جدت پسندی، مغرب نوازی ہر گز نہیں

خالد المعینا
خالد المعینا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عرب نوجوانوں کے رجحانات کے حوالے سے حال ہی میں سامنے آنے والے ایک جائزے کے مطابق 46 فیصد نوجوان روایتی اقدار کو فرسودہ سمجھتے ہیں اور وہ اب جدید خیالات اور تصورات کو اپنا چاہتے ہیں۔

عرب نوجوانوں میں ان رجحانات اور تصورات کی تشکیل سالہا سال کے دوران بتدریج ہو سکی ہے۔ حتی کہ 2011 کی عرب بہاریہ کے دوران ابھرنے والے جذبات کے ساتھ صرف 17 فیصد نوجوان اس سے اتفاق کرتے تھے۔

تاہم یہ تازہ ترین جائزہ دبئی میں گفتگووں اور تبادلہ خیال سے آگے بحثوں کا موضوع بن چکا ہے۔ بحث کے اس نئے موضوع کا مرکزی خیال یہی ہے کہ جدید اور روایتی اقدار کو کن بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ اس بارے میں کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے کہ عرب معاشرے کی روایتی اقدار کیا ہیں یا جدید اقدار کی جامع تفہیم کیا ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ کہ ہمارے معاشرے میں ابھی یہ طے ہونا باقی ہے۔

اس لیے جب معاشرے کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کی بات کی جاتی ہے تو تنقید کے کوہ گراں اس کی راہ آکھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان ناقدین کے پاس منطق اور استدلال کی بنیاد پر اپنے موقف کی حمایت میں کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اعتراض عام طور غلط مفروضوں پر مبنی ہوتا ہے کہ جدیدیت پسند یا جدید ہونا اسلام کے خلاف ہے۔ حتی کہ چھوٹے اور کم اہمیت کے حامل جدید اقدامات اور رجحانات کو بھی بے بنیاد بدگمانیوں کی چھلنی سے گذرنا پڑتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی ایسے عمل کی تفہیم رکھتے ہیں جو جدیدیت کے ساتھ گہری وابستگی نہیں رکھتا اور یہیں سے مغالطہ پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ علاقائی سطح پر نقل و حمل کی ذمہ دار کمپنی '' آرامیکس'' کے بانی فادی غندور کا پوچھنا ہے کہ جدید اقدار کیا ہیں؟ کیا یہ انٹرنیٹ کا استعمال ہے، کیا یہ گاڑی چلانا ہے، کیا یہ سکرٹ نہ پہننا ہے، یا انگریزی میں بات چیت کر لینا جدت پسندی ہے؟

ان سوالوں کے جواب بہت سارے لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتے ہیں بلکہ انہیں بہت ساری وضاحتیں درکار ہوں گی۔ جدیدت کے خلاف بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو محض اس لیے مخالف ہیں کہ اس کے سوتے مغرب سے پھوٹتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اداروں یا افراد کے ہاتھوں گمراہ ہوئے ہیں، ان لوگوں کا خوف یہ ہے کہ جدت پسندی اختیار کر لی تو ہم مغرب زدہ ہو کر اپنی سماجی اقدار اور مسلم ثقافت پر سمجھوتہ کرنے والے بن جائیں گے۔

تاہم وہ یہ محسوس کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ جدیدیت اور مغربیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہم 21 ویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ دیر تک جدت پسندی سے الگ نہیں رہ سکتے۔ نہ ہی عورتوں کو معاشرے کا مفید حصہ بنانے کے معاملے کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ آج یہ قابل قبول نہیں رہا کہ خواتین سائنسدانوں اور نرسوں کے کردار کا احترام نہ کیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ وہ انسانی جانوں کے بچاٶ کے لیے کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ بھی حقیقت پسندی سے ہٹی ہوئی بات ہے کہ ہم فضائی میزبان خواتین کی تعریف نہ کریں کہ ہمارے سفر ان کی خدمات سے مزین ہوتے ہیں۔ نہ ہی ہم ان خواتین کے کردار کو کمتر مان سکتے ہیں جو ٹی وی پروگراموں کی پیش کار کے طور پر موجود ہوتی ہیں یا ٹی وی انٹرویو کے دوران اینکرز کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خواتین کے عوامی سطح پر کردار کو آج کے دن اور دور میں رد کر سکیں۔

یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے رویے تضاد کے آئینہ دار ہیں۔ ہم جدیدیت کے خلاف اپنی تنقید اور پراپیگنڈہ کے لیے مواصلات کے جدید ترین وسائل اور سوشل میڈیا کو بروئےکار لاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ تو حد سے گذرتے ہوئے جدیدیت پر حملہ آور ہونے کے لیے بازاری زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔ کیسا کھلا تضاد ہے کہ ہم جدید ترین ذریعہ ہائے ابلاغ فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس اپ کو استعمال کرتے ہیں اور جدیدت کو ہی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

یہ ماننا ہو گا کہ ثقافت اور ذیلی ثقافتوں میں ہر جگہ فرق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں بھی فرق ہے۔ مثال کے طور پر خواتین کے معاشرے میں کردار کو جذب کرنے کے حوالے سے، بچوں کی پرورش اور ملازمین کے ساتھ برتاٶ یا ان کے علاج معالجے کی ترجیحات ہمارے ہاں ہر علاقے میں مختلف ہیں۔ ایسے لوگ اور علاقے بھی ہیں جنہوں نے دوسروں کے ساتھ رابطے یا معاملات کرنے کیلیے جدید طریقے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو ابھی نئے طریقوں یا تدابیر کے حوالے سے سرگرداں ہیں۔

دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ اس تبدیل شدہ دنیا نے تعلیم و تعلم کے طریقے اور دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو اور انداز سے طے کر دیا ہے۔ کیا اس ماحول میں ہم ان اقدار کو اپنا کر اپنے مذہب کے خلاف جا رہے ہیں۔؟ اس سوال کا جواب ایک زوردار نہیں ہے کیونکہ ہمارے مذہب کا مرکزی خیال رویے سے متعلق ہے۔ ہم نے اجتہاد اور منطق کے دروازے عرصے سے بند کر دیے ہیں۔ نتیجتا ہمارے دانشوروں اور اساتذہ کے درمیان بھی استدلال اور دانشورانہ مکالمے معدوم ہو رہے ہیں۔ ہمارے مذہبی شدت پسند علماء سخت تیور لیے ہوئے ہیں۔

معاشرے میں بہت سے لوگوں کے لیے آسان یہ ہے کہ وہ تبدیلی کو قبول نہ کریں اور کسی بھی نئے تصور کو مغربیت پسندی یا مغرب کے رنگ میں رنگے جانے کا نام دے کر اس پر حملہ آور ہو جائیں۔ تاہم یہ ہم سب کے لیے سمجھنے کی بات ہے کہ ہمیں مسلم اقدار پر سمجھوتہ کر کے مغربی طرز زندگی کو ترقی اور جدت کے نام پر اختیار نہیں کرنا ہے۔ نیز یہ کہ جدیدیت مغربیت کے ہم معنی نہیں ہے، نہ ہی جدت پسند ہونے کا مطلب مغرب زدہ ہونا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں