.

روس، بشار الاسد کو نہیں بچا سکتا

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں بعض مبصرین نے کریمیا اور یوکرین کے کچھ حصوں پر روسی قبضے کو اس تاثر کے ساتھ دیکھا ہے کہ اس نئی مہم جوئی کے باعث شام کی بشار رجیم کیلیے روس کی حمایت میں کمی ہو گئی ہے۔ تاہم شامی رجیم کے حامی ذرائع ابلاغ اس پراپیگنڈہ کی تگ و دو میں ہیں کہ از سر نو یہ یقین دلا سکیں کہ روس آج بھی اسی طرح شام کی پشت پر موجود ہے جیسے پہلے تھا۔

اس تگ ودو میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ روس اور چین کے بشار رجیم کے حق میں بیانات آج بھی موجود ہیں۔ حتی کہ روس نے شام سے وعدہ کیا ہے کہ شام میں جاری جنگی جرائم کی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں تحقیقات کیلیے سلامتی کونسل کی قرار داد کو ویٹو کر دیا جائے گا۔ بلاشبہ یہ بھی درست ہے کہ روس نے بشارالاسد کو ایک مرتبہ پھر شامی صدارت پر مسلط کرنے کیلیے ڈھونگ صدارتی انتخابات کیلیے بھی مدد دی ہے اور روس نے پورے اعتماد کیساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ بشار الاسد اگلے تین برسوں میں ملک کے طول و عرض پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔

روس سلامتی کونسل میں شام کے حق میں ویٹو کا ایک مرتبہ پھر استعمال تو کر سکتا ہے۔ لیکن اس کی یہ کوشش بشارالاسد کو اقتدار میں رکھنے کیلیے کافی نہیں ہو سکتی ہے۔ البتہ روس کا ویٹو کے ذریعے جنگی جرائم کے معاملے کو بین لاقوامی عدالت میں لے جانے میں حائل ہونا خود روس کا ایک نیا جرم بن جائے گا۔ روس اب تک شامی رجیم کو مدد دینے کیلیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لا چکا ہے۔ ان امدادی کوششوں میں شام کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے اور انٹیلی جنس کے شعبے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں بالواسطہ طور پر نظم و انصرام میں بھی روس شریک رہا ہے۔

لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ شام کے بیشتر علاقوں کو کنٹرول شامی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ بشار رجیم حمص کے گرد ونواح میں بھی جنگ اپنے تابع نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ بشار رجیم نے اس علاقے کو طویل عرصے تک فوجی محاصرے میں رکھا اور حمص کے لوگوں پر تباہی و بربادی مسلط کرنے کے علاوہ بھوک اور افلاس کو عوام کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔ یہی نہیں شامی افواج کو دارالحکومت دمشق پر بھی از سر نو اپنے حملے منظم کرنا پڑے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نا اہل رجیم ہے۔ روس بھی یہ سمجھ چکا ہے کہ اسد رجیم اس کے باوجود جنگ میں ناکام ہے کہ روس اور ایران نے اس کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ تین برسوں سے زائد پر پھیلی جنگ غیر ملکی طاقت اور ملیشیاوں کی مدد سے لڑی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی اسد رجیم ناکام رہی ہے۔ اس لیے اسد شام کی باغی اکثریت کے ہاتھوں اقتدار سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ اس رجیم کیلیے اس صورت میں بھی اقتدار سے محرومی ممکن ہے کہ امریکا، شامی عوام کی حمایت سے انکار جاری رکھے اور انتہا پسند باغیوں کے گروپ اپنے اثرات پھیلا لیں۔ امکان ہے کہ انتہا پسند گروپ بھلے دیر سے پہنچیں دارالحکومت دمشق تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس لیے نوشتہ دیوار یہی ہے کہ روس اور ایران اسد رجیم کی مدد جاری رکھِں یا روک دیں، یہ رجیم اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران نے حال ہی میں اس امر پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ شامی مسئلے کے سیاسی حل کیلیے تیار ہے۔ خواہ اس کیلیے بشارالاسد حکومت کے قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ ایران کی اس آمادگی کے باوجود ایران کے مطالبات معقولیت سے بے نیاز ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی بھی فیصلے یا سمجھتے پر پہنچنے کیلیے درمیانی رستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

روس آج بھی یوکرینی بحران میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کیلیے ایسا کوئی موقع نہیں کہ وہ مشرق وسطی کے ایسے دور دراز علاقے میں اثر انداز ہو سکے۔ روس، سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد پہلی مرتبہ یوکرین کی صورت سب سے بڑی آزمائش سے گذر رہا ہے۔ روس کی کوشش یہ ہے کسی بھی طرح صورت حال اس کے قابو میں رہے اور اس کی دیگر سابق ریاستیں یوکرین کے نقش قدم پر نہ چلنے لگیں۔ روس نے یوکرین کو کھو کر عملا اپنے بڑے اتحادی کو کھو دیا ہے۔ یہ اسی ذہنیت کا کیا دھرا ہے جو روس نے شام کے بارے میں اختیار کر رکھی ہے۔ روس اس کے باوجود شام پر 'اپنا صدر' مسلط رکھنا چاہتا ہے کہ شام کے لوگ اسے مسترد کر چکے ہیں۔ یوکرینی صدر یانو کووچ جس عوامی لہر کی زد میں آیا وہی لہر روس کے خلاف جاری ہے۔

روس اقتصادی اور سفارتی حوالے سے امریکا کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں نہ کہ شام کی چھوٹی سی آزاد فوج کے ساتھ۔ جس پر وقت گذرنے کے ساتھ دباو بڑھتا ہے۔ ایسے میں جب روس کو دینا کی مدد کی ضرورت ہو گی، ایران اور بشار رجیم روس کو کیا دے سکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور شام خود روس پر بوجھ ہیں۔ ایران اقتصادی محاصرے میں مزید ٹھہر نہیں سکتا، جبکہ شام اس حد تک دیوالیہ ہو چکا ہے کہ خوراک کے لیے ادائیگیاں مشکل ہو چکی ہیں۔ اس لیے ہم سب کہہ سکتے ہیں کہ ان حالات میں ماسکو کی پالیسی حماقت کے سوا کچھ نہیں اور یہی حقیقت ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.