.

ریاست کا چوتھا ستون؟؟

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ تو ہونا ہی تھا! کارپوریٹ کلچر جس بلائے عظیم کا نام ہے، وہ سب سے پہلے معاشروں کی تہذیبیں، اقدار اور شناختیں ہی تو ہڑپ کرتی ہے اور اس کے بعد انسانوں کو پراڈکٹ بنا کر بازار میں رکھ دیتی ہے جو خود اپنے آپ کو بیچتے ہیں! سو میڈیا جو پہلے تنہا سرکاری ٹی وی کا نام ہوا کرتا تھا (اس وقت صابن، سرف اور چائے پتی بیچتا تھا) جب سے آزادئ اظہار کا علمبردار بنا ہے اور 80 سے زیادہ چینلز پر مشتمل ہو چکا ہے، اب اپنی اقدار بیچتا ہے، تمدن بیچتا ہے، سیاست بیچتا ہے اور مذہب بیچتا ہے۔ آزادئ اظہار کے چرب زبان، بے باک اور اپنی حقیقی معاشرتی اقدار سے قطعاً منحرف، اینکر پرسنز، نیوز کاسٹرز اور ہوسٹ، اپنی باڈی لینگوئج سے ہی نہیں، ہر حرکت، ہر پہلو سے، پاکستان، پاکستانیت اور اپنی معاشرتی اور اخلاقی قدروں کا مذاق سر عام اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔! بریکنگ نیوز کا ہتھیار اٹھا کر، ریٹنگ کو فتح کرنے والے یہ سارے سپہ سالار اور سپاہی اپنی ذات اور اپنے ادارے کی منفعت کے علاوہ اور کسی چیز سے کوئی غرض نہیں رکھتے!

خود کو ریاست کا چوتھا ستون ماننے والا میڈیا، پچھلے چند برسوں میں اپنی جگہ سے سرکتے سرکتے اب اس حد تک جا چکا تھا کہ بقیہ تینوں ستون بشمول عدلیہ اس کے سامنے اتنے کمتر اور کمزور لگنے لگے تھے کہ انہیں خود مختار اور طاقتور ادارے ماننا، بسا اوقات مشکل ہو جاتا تھا، عدلیہ کے منصفوں سمیت دفاعی اداروں اور وقت کے وزرائے اعظم اور صدور تک کو نہ بخشنے والا میڈیا، جس کی طاقت پر اول اول پاکستان کا ہر شہری اظہار مسرت کرتا تھا، اب جس مقام پر خود کو فائز کر چکا تھا، اس کے بعد، عوام الناس میں اس کے خلاف اک خاص طرح کا ردعمل پیدا ہو چکا تھا، لوگ ٹاک شوز کا فینا منا سمجھ چکے تھے۔۔۔ ریٹنگ اور بریکنگ نیوز کا کھیل جان چکے تھے، کس کو اک خاص ایجنڈے کے تحت ابھارنا ہے، کسے گرانا ہے۔۔۔ کب جعلی سلیبریٹی پیدا کر کے، اسے پروموٹ کر کے اپنے شوز کی ریٹنگ کو راکٹ کی سی تیزی سے اوپر لے جانا ہے اور کب حقیقی ایشوز سے عوام الناس کی توجہ ہٹا کر انہیں، کسی شعیب ثانیہ کی شادی میں الجھانا ہے، کب وینا ملک جیسی اشتہاری عورت کو با آبرو، اور پابند صوم و صلوٰۃ ظاہر کر کے اپنے شو کی مقبولیت کو چار چاند لگانے ہیں ۔۔۔ یہ سارے حربے، حیلے استعمال کر کے بریکنگ نیوز کے ذریعے معاشرے میں اک خاص طرز کی افراتفری پیدا کر کے، اس کی لائیو کوریج دے کر،ناخواندہ، بے سکون اور انتشار زدہ معاشرے کو، اک مسلسل اعصابی تناؤ میں مبتلا کر کے، میڈیا، آزادئ اظہار کے نام پر، جس طرح ہم سب سے کھیل رہا تھا، اس کے بعد، ایسا تو ہونا ہی تھا!

ٹاک شوز جو پہلے پہل عوام میں اتنے مقبول ہوئے کہ انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری کو اٹھا کر ایک دم سے زمین بوس کر دیا، اب ان سے لوگ عاجز آ چکے تھے، اونچا بولنے اور منفی جذبات کا اظہار کر کے، سب کو چپ کرا دینے والے چند کردار، سیاست دانوں کے ٹولے سے منتخب کر کے، شوز کی مقبولیت بڑھانے اور اختلافی معاملات کو ہوا دے کر، ان سے لطف اندوز ہونے والے اینکرز کا حال یہ ہو چکا تھا کہ وہ بار بار انہیں بلاتے تھے اور بک بکا کرنے والے مہمان بیک وقت چار چار شوز میں بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔۔۔! رہے مارننگ شوز تو ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ دو چار لچر اور بازاری ادائیں دکھانے والی خواتین نے کروڑوں عورتوں کو گمراہ کرنے میں اک خاص کردار اداکیا ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا! گناہوں کو گلیمرائز کر کے دکھانے والی یہ خواتین، اپنے شوز میں جعلی عاملوں، ڈھونگی پیروں، اشتہاری عالموں کو تو پروموٹ کرتی ہی تھیں، اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدریں، عورت کی شرم و حیا اور بے حیائی کو جس بے باکی سے بیچتی رہیں۔ اسے دیکھ کر بار بار یہ سوال اٹھتا رہا، اس جاہل اور نیم خواندہ معاشرے کی لگامیں، کارپوریٹ کلچر آخر کہاں لے کر جا رہا ہے؟ یہ لوگ جو ہمیں ٹی وی سکرینوں پر دکھائی دیتے ہیں، جس ایجنڈے پر بھی کام کر رہے ہیں وہ اس ملک اور قوم کا ایجنڈا ہر گز نہیں ہو سکتا!

اگر جیو کو ان تمام برائیوں اور بدعتوں کا حرف آغاز سمجھ لیا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ جس رسم، جس کھیل کا آغاز جیو کرتا تھا، باقی تمام میڈیا ہاؤسز اس کی پیروی کرنے لگتے تھے۔۔۔! دین کو بیچنے کے کاروبار کی شروعات بھی جیو نے ہی کیں۔ عالم آن لائن سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ، بعد میں اسلامی تہواروں کی ڈرامائی اور فلمی تشکیل سے جب شروع ہوا تو پھر کہیں رکنے میں نہ آیا، رمضان کو کاروباری مہینہ بتانے اور دوسرے چینلز کو اپنی تقلید کرنے کی بالواسطہ ترغیب اسی ادارے کے حصے میں آتی ہے، جس نے رمضان کو نیلام گھر اور نیلام گھر کو انعام گھر بنانے کا سفر کچھ اس قدر عجلت میں طے کیا کہ ان کی رفتار سے خوف آنے لگا! دین کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور دنیا کی سرحدوں کا میل تال کہاں جا کر ان سے ملتا ہے، امن کی آشا کا پکا راگ الاپنے والوں نے یہ سب کچھ آپس میں یوں خلط ملط کر دیا کہ اک عام مسلمان جو اپنے عقائد میں خالص ہونے کے باوجود ، دینی معاملات میں رہنمائی کے لیے مقامی مسجد کے امام صاحب یا مولوی صاحب کا محتاج ہوتا ہے، وہ اتنا کنفیوژ ہوا، کہ جیو کے تگڑم عالم صاحب کو اک ولی، اک کامل کا درجہ دینے لگا یوں ریٹنگ بڑھی اور ریٹنگ بڑھنے سے اس ادارے کی کاروباری سوچ نے مذہب کو بہترین کاروبار کے طور پر چن لیا۔۔۔! شائستہ واحدی، جو ٹی وی سکرین پر خود کو برملا اس ملک کی تمام عورتوں کی رول ماڈل کہتی تھی اور اپنی طلاق سمیت دیگر تمام ذاتی اور گھریلو معاملات کو مارننگ شوز میں نہایت چالاکی سے بیچتی تھی.

خود کو مظلوم کہہ کر سادہ خواتین کی ہمدردیاں بٹورتی تھی ،اور ان حالات میں، انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا مفت مشورہ دے کر گویا ان پر طلاق کی راہیں آسان کرتی تھی، اس کا پروگرام ریٹنگ کے جس درجہ پر تھا اور اسے آسان شہرت، آسان کاروبار اور آسان پیسہ، کس قدر آسانی سے میسر تھا، یہ وہ نکتہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے کسی سائنس کی ضرورت نہیں، مارکیٹ اکانومی اس کا سادہ سا جواب ہے۔ جو،منڈی میں خواہشیں بھی بیچتی ہے اور خواہشیں رکھنے والوں کو بھی! چنانچہ پچھلے چند برسوں کے دوران جس تیزی سے اس معاشرے میں خواہشوں کی ترغیب ان میڈیا ہاؤسز کے ذریعے دی گئی ہے اور جس تیزی سے یہاں انسانوں کو پراڈکٹ کی طرح بیچا گیا ہے، یہ اسی کے شاخسانے ہیں! ریٹنگ کے یہ کارخانے، عوام الناس میں جرائم، افراتفری، بے چینی اور خواہشوں کے حصول کی خاطر حد سے گزر جانے کے جذبات پیدا کر کے اپنے کاروبار کو جس جگہ پر لے آئے تھے، اس کے بعد اگر کوئی درجہ تھا تو وہ مطلق العنانیت تھی! ریاست، مقننہ، فوج اور انتظامیہ کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر، اپنی طاقت، اپنے غرور کے اظہار میں خود کو احتساب سے بالاتر سمجھ کر، قومی فیصلوں کا اختیار بزعم خود اپنے ہاتھ میں لینے والا میڈیا۔۔۔

جس کا سرخیل جیو تھا، اس کا گھمنڈ پچھلے چند برسوں میں ’’درجۂ کمال‘‘ تک پہنچ چکا تھا۔ وہ دید کے قابل تھا، حکومتیں بنانے اور توڑنے کا دعویٰ دار جیو۔۔۔ امن کی آشا کے ذریعے، سرحدوں کو لکیریں مان کر انہیں مٹانے کے در پے جیو، خود کو ناقابل احتساب اور ناقابل تسخیر سمجھنے میں یوں حق بجانب تھا کہ پرویز مشرف سے لے کر زرداری حکومت تک، سبھی اس سے اپنے اپنے دور میں خائف رہے، رہے ہمارے وزیراعظم۔۔۔ نواز شریف تو ان کا کہنا ہی کیا، حالیہ واقعات میں وہ جس طرح جیو کے سامنے ڈھال بنے کھڑے ہیں، عدلیہ اور پیمرا کے ذریعے جس طرح جیو کا دفاع کر رہے ہیں، اُسے دیکھ کر جیو کی طاقت کا اندازہ خوب ہوتا ہے۔۔۔ مگر ہر طاقت اور ہر غرور کو زوال ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، قدرت کا سبق ہے، کوئی انسان ہو یا ادارہ۔۔۔ جب اپنی حدیں، دراز کر لے اور خود کو مطلق العنانیت کے درجہ پر فائز کر کے، ہر اصول، اور اخلاقی ضابطوں سے خودکو بالا تر سمجھنے لگے، تو پھر یہی ہوتا ہے۔۔۔ جو جیو کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔! اگر جیو اس وقت عوام الناس میں اپنی غیر معمولی مقبولیت جانچنے کے لیے گیلپ سروے کرائے تو اُسے اندازہ ہو، لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف کتنا شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔۔۔!

اپنے حساس اداروں کو ٹارگٹ کرنے کے قومی جرم کے بعد۔۔۔ اہل بیت سے گستاخی (چاہے نادانستہ ہی سہی) اس امر کا بین ثبوت ہے کہ جیو کے ہاں اگر کچھ ضروری ہے تو صرف ریٹنگ۔۔۔ اسی لیے وہاں پروگراموں کے مواد کے بجاتے، ریٹنگ بڑھانے کے طریقوں پر ضرور دیا جاتا ہے۔ یہ ریٹنگ بدنام زمانہ وینا ملک کے ذریعے حاصل ہو یا اسلامی شعائر کا نفوذ باللہ مذاق اڑا کر ۔۔۔ اس سے ادارہ چلانے والوں کو کوئی غرض نہیں ۔۔۔! چنانچہ یکے بعد دیگرے، جیو کی اپنی کرنی، جس طرح اس کے گلے کا پھندا بنی ہے، اس کے بعد، اس ’’عظیم ادارے‘‘ کا اکڑنا اور معافی سے گریز۔۔۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے مالکوں کا غرور، آسمان کی کن حدوں کو چھو رہا ہے۔ کارپوریٹ کلچر کے یہ پروردگان جو، سرحدوں کو لکیریں مان کر، اس ملک کے نظریے اور وجود کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اب اپنے گلے میں اپنے اعمال کا پھندا ڈالے، احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں، مگر جیو کی معطلی۔۔۔ اور جیو کے الجھے ہوئے معاملات ہمارا اصل مسئلہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اب دیگر میڈیا ہاؤسز کو بھی اپنی حدیں مقرر کرنا ہوں گی ۔ اپنا قبلہ درست کرنا ہو گا اور اپنا احتساب خود کرنا ہو گا ۔۔۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں، جب ان کے احتساب کی باری بھی آ جائے گی!!

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.