میڈیا کی بے توقیری

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

تجاوز کا یہی انجام ہوتاہےجواس وقت میڈیا کا ہورہا ہے ۔ جو کچھ پاکستان میں ہورہا تھا ، وہ میڈیا میں بھی ہونے لگا اور نتیجتاً جو پاکستان کا حال ہوا ، وہ میڈیا کا بھی ہونے لگا۔ پاکستان میںسیاسی اور مذہبی لیڈرعوام کی رہنمائی نہیں کرتا ، بلکہ ان کے جذبات سے کھیلتا ہے اور میڈیا نے بھی اسی پاپولرزم کو اپنا مذہب بنالیا۔ عوام نے جس چیز کو دیکھنا چاہا ، میڈیا وہ دکھانے لگا۔ پاکستان میں جس کا کام اسی کو ساجھے ، کے برعکس جنرل ، جج اور مولوی سیاستدان بن گیا جبکہ دفاع کی ڈیوٹی بعض مذہبی سیاسی جماعتوں نے سنبھال لی۔ میڈیا میں بھی ایڈیٹر کا کام مالکان کرنے لگے بعض ایسے مالکان جنہوں نے ٹی وی یا اخبار کا مالک بننے سے قبل اخبار کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ اسی طرح پروڈیوسر، اینکر کا ماتحت بن گیا اور ایکٹرز یا سنگر مذہبی پروگراموں کی میزبانی کرنے لگ گئے۔ پاکستان کو تباہی کے دہانے فتووں کے کلچر نے پہنچا دیا ہے اور میڈیا والے بھی خبر دینے اور تجزیہ کرنے پر اکتفا کرنے کی بجائے مفتی بن گئے۔

ایک دوسرے کو ایجنٹ اورغدار کے خطابات سے نوازتے رہے اور بعض تو سیاست ہی نہیں مذہب کو بھی ڈکٹیٹ کرنے لگ گئے تھے۔ جس طرح پاکستان کے لئے قربانیاں کچھ اور لوگوں نے دی تھیں لیکن اس کے مامے اور چاچے کچھ اور لوگ بن گئے ، اسی طرح میڈیا کی آزادی کے لئے بھی قربانیاںپرنٹ میڈیا سے وابستہ یا پھر ہمارے سینئرز نے دی تھیں لیکن اس کا کریڈٹ چھتریوں سے اترنے والے ہم جیسے اینکرز اور کالم نگار لینے لگ گئے ۔ اصل قربانی کراچی، بلوچستان، فاٹا ، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب اور اسلام آباد وغیرہ میں کام کرنے والا وہ رپورٹر دے رہا ہے جس کو نہ مناسب تنخواہ ملتی ہے اور نہ دیگر سہولتیں ،لیکن میڈیا کا چہرہ چند اینکرز بن گئے ہیں۔ جس طرح سیاست میں کچھ گھس بیٹھیوں کا غلبہ ہے ، اسی طرح میڈیا میں بھی اس طبقے نے قبضہ کرلیا ہے ۔ چند کے سوا باقی سب مالکان وہی زر اور ضمیر کی خریدوفروخت کرنے والے ہیں جو اپنے کاروباری دھندوں کے تحفظ کے لئے یہاں گھس آئے ہیں۔ اینکرز کی اکثریت بھی وہی ہے جن کا ماضی میں صحافت سے کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن وہ حادثاتی طور پر یا پھر کسی کی شہ پر یہاں قابض ہوگیا اور ایسا قابض ہوگیا کہ جینوئن اور حقیقی صحافیوں کو کمتر سمجھنے لگا۔ پاکستان میں ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے سیاست اورمذہب کو گڈ مڈ کردیا گیا اور میڈیا میں بھی نیوز اور تفریح کا فرق مٹنے لگا ۔ جس طرح سیاست میں بظاہر لیڈر نظر آنے والا وقت آنے پر اندر سے کسی کا مہرہ نکل آتا ہے ، اسی طرح میڈیا میں بھی مہروں کی بہتات ہونے لگی تھی ۔مذکورہ عوامل نے پاکستان کو دولخت کردیا اور آج میڈیا بھی دو لخت ہونے لگا ہے ۔ یہ آنے والا مورخ ہی بتائے گاکہ میڈیا کی تقسیم میں مکتی باہنی کا کردار کس نے ادا کیا اور ہندوستان کی ڈیوٹی کس نے سنبھال رکھی تھی ۔

البدر اور الشمس کون تھے اور شیخ مجیب کا کردار کس کے سپرد تھا لیکن بدقسمتی سے جس طرح پاکستان کے کرتا دھرتائوں نے تقسیم پاکستان سے کوئی سبق نہیں لیا ، اسی طرح میڈیا کے کرتا دھرتا موجودہ بحران سے سبق لیتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ چنانچہ مجھے ڈر ہے کہ جس طرح آج پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں نفرت کا نشان بنتا جارہا ہے ، اسی طرح پاکستان میں میڈیا کا کارڈ نفرت کا نشان نہ بن جائے ۔ مستسثنیات ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ سب پاکستانی بھی خراب نہیں ۔ سب سیاستدان بھی برے نہیں ۔ مذہبی طبقے میں بھی بعض صاحب عزیمت عالم اور داعی موجود ہیں ۔ جرنیلوں کو تو خیر ہم برا نہیں کہہ سکتے لیکن اچھے برے ان کے ہاں بھی موجود ہیں اور اس حقیقت سے مجھے کسی اور نے نہیں بلکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز اور جنرل حمید گل جیسے بعض جرنیلوں نے ہی آگاہ کیا ہے ۔ اسی طرح میڈیا واوالے بھی سب برے نہیں ۔ ایڈیٹروں، رپورٹروں اور کالم نگاروں میں تو کیا ، اینکرز بھی سب میری طرح نالائق اور گنہگار نہیں بلکہ یہاں بھی بعض پروفیشنل اور صاحب کردار لوگ موجود ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہم میڈیا والے حدوں کو پار کرگئے تھے ۔ ہم صحافی نہیں رہے، جج ، سیاستدان اور مفتی ، مختلف جماعتوں یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان بن گئے تھے ۔

تکبرہماری شناخت بن گئی تھی اور تکبر کا وہی انجام ہوتا ہے جو اس وقت میڈیا کا ہوگیا ۔ میڈیا کے ایک حصے کو گولی، دھونس اور پروپیگنڈے سے خاموش کردیا گیا اور دوسرے حصے کو اس کے خلاف میدان میں نکال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس قدر بے وقعت ہوگیا کہ وہ مستقبل میں میڈیا کا کردار ادا ہی نہیں کرسکے گا ۔یقینا یہ بہت بڑی آزمائش ہے لیکن حتمی نتیجے کے طور پر انشاء اللہ کوئی نہ کوئی مثبت نتیجہ بھی ضرورنکلے گا ۔ ہم تجاوز کررہے تھے تو ہمارے انجام اچھا نہیں ہوا ۔ یہ قانون فطرت ہے ۔ اب جینوئن میڈیا کے خلاف بعض لوگ غرور میں مبتلا ہوکر تجاوز سے کام لے رہے ہیں اور اسی قانون فطرت کے تحت یہ ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ابھی بھی یہ مثبت پہلو سامنے آگیا ہے کہ میڈیا کے اندر خوداحتسابی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ کھرے اور کوٹے کی تقسیم واضح ہورہی ہے ۔ بہت سارے چہروں سے نقاب اتر گیا ہے اور یہ ثابت ہوگیا کہ کون اصل صحافی اور صرف اپنے اخبار یا ٹی وی کا ملازم ہے اور کس کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں ۔ اسی طرح سیاست میں بھی حقیقی سیاسی جماعتوں اور مہروں کی تقسیم واضح ہوگئی ۔ اب صحافتی تنظیموں ، اے پی این ایس، سی پی این ای اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس شر سے خیر نکالنے کی کوشش کریں ۔ اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکال دیں یا کم ازکم کالی بھیڑیں اور حقیقی صحافی کی تفریق مزید واضح کردیں اور اپنے لئے ضابطہ اخلاق وضع کردیں ۔

ایک وضاحت : گذشتہ کالم میں، میں نے ’’گوجر،، کے ’’کٹے،، کا مقولہ نقل کیا تھا۔ قارئین جانتے ہیں کہ مجھے اردو پر پورا عبور نہیں اور میں پشتو نما اردو لکھتا ہوں۔ اردو زبان میں ’’کٹے،، کا لفظ بھی نہیں ہے بلکہ پشتو میں بھینس کے بچھڑے کو’’ کٹا،، کہتے ہیں ۔ اسی طرح وادی پشاور میں گوجر کا لفظ گجر قبیلے تک محدود نہیں بلکہ بھینسیں پالنے والے کو بھی گوجر کہا جاتا ہے ۔اس حساب سے میرے دادا اور نانا دونوں مہمند ہوکر بھی گوجر تھے ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں جو قبیلہ ہے ، وہ ’’گجر،، لکھا جاتا ہے جبکہ میں نے لفظ گوجر لکھا ہے لیکن فتوے اور توہین کا کلچر اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ایک صاحب نے اسے گوجر قبیلے کی توہین قرار دے کر اپنی صحافتی دکان چمکانے کے لئے دوسرے ہم قبیلہ لوگوں کو میرے خلاف ورغلانے کی کوشش کی ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے گجر قبیلے کا نہیں بلکہ بھینس پالنے والے "گوجر" کا ذکر کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بھینس پالنا شرم کی نہیں عزت کی بات ہے ۔ میرے باپ دادا نے خود بھینسیں پال رکھی ہیں اور بھینس تو کیا کوئی ہمارے پالے ہوئے کتے کو بھی مارتا تو ہمیں غصہ آتا۔ میری والدہ شہر میں منتقل ہونے سے شروع میں اس لئے انکاری تھیں کہ وہاں ہم اپنے گھر میں بھینس نہیں پال سکتے تھے ۔ کہاجاتا ہے کہ جانوروں کو پالنے والے اچھے لیڈر ثابت ہوتے ہیں ۔ گوجر تو ایک معزز قبیلہ ہے ۔کئی گجر میرے ذاتی دوست ہیں۔ کسی قبیلے کا تو کیا میں کسی انسان کی توہین کا بھی نہیں سوچ سکتا ۔ لیکن اسے توہین قرار دینے والوں سے عرض ہے کہ وہ اپنے گریبانوں میں جھانک کردیکھ لیں کہ ہم اس ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں ۔ کیا اس ملک میں اب نہ کوئی طنز ہوگا، نہ لطیفہ، نہ قول ، نہ ادب ، نہ شعر ۔ یہاں تو گجر قبیلہ زیربحث ہی نہیں ۔ میں اسی ’’جرگہ،، میں اپنے مہمند قبیلے سے متعلق لطائف نقل کر چکا ہوں تو کیا میں اپنے قبیلے کی خود توہین کررہا ہوں۔ جو صاحبان اپنے گجر برادری میں مشہور ہونا چاہتے ہیں یا کچھ خاص قوتوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، وہ میرے متعلق کوئی اور ڈرامہ تخلیق کریں ، یہ ہتھیار ان کا کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ گجر غیرت مند ، جنگجو اور حکمرانی کرنے والا قبیلہ ہے ۔ میں نے ان کی توہین نہیں کی ہے بلکہ جو لوگ کسی کا مہرہ بن کر ان دنوں گجر قبیلے کے کاندھے پر بندوق رکھ کر مجھے بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ، دراصل وہ گجر قبیلے کی توہین کررہا ہے ۔ کیوکہ گجر خوددار لوگ ہوتے ہیں ، وہ کسی کا مہرہ کبھی نہیں بن سکتے ۔
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں