ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بتایا گیا ہے کہ ساری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ دنیا کی اکیلی رہ جانے والی نام نہاد سپر پاور، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بدنام زمانہ اور سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم، خفیہ ادارہ، سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی CIA نے افغانستان میں سوشلزم برپا کرنے کے لئے نازل کی جانے والی روسی فوجوں کے خلاف "امریکی جہاد" میں داد شجاعت دینے والے مجاہد اسامہ بن لادن کے امریکہ کے دشمن نمبر ون بن جانے کے بعد انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے بچوں کو پولیو کی بیماری سے بچائو کے قطرے پلانے والوں کا روپ دھارنے کی ضرورت پیش آئی تھی جس کے بعد یا جس کی وجہ سے بیشتر ملکوں میں صحت عامہ کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کا کردار مشکوک ہوگیا اور خاص طور پر پاکستان میں بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے والوں کی مصیبت آگئی اور ایسے بہت سے بے گناہ اور بے قصور کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور پولیو کی بیماری پاکستان میں وبا کی صورت اختیار کرنے لگی ہے۔

اس سلسلہ میں پاکستان سے لوگوں کا واویلا معلوم نہیں کس طرح امریکی صدر براک اوباما تک بھی پہنچ گیا اور انہوں نے اس فیصلے کا اعلان کیا کہ آئندہ انٹیلی جنس کے مقاصد کے حصول کے لئے پولیو کے قطرے پلانے والوں کا روپ نہیں دھارا جائے گا۔ امریکی صدر کی اس زود پشیمانی کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ سی آئی اے کی اس بہروپ بازی سے پاکستان کے غریب عوام اور والدین اور بچوں کا جو نقصان ہو چکا ہے وہ کیسے اور کس طریقے سے پورا کیا جائے گا۔ جو پاکستانی بچے پولیو کی بیماری کی زد میں آچکے ہیں وہ اپنی زندگی نارمل انداز میں کیسے گزار سکیں گے۔ ان کے والدین کے آنسو کون پونچھے گا۔ ان کا سہارا کون بنے گا؟

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکے گا کہ امریکہ نے عالمی سرمایہ داری نظام کے سب سے بڑے محافظ کے طور پر سرمایہ داری نظام کے خلاف ابھرنے والے متبادل اور مخالف سوشلزم کے نظام کے خلاف پورے عالم اسلام میں یعنی مسلمانوں کی اکثریتی آبادی والے ملکوں میں سوشلزم کو اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے کی مہم کا آغاز کیا اور "ٹرانس پرینسی انٹرنیشنل" والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کی اس مہم کے ذریعے عالم اسلام میں کرپشن، بددیانتی اور ناجائز کمائی کی نئی راہیں کھلیں۔

امریکہ نے اس مہم کو کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کی غرض سے بے دریغ انداز میں عالم اسلام کے مذہبی رہ نمائوں میں ڈالروں کی بارش شروع کی۔ اس ناجائز کمائی کے ساتھ دیگر خرابیوں، کمزوریوں اور آلائشوں کا بھی آغاز ہوگیا اور ان خرابیوں اور آلائشوں میں وہ گمراہیاں بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے دنیا کے جدید ترین مذہب اور دین میں قدامت پسندی، انتہا پسندی اور جہالت کی خرابیاں بھی اثر انداز ہونے لگیں جن کا تدارک اور جن کی مزاحمت عالمی سرمایہ داری نظام کے مفاد میں نہیں تھی کیونکہ عالمی سرمایہ داری نظام اگر سوشلزم کے نظریے یا فلسفے کے خلاف نبرد آزما تھا تو اسلام کی جدت پسندی، انسان دوستی اور غریب پروری بھی عالمی سرمایہ داری نظام کے حق میں نہیں تھی۔

جس طرح کچھ عناصر ترقی پسند نظریات کو ترقی پسند نظریات کے خلاف استعمال کرنے کی جعل سازی کرسکتے ہیں اسی طرح اسلام کا نام لینے والے بھی اسلام کے خلاف بر سر پیکار ہو سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو مذہبی لب و لہجہ میں معافی اور توبہ کو مذہب اور دین کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہیں وہ مذہب اور دین کے ہمدرد اور خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ مذہب اور دین کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے والوں نے مذاہب اور مذہبی سوچ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں