.

افراتفری کی راہ پر گامزن

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا ملک خودکشی کے راستے پرچل رہا ہے؟یاپھر ابھی وہ لمحہ نہیں آیا جب عام انسانوں کو مرحمت کی جانے والی دانائی حکومت، فوج اور میڈیا کی زبان ِ حال سے پکار اٹھے گی کہ ’’بس کریں، بہت ہو گیا!‘‘یا پھر جذبات کی ہنگامہ آرائی کو اعتدال کی راہ دکھانے کے لئے ایک اور اکتوبر درکار ہے؟

اس معاملے، جس نے ملک بھر کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور جس نے حکومتی نظم و نسق یا اس سے ملتی جلتی جو بھی شے ہمارے ہاں موجود تھی، کو مفلوج کر رکھا ہے، کی وجہ سے معاشرے میں شروع ہونے والی خانہ جنگی ہم نے بہت دیر ہوئے نہیں دیکھی تھی۔ اس سے پہلے 1977 میں بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران بھی معاشرہ اسی طرح کی وحشیانہ تقسیم کا شکار ہو گیا۔ خوش قسمتی سے اُس وقت پرائیویٹ ٹی وی چینل نہیں تھے۔ آج اس کشیدگی کو ٹی وی نے کئی گنا فزوں تر کر دیا ۔ ہرطرف حماقتوں کی بوچھاڑ، لاعلمی کی یلغار اور تنگ نظری اور دقیانوسی سے جلا پانے والے رویوں کی للکار سے معاشرے کی رہی سہی عقل دبکی، سہمی اُس پھنکارتے ہوئے ناگ کو بل کھاتے، آگ اگلتے ہوئے دیکھ رہی ہے جس کا مہذب دنیا میں نام آزادی اظہار ہے لیکن شمشیر و سناں کے اس معاشرے اسے جتنا بھی کم کرلیں، یہ بندر کے ہاتھ استرا تو ثابت ہو کر ہی رہتا ہے۔

میں ایک بار پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ ہمارے میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا، کو حاصل ہونے والی آزادی کے لئے نہ کسی کے جنون نے حکایات ِخونچکاں لکھیں، نہ کسی کے ہاتھ قلم ہوئے، یہ صحافتی حلقوں کی طرف سے پھیلایا جانے والا وہ التباس ہے جس کے سامنے یونانی دیو مالائی کہانیاں تاریخی سچائی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ دراصل ایک فوجی آمر کی عطا تھی اور یہ اُس کے اپنے حق میں زہر کا پیالہ ثابت ہوئی۔ بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ مختلف میڈیا ہائوسز کو مختلف اوقات میں ملنے والی سزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناشکری کے مرتکب ہوتے ہوئے پرویز مشرف کو اس آزادی کا کریڈٹ نہیں دیتے۔

میں وردی پوش حکمرانوں، خاص طور پر مشرف کے خلاف ہر ہفتے بہت تیزو تند الفاظ میں لکھا کرتا تھا۔ بطور صحافی میری آمدنی میں اضافہ ہونا شروع ہوا ... کم از کم میں اتنے پیسے ضرور کما لیتا جو میری ضروریات اور مشاغل کے لئے کافی تھے۔ دیگر صحافی برادری، جو پرائیویٹ چینلوں کے ساتھ وابستہ تھی، ان کی آمدنی بہت قابل ِ رشک ہو گئی لیکن ہم نے جمہوریت کے کھوکھلے جذبات کو جوشیلے الفاظ دیتے اپنے ہتھیاروں کا رخ اُس کی جانب ہی کر لیا جس نے ہمیں یہ ہتھیار فراہم کیا تھا۔ اس کا نکتہ ٔعروج وکلا کی تحریک کے دوران دیکھنے میں آیا۔ وہ ایسا سماں تھا کہ اب بھی بے اختیار یہ الفاظ منہ سے نکل جاتے ہیں کہ خوش قسمت تھے وہ لوگ جن کی آنکھوں نے وہ مناظر دیکھے اور وہ کان جنھوں نے وہ جوشیلی تقریریں سنیں۔ ہماری جمہوریت کو مزید تقویت ملی جب آمریت منہ کے بل گری اور ا س پر غداری کا الزام لگایا گیا اور میڈیا، جسے اس آمریت نے ہی تقویت دی تھی، اس کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ اب چونکہ مارشل لا کے ضابطے نہیں ہیں، اس لئے ہم خامہ بکف کشتوں کے پشتے لگانے پر کمر بستہ ہیں۔ اکثر شاموں کو میں اکیلے، جبکہ میز پر دل خوش کن چیز کی مہک زندگی کا احساس دلاتی ہے، بیٹھ کر سوچ رہا ہوتا ہوں کہ ہماری شمشیر زنی نے یہ دن لازمی دکھانا تھا۔

کسی ڈرامے میں اس سے زیادہ جاندار کاسٹ نہیں ہو سکتی ... حکومت، دفاعی ادارے اور میڈیا۔ اس میں مذہبی، پارسا، محب ِ وطن، قومی سلامتی کے محافظ ... جذبات کے بہتے ہوئے دھارے، جن کی زد میں آئی ہوئی عقل خاشاک آسا۔ تو اس عالم میں جنوں کی رست خیزی کیا گل کھلائے گی؟ یہ سب اپنی جگہ پر لیکن یونانی ڈرامے کے کورس کی طرح مدبرانہ کردار ادا کرتے ہوئے صورت ِ حال کو کنٹرول کرنے والی حکومت کہاںگئی؟ جب بھی میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ٹی وی پر ملاحظہ کرتا ہوں تو پتہ نہیں کیوں میرا دل ڈوب جاتا ہے۔ اس سے پہلے مرزا کا یہ مصرع کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا..."نظارے نے بھی کام کیا یاں نقاب کا۔"

جیسا کہ خرابی میں کوئی کسر باقی تھی، جب گزشتہ بدھ کی شام ٹی وی لگایا تو مجھے اس پر(جو بھی چینل تھا آپ سمجھ گئے ہوں گے) جو زبان استعمال کی جا رہی تھی اور جس بازاری انداز میں الزامات لگائے جا رہے تھے کہ اچھے بھلے’’ نارمل‘‘ انسان کے کان بھی سرخ ہو جائیں ۔ یہ معاملہ کہاں جاکے ٹھہرے گا؟ یقینا آگ لگی ہوئی اپنے آپ نہیں بجھ جاتی، اس پر پانی ڈالنا ہوتا ہے۔ فریقین کا حال یہ کہ انھوں نے اپنے اپنے مورچوں اس میں اس طرح قدم جمالے رکھے ہیں کہ اس معاملے، جو ایک جملے سے حل ہو سکتا تھا، کو زندگی موت کی جنگ بنالی ہے۔ وزارت ِ قانون، جس کا قلم دان بھی وزارت ِ اطلاعات کے پاس ہے، نے گیند پیمرا کے کورٹ میں ڈال دی ۔ تاہم حکومت پیمرا کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت، کم از کم تاثر یہی جا رہا ہے، نہ دے کر معاملہ مزید خراب کر رہی ہے۔ اس کے سرکاری ممبران میٹنگز میں شریک نہیں ہو رہے، اس لئے ہنگامہ خیز سکوت طاری ہے ۔

پہلے میرا خیال یہ تھا ... اور موجودہ واقعات بتاتے ہیں کہ میں غلطی پر تھا ... کہ آئی ایس آئی معاملے کو اتنا بڑھانے پسند نہیں کرے گی لیکن اس نے حکومت اور ایک چینل پر بے پناہ دبائو ڈالا۔ اب اس بحران کا جو بھی نتیجہ برآمد ہو، ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ اس نے حکومت کی فعالیت پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ میں نے گزشتہ دودنوں کے دوران دوٹی وی شوز میں شرکت کی اور ان دونوں میں ایک سوال ہی اٹھایا گیا کہ حکومت کہاں ہے؟اس دوران شمالی وزیرستان میں صورت حال یکایک دھماکہ خیز ہو گئی ۔ مشرق کی طرف سے وزیر اعظم کے لئے مسٹر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا سندیسہ آیا ہے۔ وزیر اعظم اگر یہ فیصلہ کرنے کے خود مجاز ہوں تو وہ وقت ضائع کیے بغیر دہلی جانا چاہیں گے، لیکن موجودہ صورت حال خود فیصلے کرنے کی اجازت شاید نہ دے۔

درحقیقت ذمہ داری سے پہلو تہی اور اتھارٹی کا تحلیل ہو جانا کسی بھی ریاست میں کسی بھی حکومت کے لئے روا نہیں ، اور پھر ہمارے ہاں تو غیر معمولی صورت حال درپیش ہے، اس میں حکومت کی طر ف سے غیر معمولی فعالیت دکھانے کی ضرورت تھی۔ اس وقت جبکہ مشرق میں بھارت اور شمال میں افغانستان میں صورت حال تبدیل ہو رہی ہے، ہمارے ہاں پہلے سے زیادہ اتفاق و اتحاد کی ضرورت تھی لیکن آج ہی ہمارے معاشرے کا شیرازہ بکھرتا محسوس ہوتا ہے۔ ہر کوئی خنجر تھامے دوسرے کی شہ رگ کو تاڑ رہا ہے... حکومت، دفاعی ادارے، میڈیا اور معاشرے کے مختلف دھڑے۔ اس وقت ہمیں ایک بات کی تفہیم کر لینی چاہئے کہ فوج قدم پیچھے نہیں ہٹائے گی۔ کئی عشروں کے بعد اس نے دیکھا ہے کہ عوام کی اکثریت اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ چنانچہ معاملہ حل کرنے کے لئے کوئی اور حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس دوران اگر حکومت نے جارحانہ رویہ دکھانے کی کوشش کی تو خسارے میں رہے گی۔ اس خسارے کا حساب لگانے کے لئے بہت ذہین ریاضی دان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر فوجی قیادت اور سول حکومت کی ملاقاتوں کو دیکھیں تو تنائو کا واضح تاثر ملتا ہے۔ جس طریقے سے ٹی وی چینل بے قابو ہو رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اسلام آباد میں کسی کی اتھارٹی نہیں۔ قطرہ قطرہ ٹپکتا یہ مکان مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اس خرابی کا کوئی حل تلاش کرلیں ورنہ پھر تھائی لینڈ یا مصر...

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.