سے ’’پیٹی بھائی‘‘ بھی ہیں وہ بھی بہت زیادہ دبئی جانے لگے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہ دبئی میں بیگم، اپنے بیٹے اور بیٹا اپنے والد کو مس کر رہا ہوتا ہے چنانچہ انہیں جب ’’بلاوا‘‘ آتا ہے وہ دبئی کے لئے کمربستہ ہوجاتے ہیں۔ میں گزشتہ روزوزیراعظم ہائوس، وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے لئے گیا تو سوچا کہ برادرم سے ملے بغیر کیسے جاسکتاہوں مگر پتہ چلا کہ برادرم تو دبئی گئے ہوئے ہیں۔

یہ دراصل سب کے سب تمہیدی کلمات ہیں اس تقریب کے لئے جو پرنس اقبال ا ور ڈاکٹر ثمینہ نے بزم اقبال کے زیراہتمام دبئی میں منعقد کی اور یوں ایک دفعہ پھرمیں اور عذیر احمد تھے اور بیچارہ دبئی تھا۔ اگرکوئی قاری سمجھتاہے کہ میں نےاقبال کو ’’پرنس‘‘ شرارتاً لکھا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ پرنس ان کا ’’نک نیم‘‘ہے لیکن ایسا ’’نک نیم‘‘ جو ان کے نام کا حصہ بن چکا ہے۔ اب آپ سے کیا پردہ میرا نک نیم بھی یہی ہے مگر اودومیں ہے یعنی ’’شہزادہ‘‘ ہےمیری بہنیں مجھے ’’شہزادہ‘‘اور ماشا اللہ ڈھیر سارے بھانجے بھانجیاں ’’شہزادہ ماموں‘‘ہی کہتےہیں۔ یہ تو میری اپنی مہربانی ہے جو میں نے اسےاپنے نام کا حصہ نہیں بنایا ورنہ آج میں بھی پرنس اقبال کی طرح ’’شہزادہ عطاالحق قاسمی‘‘کہلا رہا ہوتا! ویسے جس تقریب کااحوال میں بیان کر رہا ہوں، وہ تو بہت مختلف تھی ،میں تو اسے مشاعرہ ہی سمجھا تھا مگر وہاں جا کر پتہ چلا کہ یہ بنیادی طور پر اردوکے معروف عرب شاعر زبیرفاروق کے ساتھ ایک شام ہے۔ مقالوں کے بعد گلوکارزبیر فاروق کی غزلیں بھی ساز و آوازکے ساتھ سنائی گئیں اور اس کے بعد مشاعرہ وشاعرہ بھی ہو گیا۔ سو ایسے ہی ہوا حضرت زبیر فاروق عرب لباس میں ملبوس سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ ان کے ساتھ پاکستان قونصلیٹ کے تمام اہم ارکان بھی فروکش تھے۔ سفیر پاکستان نے بھی تقریب میں شرکت کرنا تھی مگر انہیں عین موقع پر فارن آفس اسلام آباد بلا لیا گیا۔ ان کے علاوہ ہم دو چار لوگ تھے جنہوں نےزبیر فاروق کی شخصیت اور فن کے حوالے سے اظہار خیال کرنا تھا۔ زبیرفاروق کے بارے میں آپ کو یہ بتاتا جائوں کہ موصوف عرب تو ہیں مگر سرتاپا اردو شاعری میں ’’ملوث‘‘ہوچکے ہیں۔ اب تک ان کے چالیس اردو شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ چار پانچ بیگمات میں سے بیس بائیس بچے بھی ’’تخلیق‘‘ کرچکے ہیںاور ہاں قبلہ زبیر فاروق کچھ عرصے سے سنگرا ورکمپوزر بھی ہیں۔ ان کی کوئی ایک صفت ہو تو بندہ بیان بھی کرے آپ تو کثیر الصفات ہیں۔ ایک بات اورزبیر پیشے کے لحاظ سےباقاعد ہ یعنی سچ مچ کے ڈاکٹر ہیں۔ یوںتو زبیر کے شعری مجموعوں میں ایسے بہت سے اشعار ہیں جومیں آپ کو سنا سکتا ہوں لیکن میں آپ کو اس دیگ کا صرف ایک دانہ چکھائوں گا اور آپ کو اس سے اندازہ ہوگا کہ یہ عرب ہمار ےکلچر میں کتنا ڈوبا ہوا ہے، شعر سنیں:

ہم تو یوں بھی تیرے ہیں
ہم پہ جادو ٹونا کیا!

بزم اقبال کی ان دونوں تقریبات کی نظامت ظہیر بدر نے کی اور سچی بات تو یہ ہے کہ نظامت کا حق ادا کر دیا۔

باقی رہ گیا مشاعرہ تواتنی طویل تقریب کے بعد وہ ’’مشاعری‘‘ رہ گئی تھی۔ دبئی او رابوظہبی کے چوٹی کے شعرا یہاں موجود تھے۔ مگر سب نے دو دوشعر سنا کر سٹیج سے اجازت طلب کرلی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنے شریف شعرا نہیں دیکھے! اپنے یار ِ کبیر یعنی کبیر خان کا ذکر تو میں بھول ہی چلاتھا۔ وہ زبیر فاروق پر ایک دلچسپ خاکہ لکھ کر لائے تھے اور بطور خاص ابوظہبی سے دبئی پہنچے تھے۔ بس آپ یہ سمجھیں کہ گوجرانوالہ سے لاہور تک کاسفر طے کرکے آئے تھے! یہ سب کچھ تو خیراپنی جگہ مگر ’’حاصل دبئی‘‘ بحری جہاز میں پرنس اقبال کے ساتھ ہونے والی تقریب تھی۔ جہاز سمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا آگے بڑھتا جاتا تھا اور مقررین پرنس کی ان خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے چلے جاتے تھے جو انہوں نے دبئی میں ادب کے فروغ کے لئے کیں۔ اس کے ساتھ ایک پرتکلف عشایئے کا بھی اہتمام تھا۔ بحری جہاز میں تقریریں اور کھانے ایک دوسرے کے لئے ہاضم ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں اور عذیر احمد جب آدھی رات اِدھر اور آدھی رات اُدھر ہوئی تو خراماں خراماں اپنے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے!

باقی رہیں دبئی میں دوسرے دوستوں سے ملاقاتیں تو ان سب کو اکٹھا کرنا برادر ِ مکرم نور الحسن تنویر نے ایک طویل عرصے سے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ سو اس دفعہ بھی یہ ملاقاتیں تجدید ِ تعلق کا باعث بنیں۔ بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑ ی میں پرونے کا ہنر اگر کسی شخص کو آتا ہے تو اس شخص کا نام نور الحسن تنویر ہے!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.