بحر اسود میں امریکہ کی سُبکی

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سائبر جنگ اور برقیاتی جنگ روایتی ہتھیاروں یا متحرک ہتھیاروں کا توڑ ہے، اس طرح کہ اگر الیکٹرونک عمل کو کسی دوسرے عمل سے روک دیا جائے تو وہ خوفناک ترین ہتھیار تک بے کار ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں اِس کا مظاہرہ بحر اسود میں امریکی تباہ کن جہاز ڈونالڈ کک کے ساتھ پیش آیا جو کریمیا پر روس کے الحاق کے بعد امریکہ نے اپنی موجودگی اور طاقت کا اظہار کرنے کے لئے وہاں بھیجا تھا،ڈونالڈکک چوتھی نسل کا فلیٹ تباہ کن جہاز ہے اور تمام جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، اس پر کروز میزائل بھی نصب ہیں جو 2500 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ جوہری ہتھیار بھی لدے ہوئے ہیں، اِس جہاز پر Aegis بیلسٹک میزائل فٹ ہیں اور ایئرڈیفنس سسٹم سے بھی یہ جہاز آراستہ ہے کیونکہ اس میں 4 ریڈار نصب ہیں، جس کی وجہ سے وہ کسی حملہ آور جہاز کا پتہ چلانے اور اُس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِس جدید ترین جہاز کے تمام آلات کو 2 روسی ’’سو24‘‘ طیاروں نے قریب سے پرواز کرکے جامد کرنے والے نظام کو بروئے کار لا کر منجمد کردیا۔ نتیجہ میں یہ جہاز صرف لوہے کا پہاڑ بن گیا۔ یہ اطلاع 15 مئی 2014ء کو ایک روسی لکھاری آنٹن ولاگن نے ’’روسیا اسکایا گزیٹا‘‘ نامی اخبار میں لکھا کہ یہ تباہ کن جہاز اس رسوائی کے بعد رومانیہ کی طرف روانہ ہوگیا، جہاں پر جا کر جہاز کے عملے کے کوئی 27 افراد نے استعفیٰ دے دیا کہ ایسی بے بسی کی موت سے گھر بیٹھنا بہتر۔

اگر یہ خبر صحیح ہے تو امریکہ کی بڑی سبکی ہوئی ہے۔ اِس واقعہ کی تصدیق امریکہ کی طرف سے اس احتجاج سے ہوتی ہے کہ 2 روسی فضائی جہازوں نے اِس بحری تباہ کن جہاز کی طرف رُخ کیا اور اس طرح کہ امریکیوں کو یہ دکھا کر کے اُن کے پروں کے نیچے کوئی اسلحہ نہیں ہے، اس لئے امریکی جہاز کے عملے نے اُن کو اپنے قریب سے گزرنے دیا اور اُس کے بعد امریکی جہاز میں الیکٹرونک مشینوں سے نکلنے والے سگنل منجمد ہو گئے۔ روسی کالم نگار کے مطابق2 روسی جہازوں نے ڈونالڈکک کے 300 میٹر کے فاصلہ پر 12 مرتبہ کرتب دکھائے اور امریکیوں کی بے بسی میں مزید اضافہ کیا۔ منجمد کرنے والا نظام انتہائی جدید اور خطرناک نظام ہوتا ہے اسی لئے میں نے 2006ء کی ایک بریفنگ میں پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں سے 2 سوال کئے گئے تھے کہ ایٹم بم کی عمر کیا ہے تو جواب ملا، لامحدود، دوسرا سوال یہ تھا کہ منجمدی کے کیا امکانات ہیں تو جواب ملا ،وہ تو ہیں مگر ہمارے پاس ایسی مشینیں ہیں جو منجمدی کا توڑ کر سکتی ہیں یعنی فریکوئنسی بدل بدل کر نظام کو متحرک رکھا جاسکتا ہے کیونکہ میں نے اِس نظام کو خود دیکھا اور برتا ہے تو اِس کی اعتباری محدود ہے۔

اگر تمام فریکوئنسی ہی منجمد کردی جائے تو نظام تو ناکارہ ہوجائے گا۔ ڈونالڈکک جیسے عظیم الشان تباہ کن جہاز کو روسیوں نے منجمد کرکے بے بس کردیا تو ہماری وہ مشینیں جو ہم نے امریکہ سے یا یورپی ممالک سے لی ہیں وہ کس کام کی۔ روسیوں نے نظام منجمدی میں امریکہ پر اپنی برتری واضح کردی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ روس ہی نہیں امریکہ کے پاس بھی ایسا ہی یا اِس سے کم درجے کا نظام بہرحال موجود ہوگا اور یہ کہ اس کا مظاہرہ جلد ہی کریں گے، ابھی حال ہی میں امریکہ نے چین کے خلاف سائبر جنگ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ امریکی سائبر آرمی کے دستے چینی ہیکروں کے کمپیوٹر اور سرورز تباہ کردیں گے۔ دفاعی اداروں کے راز چرانے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح امریکیوں نے ایران کے ایٹمی نظام میں ایک وائرس ڈالا تھا جس نے ایران کے ایٹمی نظام کو کئی سال پیچھے کردیا تھا۔

اس کے بعد ایران نے امریکہ کے ادارے آرام کو سعودی عرب کے نظام میں وائرس پھینک کر اُسے مفلوج کردیا تھا۔ امریکہ نے ہارپ کا نظام وضع کرکے نہ صرف مصنوعی بارش، طوفان، سونامی اور زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے بلکہ اس نے اسی نظام سے پیدا ہونے والی چھوٹی شعاعوں کے ذریعے سے جہازوں کو روکنے، ان کا راستہ بدلنا یا کسی اونچائی یا نیچے لے جانے کی صلاحیت یا غیردرست سگنل کو قابو پانے اور میزائل یا ایئرکرافٹ کو تباہ کرنے اور سمندری لہروں کو قابو پانے جیسی تباہ کن قدرت حاصل کر لی ہے، جہاں یہ کم فریکوئنسی کی لہریں آبدوزوں سے پیغام رسانی کا کام کر سکتی ہے اور آبدوزوں کو پہلے سے زیادہ گہرائی میں رکھ کر بھی اُن سے رابطہ بحال رکھا جاسکتا ہے تو اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ایسے سگنل کو منجمد بھی کر سکتی ہیں۔ وہ ان لہروں سے انسانوں کے اذہان کو بھی قابو میں کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں وہ اسے ’’دی ملٹری مسٹری مشین‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ انہی لہروں کی وجہ سے کہا جاتا ہے 2003ء میں خلائی شٹل کولمبیا تباہ ہوگئی تھی۔ ہم چیختے رہے ہیں کہ اس ہارپ کی وجہ سے پاکستان میں 2005ء کا زلزلہ اور 2010ء کا سیلاب اور 2011ء کا جاپان میں سونامی آیا تھا۔ اسی طرح خود امریکہ میں 1998ء کا کترینا سمندری طوفان بھی انہی شعاعوں کا شاخسانہ کہا جاتا ہے، مگر سنی ان سنی کردی گئی، یہ بے حسی تھی یا بے بسی یا لا علمی معلوم نہیں۔

روسیوں نے اپنی برقی برتری کو بحر اسود میں ثابت کردیا ہے۔ اس سے امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا مگر امریکہ دوسرے ممالک کو زچ کرنے اُن پر اپنی دسترس مضبوط کرنے کے لئے بہت تباہی مچاتا ہے، جو مضمون ہمیں اپنے دوست نثار الحق کے ذریعے ملا ہے اُس کے مطابق روسی ریسرچ محکمہ کے سربراہ ولادی میر بیلی بن نے کہا ہے کہ دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے صرف یہ ضروری نہیں ہے کہ فضائی برتری حاصل ہو بلکہ ضروری یہ ہے کہ اُس کے بارے میں اطلاعات کے حصولیابی میں برتری حاصل ہو۔ اُن کا کہنا ہے کہ ‘‘خبینی’’ نظام منجمدی کے علاوہ جس کا مظاہرہ روس نے ڈونالڈکک کے سلسلے میں کیا۔ روسی دفاعی صنعت کے پاس ایسے اور بھی نظام موجود ہیں جو نہ صرف دشمن کو حیران کر دیں گے بلکہ وہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی استعمال ہوسکیں گے۔ ان کے پاس انفیونا ، نامی ایسا نظام ہے جو اگربکتر بند گاڑیوں پر لگا دیا جائے تو نصب شدہ بم اُن گاڑیوں کے جانے کے بعد ہی چلے گا اور دشمن کے تمام ریڈیو سگنل چاہے وہ کم فریکوئنسی کی لہریں ہوں یا بہت ہی کم فریکوئنسی کی لہریں ہوں، انہیں منجمد کردے گا۔ پاکستان کو ایسے نظاموں کی سخت ضرورت ہے اگر امریکہ یا روس سے ایسے نظام کو حاصل کرلیا جائے تو پاکستان کو دہشت گردی پر قابو پانا آسان ہوجائے گا۔

دوسرے جو اہم سوال ہے وہ یہ کہ ایٹمی اثاثوں اور ہمارے میزائل کو اگر کوئی منجمد کرے تو کیا اس کا ہمارے پاس کوئی جواب ہے؟ جہاز نہ اڑے اور میزائل ہی نہ چلے تو ہم کیا کریں گے، ہمیں یقین ہے کہ جو سوال میں نے 2006ء میں پوچھا تھا اُس کے بعد ہمارے اداروں نے اس پر کام کیا ہوگا اور کوئی نہ کوئی حل تلاش کرلیا ہوگا اگر نہیں تو اب کرنا ضروری ہے کیونکہ ٹیکنالوجی جس رفتار سے ترقی کررہی ہے اس رفتار کو پکڑنا ضروری ہے۔ ہم 1984ء سے جانتے ہیں کہ پاکستان میں الیکٹرونک وار فیئر کا ایک باقاعدہ محکمہ موجود ہے جو اِس قسم کے چینلجوں کا حل ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اسی سلسلے میں کام کررہا ہوگا اور وقت کے ساتھ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں لگا ہوگا۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس مقام تک پہنچا ہے بہرحال معروضی حالات میں اس سلسلے میں عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں