نیٹو کا نیا دشمن اور"سرد جنگ 2"

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکہ اور اُس کی دنیا پر بالادستی قائم کرنے والی مشین نیٹو کو اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے ہر دس سال بعد ایک نئے دشمن کی تلاش رہتی ہے۔ پہلے 35 سال تک سوویت یونین (روس) رہا، 1989ء میں اس کےانہدام کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے متشدد مسلمانوں کو دشمن قرار دے دیا اور 25 سال وہ بے بس اور کمزور مسلمانوں کا خون بے دریغ بہاتا رہا، اُس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا، اگرچہ خود نیٹو کی موجودگی کا جواز معاہدہ وارسا معاہدہ کے ختم ہو جانے کے بعد نہیں رہا تھا اور روس بھی روس میں قلعہ بند ہوگیا تھا۔

ایران-عراق جنگ، عراق کے خلاف دو جنگوں اور افغانستان و عراق پر قبضے اور پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے بعد وہ افغانستان سے برائے نام نکل رہا ہے۔ اس لئے کہ وہاں اس نے اپنے بنائے وفادار نظام کی حفاظت کا اس طرح انتظام کیا کہ امریکہ کے کوئی دس ہزار فوجی اُس کے تیار کردہ سات اڈوں میں قیام پذیر رہیں گے اوربھارت، روس سے اسلحہ خرید کر افغان فوج کو دے رہا ہے تاکہ افغان کی مسلح افواج طالبان کے خطرے کا مقابلہ کر سکے یا ایران و پاکستان کے مبینہ مداخلت کو روک سکے تاہم یہ ضرور ہوا کہ نیٹو کی افغانستان میں ذلت آمیز رسوائی اور روس کی کریمیا پر قبضہ اور یوکرائن میں پوزیشن کے بعد اور نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری ’’جنرل الیگزنڈر ورش بو‘‘ جوکہ سابق امریکی سفارت کار اور پینٹاگون کے ملازم رہے ہیں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 20 برس روس سے شراکت داری قائم کرنے میں گنوائے اور اب روس کیونکہ جارحیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اس لئے وہ مخالف اور دشمن ہے۔

نیٹو نے چند افغان طالبان سے بھی زک اٹھائی اور روس سے یوکرائن میں بھی سخت دبائو کا شکار ہے، اس لئے نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس جو پیشرفت کررہا ہے اس کی وجہ سے نیا دفاعی نظام وضع کرنا پڑے گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روس خطہ میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ روس نے 2011ء میں بیلاروس اور قازقستان کے ساتھ مل کر ایک یورو ایشیا معاشی تعاون تنظیم بنا ڈالی۔ 2015ء میں تاجکستان، ازبکستان، کرغیزستان، ترکمانستان، جارجیا، سوائے یوکرائن کے سب وہ ممالک جو پہلے سوویت یونین کا حصہ تھے، وہ اِس اتحاد میں شریک ہوجائیں گے۔

گمان یہ ہے کہ یوکرائن کو روسی 2015ء تک مجبور کردیں گے کہ وہ یورو ایشین معاشی تنظیم کا حصہ بن جائے۔ اس وقت یوکرائن میں خانہ جنگی چل رہی ہے، روس اور امریکہ دونوں اپنے اپنے حمایتیوں کی مدد کررہے ہیںِ، ایسے جیسے آگ پر تیل چھڑکا جائے، نیٹو ستمبر 2014ء میں ویلز میں اس نئی صورتِ حال کو زیربحث لائے گا جس میں امریکہ کے شہنشاہ اوباما بہ نفس نفیس شریک ہوں گے اور اِس بات پر غور ہو گا کہ روس کی معیشت کو کیسے تباہ کیا جائے اور روس یہ چاہتا ہے کہ امریکہ کی بالادستی کیسے ختم کی جائے اور اسے دوبارہ سوویت یونین کیسے بنایا جائے۔ امریکہ ایک طرف یوکرائن کی حکومت کو ہلکے ہتھیار دے رہا ہے اِس کے ساتھ وہ پولینڈ میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا اہتمام اِس تناظر میں کر رہا ہے کہ بالٹک ریاستیں جن میں لٹویا، اسٹونیا، لتھونیا کو خطرہ ہے۔ یہ دراصل کریمیا، یوکرائن اور افغانستان کی جھینپ مٹانے کے لئے اور اپنے ممالک کے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ ایسا کر رہے ہیں۔ وہاں جیسا کہ نیٹو کے حکام یہ الزام لگا رہے ہیں کہ روسی شمالی گیس و تیل سپلائی کا نظام تباہ کرکے یوکرائن پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔

روس نے یوکرائن کی سرحدوں پر اپنی فوج لگا رکھی ہیں۔ وہ وہاں سے نہیں ہٹا رہا ہے البتہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوگیو نے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کو یقین دلایا ہے کہ وہ یوکرائن پر حملہ نہیں کرے گا جب تک یوکرائن کی حکومت یہ غلطی نہ کرے کہ وہ وہاں موجود روسیوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ ایسے میں روس یوکرائن میں اپنی افواج کو داخل کردے گا۔ اِس صورتِ حال پر یکم مئی 2014ء کو جرمن چانسلر مرکل اور روسی وزیراعظم پیوٹن کے درمیان ٹیلی فون پر طویل گفتگو ہوئی۔ واضح رہے کہ مرکل روسی زبان بول سکتی ہیں اور پیوٹن کو جرمن زبان پر عبور ہے۔ دونوں سربراہان نے صورتِ حال کے پیش نظر اِس بات پر اتفاق کیا کہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو اپنا کر قومی مصالحت پر گفتگو کریں۔

یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مشرقی یوکرائن میں 23 شہروں میں آباد روسی نژاد یوکرینیوں نے حالیہ میں ریفرنڈم کے ذریعے اپنے آپ کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو یوکرائن میں رہیں یا چاہیں تو روس سے الحاق کرلیں۔ امریکی، یورپ اور یوکرائن نے اِس ریفرنڈم کو مسترد کیا ہے اور 25 مئی 2014ء کو عام انتخابات پورے یوکرائن میں ہونے والے ہیں۔ اس کا کیا فیصلہ آتا ہے وہ بھی دلچسپی کا باعث ہو گا مگر یہ بات بہت صاف ہے کہ روس یوکرائن پر دبائو بڑھا رہا ہے۔

اس کی گیس کی رسد میں کمی کردی ہے اور ساتھ ساتھ دوسرے اقدامات بھی کئے ہیں۔ اِس صورتِ حال نے سرد جنگ کو ہوا دے دی ہے جسے ’’سرد جنگ 2‘‘ کہا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ سرد جنگ جلد ختم ہونے کی نہیں۔ یوں دُنیا یک قطبی سے اب دو قطبی یا ہمہ قطبی ہو گئی ہے۔ امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کا خاتمہ ہو گیا ہے، یوکرائن اور افغانستان اُن کے لئے ایک خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو بہرحال یوکرائن میں اپنی افواج نہیں بھیج سکتے۔ یورپی یونین بھی امریکہ کا ایک حد سے زیادہ ساتھ نباہنے کی حیثیت میں نہیں ہے کیونکہ اُن کی روس میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے جبکہ روس کی یورپی یونین میں سرمایہ کاری صرف 225 ملین ڈالر کی ہے۔

اس کے علاوہ روس کو شکایت ہے کہ امریکہ اس کے معاشرے میں این جی اوز کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ روس میں کوئی 158 قومیں آباد ہیں، جن کی زبانیں، ثقافتیں اور مذاہب بھی الگ الگ ہیں۔ مثال کے طور پر تاتارستان میں مسلمان آباد ہیں، وہ تاتاری زبان بولتے ہیں، اسی طرح سے چیچنیا ہیں، بشکرستان میں مسلمان اور بدھ مت کے ماننے والے رہتے ہیں، دوسری ریاستوں میں روسی ہیں، یوکرینی اور بیلا روسی لوگ رہتے ہیں، اِن قومیتوں کے تضاد کو امریکہ ابھار رہا ہے تاکہ روس مشکلات کا شکار ہو جیسے پاکستان میں کئی طرح کی بارودی سرنگیں لگائی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود روسی امریکہ کو کئی طرح سے چیلنج دینے جارہے ہیں، وہ نیا مالی نظام وضع کرکے ویزا اور ماسٹر کریڈٹ کارڈ جیسی کمپنیوں کو معرضِ وجود میں لارہے ہیں تاکہ پیسہ پہلے نیویارک نہ جائے بلکہ روس کے اندر ہی رہے، اس نےدوسرے کئی ملکوں سے خصوصاً ایران، بھارت یا دیگر ممالک سے ان کی کرنسیوں میں یا روسی کرنسی میں لین دین شروع کردیا ہے جس سے امریکہ کو زک پہنچنے کا خطرہ ہے۔

اسی پر امریکہ کے کئی معاشی دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ امریکہ اپنی مالی و معاشی برتری ختم نہیں ہونے دے گا۔ اسی وجہ سے امریکی صدر اوباما کے ایشیائی ممالک جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور فلپائن کے دورے کے دوران چین نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وہ اس لئے کہ وہ امریکی صدر کے دورے کی اہمیت دینے کا تاثر نہیں دینا چاہتا تھا اور روس اور امریکہ کے درمیان کشمکش نے چین کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ماضی میں جب کبھی بھی روس اور امریکہ میں کشمکش بڑھی چین کو فائدہ ہوا اور اِس سرد جنگ کا اصل مستفیض چین ہی ہوگا۔ امریکہ نے چین کی لبریشن آرمی کے سربراہ کو امریکہ کے دورے پر بلایا ہے۔ اگرچہ یہ دورہ امریکی سربراہ کے بدلے کے طور پر ہے مگر کافی اہمیت کا حامل ہے جو الگ سے زیر بحث لانے کا متقاضی ہے اور یہ کہنا درست ہے کہ ’’سرد جنگ 2‘‘ شروع ہو چکی ہے اور کئی عشروں تک جاری رہے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں