.

طالبان سےاسٹیبلشمنٹ خان تک

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رانا ثناء اللہ ہیں تو صوبائی وزیر قانون، مگر ان کی حسن ظرافت ہر قسم کے ماحول میں پھٹکتی رہی ہے اور وہ خوبصورت جملے اور تبصرے کرنے سے باز نہیں رہتے۔ تبصرہ آرائی کے فن میں وہ کبھی کبھی مصالحہ اتنا تیز ڈال دیتے ہیں کہ اس کا جواب فریق ثانی کی طرف سے ضرور آتا ہے۔ کافی سنجیدہ ماحول میں ان کے تبصرے پھر جواب دعوی سے جو دھما چوکڑی مچتی ہے۔ ٹی وی چینلز دیکھنے والوں کے لئے یہ تبصرے کبھی کبھی معلوماتی ہوتے ہیں وہاں قہقہوں، تفریح کا سامان بھی ناظرین کو میسر آتا ہے۔ ’طالبان خان‘ کے ٹائیٹل کا الزام تو کپتان جیو ٹی وی پر لگاتے ہیں۔ طالبان کی حمایت میں بولنے والے عمران خان نے اس سے پہلے کبھی نہیں کہا کہ انہیں طالبان خان کا خطاب کتنا برا لگتا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے تازہ خطابٌ اسٹیبلشمنٹ خانٌ کا دیا ہے۔ کافی مزے دار ہے۔ ملک کے سیاسی منظر نامے پر سیاسی کھیل کی جو کھچڑی پکتی نظر آ رہی ہے۔ عام آدمی سے لے کر ہر کوئی سمجھ رہا ہے۔

کپتان انجانے میں نہیں مایوس ہو کر برضا رغبت اپنی مرضی سے ایسا سیاسی ماحول پیدا کرنے جا رہے ہیں اور ماضی کی سیاست کا کھیل عوام پر دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے بڑی مشکل سے ہم نے جان چھڑائی ہے۔ تازہ مہم جوئی کے سالار اعلی عمران خان طاہر القادری کے مقلد ٹھہرے ہیں۔ ٹربیونلز میں تاخیری حربے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بنے بیٹھے ہیں۔ رکاوٹیں ڈالنے کی اس دوڑ میں کپتان کی پارٹی کا پہلا نمبر ہی دکھائی دیتا ہے۔ ایک سال سے دھاندلی دھاندلی کا شور مچانے والے کپتان کے قدم کسی ایک الزام پر کہیں جمے نظر نہیں آتے۔ وہ پاکستان کے انتخابی ادارے ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ اورجیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں ۔عام آدمی سوچ رہا ہے کپتان کو کیا ہو گیا ہے۔ اس نے خیبر پختونخواہ جہاں اس کی حکومت ہے اس کو چھوڑ کر دھاندلی کے خلاف پنجاب پر کیوں چڑھ دوڑے ہیں۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں بہت بڑا جلسہ کر ڈالا۔ پہلے دھرنا دینا تھا پھر ارادہ بدل دیا۔ جلسہ حاضری کے اعتبار سے کتنا کامیاب تھا اور کتنا ناکام۔

حاضری کتنی تھی اس پر تبصرہ کئے بغیر آگے چلتے ہیں۔ ڈی چوک تھا الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کی دھمکی تھی۔ اچھا کیا چیف الیکشن کمشنر نے کپتان کی بات کا نوٹس لیا اور ’’پینڈورا بکس‘‘ کھولا، این اے 68 سرگودھا کا۔ جہاں سے میاں نواز شریف ایک لاکھ 40 ہزار ووٹ لے کر کامیابی کے زینے پر چڑھے تھے۔میاں نواز شریف کو فی صد کے اعتبار سے اس حلقے سے 63.14 فی صد ووٹ ملے تھے۔ کپتان کا امیدوار نور حیات کلیار 20.43 فی صد ووٹ لے سکا۔ کامیابی کی یہ خلیج اتنی وسیع تھی ہزار بار گنتی ہوئی کامیابی میاں صاحب کا مقدر ٹھہرتی۔ اس حلقہ کے پولنگ اسٹیشن نمبر 279 پر 779 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ کل ووٹ 15 سو کے لگ بھگ تھے۔ کپتان نے ڈی چوک میں کھڑے ہو کر للکارا تھا اس حلقے سے 7879 ووٹ کیسے نکل آئے۔ اس پولنگ اسٹیشن کو دوبارہ سے کھنگالا گیا۔ نتائج جاری ہونے والے ووٹوں میں 779ووٹ ہی شامل تھے۔ 7879 ٹائپنگ کی غلطی تھی۔ میاں نواز شریف نے یہ نشست چھوڑ دی تھی۔ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے شفقت بلوچ 43.60 فی صد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ دوسرا نمبر مسلم لیگ سے باغی ہو کر آزاد لڑنے والے امیدوار کا تھا۔ دونوں کے ووٹ ستر فی صد سے زیادہ تھے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا۔ نتائج بدلے جاتے تو معاملہ سامنے آ جاتا۔ بات رانا ثناء اللہ کے دلچسپ جملوں کی کر رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کی این اے 68 کے حوالے سے وضاحت کے بعد رانا صاحب کا کہنا ہے ’عمران سسرالی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس کا مقصد ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا ہے‘۔ یاد رہے عمران خان کے سسرال نے 1997ء کی انتخابی مہم میں گہری دلچسپی لی تھی اس وقت ان کے سسر بھی زندہ تھے انہوں نے بھی عمران خان کی خوب مدد کی۔ عوام نے تحریک انصاف کو ہی مسترد نہیں کیا بلکہ کپتان لاہور میں میاں نواز شریف کے مقابلہ میں صرف 5 ہزار ووٹ لے کر ضمانت ضبط کرا بیٹھے۔

ایسا ہی ان کے ساتھ کراچی اور خیبر پختونخواہ کی نشستوں پر ہوا تھا۔ ’’اسٹیبلشمنٹ خان‘‘ 2012ء کے آخری مہینوں میں خاص لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ جن لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر آ رہے تھے۔ ان کے چہرے اور کردار چوہدری نثار نے کئی مرتبہ ہمیں دکھائے اور بتائے ۔ انتخاب سے پہلے کپتان کو یقین تھا ۔اور کامیابی کا زعم اتنا غالب تھا زمینی حقائق جانے بغیر دو تہائی اکثریت کے دعوے داغے جا رہے تھے۔ خود کپتان اپنی پارٹی کی کامیابی کے لئے صحافیوں کو لکھ لکھ کر دے رہے تھے ان کے سامنے وزارت عظمی کی کرسی تھی جو بس انہیں ملی سو ملی۔ لندن میں عمر ان کی سابقہ اہلیہ اپنے بچوں کو بتا رہی تھی تمہارا باپ وزیر اعظم بن رہا۔ اب انگوٹھوں کے نشان کا معاملہ منظور ہو چکا ہے۔ نادرا نے اپنی تازہ رپورٹ حکومت کو بھجوائی ہے۔ خاص سیاہی کے بغیر ووٹوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ اور نادرا کی حساس مشینیں ناقص سیاہی کو پڑھنے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ بات سابق چیئر مین نادرا طارق ملک بھی کہہ چکے ہیں کہ انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق نہ ہونے کا مقصد دھاندلی نہیں کیونکہ غیر واضح اور بھدے نشان مشین پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔کپتان بار بار پارلیمنٹ کو بے وقعت کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ 15 اگست 2013 ء کو چوہدری نثار نے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے 40 حلقوں کی تحقیقات کی تجویزدی تھی۔ اور چالیس حلقوں میں سے 20 اپوزیشن اور 20 گورنمنٹ نے بتانے تھے۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں رپورٹ مرتب کرنی تھی۔ حکومت کی اس تجویز کی حمایت تو ہر جماعت نے کی مگر عملی تعاون کسی طرف سے نہ آیا۔ اب دھاندلی کا ایشو ایک سال کے بعد وہ اس لئے اچھال رہے ہیں کہ دھاندلی کا الزام ثابت ہو تو وہ اس کو جواز بنا کر مڈٹرم انتخاب کا مطالبہ داغ دیں۔ انگوٹھوں کی تصدیق کا مطالبہ نہیں مانا تو گیا پھر کہہ دیں گے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن دھاندلی میں شریک تھے۔ جمہوریت پر حملہ آور ہونے کی سازش جس کی نشاندہی پیپلز پارٹی کے رضا ربانی اور اعتزاز احسن ہی نہیں کر رہے۔ سیاسی شعور رکھنے والے سمجھ رہے ہیں۔ عوام سے مسترد سیاست دان کس جانب چل رہے ہیں۔

یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ ضیاء الحق نے ایک بار تہران کے کینان انٹرنیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہاں تک کہا تھا۔ ’سیاست دانوں کا کیا ہے جب بھی بلاؤں ، دم ہلاتے ہوئے میری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ رہا دستور یہ محض بارہ صفحات کا کتابچہ ہے جب چاہوں اس کو پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں‘۔ یہ آج کے سیاست دانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی مقبولیت کی جڑیں عوام میں پیدا کرو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ جب آپ اپنے اس حقیقی تعلق سے دور ہوں گے تو بے شک آپ کو اقتدار مل ہی جائے آپ سازشی اور راندہ درگاہ ہی کہلائیں گے۔ سیاست دان ٹرائیکا میں بھی کافی عرصہ پھنسے رہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کافی ہو چکا۔ سیاسی جماعتیں بھی باشعور ہیں۔ مگر چور دروازے سے آنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے واضح پیغام ہے ۔ وقت، حالات اور زمانے کی کروٹیں اور سیاسی تبدیلی کے افق چور دروازے سے طلوع نہیں ہوں گے۔ پاکستان میں آمریتوں کا برس ہا برس سے جو چلن چلتا رہا ہے۔ وہ تمام ہو چکا۔ پاکستان اپنے وزیر اعظم کے لئے ساتھ ہے اور دستور کی چار دیواری سے باہر جھانکنا اس کی آرزو نہیں۔ کپتان صاحب جمہوریت بھی چاہتے ہیں، ایک خاص چینل کو بند کرانا اس کی خواہش ہے اس کے بعد بھی وہ جمہوریت پسند ہونے کا دعوی کریں گے۔

امریکہ اور اُس کی دنیا پر بالادستی قائم کرنے والی مشین نیٹو کو اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے ہر دس سال بعد ایک نئے دشمن کی تلاش رہتی ہے۔ پہلے 35 سال تک سوویت یونین (روس) رہا ، 1989ء میں اس کےانہدام کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے متشدد مسلمانوں کو دشمن قرار دے دیا اور25 سال وہ بے بس اور کمزور مسلمانوں کا خون بے دریغ بہاتا رہا،اُس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا، اگرچہ خود نیٹو کی موجودگی کا جواز معاہدہ وارسا پیکٹ کے ختم ہو جانے کے بعد نہیں رہا تھا اور روس بھی روس میں قلعہ بند ہوگیا تھا۔ ایران عراق جنگ,عراق کے خلاف دو جنگوں اور افغانستان و عراق پر قبضے اور پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے بعد وہ افغانستان سے برائے نام نکل رہا ہے۔ اس لئے کہ وہاں اس نے اپنے بنائے وفادار نظام کی حفاظت کا اس طرح انتظام کیا کہ امریکہ کے کوئی دس ہزار فوجی اُس کے تیار کردہ سات اڈوں میں قیام پذیر رہیں گے اوربھارت ، روس سے اسلحہ خرید کر افغان فوج کو دے رہا ہے تاکہ افغان کی مسلح افواج طالبان کے خطرے کا مقابلہ کر سکے یا ایران و پاکستان کے مبینہ مداخلت کو روک سکے تاہم یہ ضرور ہوا کہ نیٹو کی افغانستان میں ذلت آمیز رسوائی اور روس کی کریمیا پر قبضہ اور یوکرائن میں پوزیشن کے بعد اور نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری "جنرل الیگزنڈر ورش بو" جوکہ سابق امریکی سفارت کار اور پینٹاگون کے ملازم رہے ہیں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 20 برس روس سے شراکت داری قائم کرنے میں گنوائے اور اب روس کیونکہ جارحیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اس لئے وہ مخالف اور دشمن ہے۔ نیٹو نے چند افغان طالبان سے بھی زک اٹھائی اور روس سے یوکرائن میں بھی سخت دبائو کا شکار ہے، اس لئے نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس جو پیشرفت کررہا ہے اس کی وجہ سے نیا دفاعی نظام وضع کرنا پڑے گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روس خطہ میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ روس نے 2011ء میں بیلاروس اور قازقستان کے ساتھ مل کر ایک یورو ایشیا معاشی تعاون تنظیم بنا ڈالی۔ 2015ء میں تاجکستان، ازبکستان، کرغیزستان، ترکمانستان، جارجیا، سوائے یوکرائن کے سب وہ ممالک جو پہلے سوویت یونین کا حصہ تھے، وہ اِس اتحاد میں شریک ہوجائیں گے۔ گمان یہ ہے کہ یوکرائن کو روسی 2015ء تک مجبور کردیں گے کہ وہ یورو ایشین معاشی تنظیم کا حصہ بن جائے۔

اس وقت یوکرائن میں خانہ جنگی چل رہی ہے، روس اور امریکہ دونوں اپنے اپنے حمایتیوں کی مدد کررہے ہیںِ، ایسے جیسے آگ پر تیل چھڑکا جائے، نیٹو ستمبر 2014ء میں ویلز میں اس نئی صورتِ حال کو زیربحث لائے گا جس میں امریکہ کے شہنشاہ اوباما بہ نفس نفیس شریک ہوں گے اور اِس بات پر غور ہو گا کہ روس کی معیشت کو کیسے تباہ کیا جائے اور روس یہ چاہتا ہے کہ امریکہ کی بالادستی کیسے ختم کی جائے اور اسے دوبارہ سوویت یونین کیسے بنایا جائے۔امریکہ ایک طرف یوکرائن کی حکومت کو ہلکے ہتھیار دے رہا ہے اِس کے ساتھ وہ پولینڈ میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا اہتمام اِس تناظر میں کر رہا ہے کہ بالٹک ریاستیں جن میں لٹویا، اسٹونیا، لتھونیا کو خطرہ ہے۔ یہ دراصل کریمیا، یوکرائن اورافغانستان کی جھینپ مٹانے کے لئے اور اپنے ممالک کے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ ایسا کررہے ہیں۔ وہاں جیسا کہ نیٹو کے حکام یہ الزام لگا رہے ہیں کہ روسی شمالی گیس و تیل سپلائی کا نظام تباہ کرکے یوکرائن پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔ روس نے یوکرائن کی سرحدوں پر اپنی فوج لگا رکھی ہیں۔ وہ وہاں سے نہیں ہٹا رہا ہے البتہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوگیو نے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کو یقین دلایا ہے کہ وہ یوکرائن پر حملہ نہیں کرے گا جب تک یوکرائن کی حکومت یہ غلطی نہ کرے کہ وہ وہاں موجود روسیوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ ایسے میں روس یوکرائن میں اپنی افواج کو داخل کردے گا۔ اِس صورتِ حال پر یکم مئی 2014ء کو جرمن چانسلر مرکل اور روسی وزیراعظم پیوٹن کے درمیان ٹیلی فون پر طویل گفتگو ہوئی۔

واضح رہے کہ مرکل روسی زبان بول سکتی ہیں اور پیوٹن کو جرمن زبان پر عبور ہے۔ دونوں سربراہان نے صورتِ حال کے پیش نظر اِس بات پر اتفاق کیا کہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو اپنا کر قومی مصالحت پر گفتگو کریں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مشرقی یوکرائن میں 23 شہروں میں آباد روسی نژاد یوکرینیوں نے حالیہ میں ریفرنڈم کے ذریعے اپنے آپ کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو یوکرائن میں رہیں یا چاہیں تو روس سے الحاق کرلیں۔ امریکی، یورپ اور یوکرائن نے اِس ریفرنڈم کو مسترد کیا ہے اور 25 مئی 2014ء کو عام انتخابات پورے یوکرائن میں ہونے والے ہیں۔ اس کا کیا فیصلہ آتا ہے وہ بھی دلچسپی کا باعث ہو گا مگر یہ بات بہت صاف ہے کہ روس یوکرائن پر دبائو بڑھا رہا ہے۔ اس کی گیس کی رسد میں کمی کردی ہے اور ساتھ ساتھ دوسرے اقدامات بھی کئے ہیں۔ اِس صورتِ حال نے سرد جنگ کو ہوا دے دی ہے جسے ’’سرد جنگ 2‘‘ کہا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ سرد جنگ جلد ختم ہونے کی نہیں۔ یوں دُنیا یک قطبی سے اب دو قطبی یا ہمہ قطبی ہوگئی ہے۔ امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کا خاتمہ ہوگیا ہے، یوکرائن اور افغانستان اُن کے لئے ایک خوفناک منظر پیش کررہے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو بہرحال یوکرائن میں اپنی افواج نہیں بھیج سکتے۔ یورپی یونین بھی امریکہ کا ایک حد سے زیادہ ساتھ نباہنے کی حیثیت میں نہیں ہے کیونکہ اُن کی روس میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے جبکہ روس کی یورپی یونین میں سرمایہ کاری صرف 225 ملین ڈالر کی ہے۔

اس کے علاوہ روس کو شکایت ہے کہ امریکہ اس کے معاشرے میں این جی اوز کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ روس میں کوئی 158 قومیں آباد ہیں، جن کی زبانیں، ثقافتیں اور مذاہب بھی الگ الگ ہیں۔ مثال کے طور پر تاتارستان میں مسلمان آباد ہیں، وہ تاتاری زبان بولتے ہیں، اسی طرح سے چیچنیا ہیں، بشکرستان میں مسلمان اور بدھ مت کے ماننے والے رہتے ہیں، دوسری ریاستوں میں روسی ہیں، یوکرینی اور بیلا روسی لوگ رہتے ہیں، اِن قومیتوں کے تضاد کو امریکہ ابھار رہا ہے تاکہ روس مشکلات کا شکار ہو جیسے پاکستان میں کئی طرح کی بارودی سرنگیں لگائی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود روسی امریکہ کو کئی طرح سے چیلنج دینے جارہے ہیں، وہ نیا مالی نظام وضع کرکے ویزا اور ماسٹر کریڈٹ کارڈ جیسی کمپنیوں کو معرضِ وجود میں لارہے ہیں تاکہ پیسہ پہلے نیویارک نہ جائے بلکہ روس کے اندر ہی رہے، اس نےدوسرے کئی ملکوں سے خصوصاً ایران، بھارت یا دیگر ممالک سے ان کی کرنسیوں میں یا روسی کرنسی میں لین دین شروع کردیا ہے جس سے امریکہ کو زک پہنچنے کا خطرہ ہے۔

اسی پر امریکہ کے کئی معاشی دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ امریکہ اپنی مالی و معاشی برتری ختم نہیں ہونے دے گا۔ اسی وجہ سے امریکی صدر اوباما کے ایشیائی ممالک جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور فلپائن کے دورے کے دوران چین نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وہ اس لئے کہ وہ امریکی صدر کے دورے کی اہمیت دینے کا تاثر نہیں دینا چاہتا تھا اور روس اور امریکہ کے درمیان کشمکش نے چین کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ماضی میں جب کبھی بھی روس اور امریکہ میں کشمکش بڑھی چین کو فائدہ ہوا اور اِس سرد جنگ کا اصل مستفیض چین ہی ہوگا۔ امریکہ نے چین کی لبریشن آرمی کے سربراہ کو امریکہ کے دورے پر بلایا ہے۔ اگرچہ یہ دورہ امریکی سربراہ کے بدلے کے طور پر ہے مگر کافی اہمیت کا حامل ہے جو الگ سے زیر بحث لانے کا متقاضی ہے اور یہ کہنا درست ہے کہ ’’سرد جنگ 2‘‘ شروع ہوچکی ہے اور کئی عشروں تک جاری رہے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.