پاکستانی کیمپ

عبداللہ طارق سہیل
عبداللہ طارق سہیل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

نریندر مودی کی دعوت پر وزیراعظم آج دھلی میں ہوں گے۔ ان کا فیصلہ بالکل درست ہے اور پاکستان کے فائدے میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف کو نقصان ہو جائے۔ نواز شریف بھارت جانے سے انکار کر دیتے تو بھارت کو موقع مل جاتا کہ پاکستان کو انتہا پسند، ہٹ دھرم بلکہ بے تہذیب ثابت کرنے کی مہم تیز کر دے۔ یہ مہم تو اس نے عرصے سے چلا رکھی ہیجو اب دو شاخہ ہوگئی ہے۔ وہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستانی فوج اور حکومت میں لڑائی چل رہی ہے۔ ایک سابق بھارتی جرنیل کی شرارت دیکھئے، افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پر حملہ ہواجس میں کئی لوگ مارے گئے اور عمارت کو نقصان پہنچا اگرچہ مرنے والوں میں کوئی بھارتی نہیں تھا۔ بھارت کے سابق ڈپٹی آرمی چیف جنرل راج کا دیان نے بیان دیا کہ یہ حملہ نواز شریف کو دھلی آنے سے روکنے کے لئے کیا گیا۔ صاف لفظوں میں بھارتی جرنیل یہ الزام لگا رہا ہے کہ حملہ پاک فوج نے کرایا۔

یہ شرارت جھوٹ سے بھری ہے۔ اس لئے کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں اور مفادات پر حملے کئی برسوں سے جاری ہیں اور ساری دنیا بشمول امریکہ کو پتہ ہے کہ یہ حملے افغان طالبان کر رہے ہیں جنہوں نے13 سال کی طویل، صبر آزما اور نہایت مشکل بلکہ ناممکن جنگ کے بعد امریکہ کو وہاں سے بھاگنے پرمجبور کر دیا ہے۔ بھارت امریکی انخلاء کے بعد جو سہانے خواب دیکھ رہا ہے، اسے بکھیرنے کے لئے افغان طالبان ابھی جو کچھ کریں گے اسکا بھارت کے کسی ترویدی کو پتہ ہے نہ چترویدی کو لیکن کیا بھارتی جرنیل ان سب حملوں کو بھی پاکستانی فوج کے سر مڑھ دے گا؟ ایسا کرے گا تو دنیا اسے پاگل سمجھے گی۔ پاگل تو وہ ہے ہی جو سمجھ رہا ہے کہ وہ طالبان کی کارروائی پاکستان کے سر تھوپ دے گا اور دنیا مان لے گی۔اورطالبان کی جنگ اس حد تک کامیاب ہوئی ہے کہ امریکہ نے دو روز پہلے یہ غیر متوقع اعلان بھی کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں مستقل اڈّے بھی نہیں رکھے گا یعنی کامل پسپائی۔

نواز شریف کے اس دورے پر قومی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ تمام جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے جن میں تحریک انصاف بھی شامل ہے ۔ کچھ لوگ خیال کر رہے تھے کہ تحریک انصاف اس دورے کی مخالفت کرے گی لیکن یہ خیال غلط نکلا اور لگتا ہے کہ کم سے کم اس قومی معاملے پر تحریک انصاف نے زید سرخ ٹوپ کی ’’ڈکٹیشن‘‘ ماننے سے انکار کر دیا۔ کسی بھی جماعت نے مخالفت نہیں کی البتہ نالہ لئی کی سرکار نے زید سرخ ٹوپ کا سکھایا ہوابے سرا راگ الاپا ہے لیکن ظاہر ہے وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں، وہ محض یک رکنی سرکار ہیں، وہ بھی نالہ لئی کے مشرقی ساحلی علاقوں کی۔ جماعت الدعوۃ بڑی جماعت ضرور ہے لیکن وہ سیاسی جماعت نہیں ہے اور کشمیر پر اس کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ وہ بھارت کے دورے کی حمایت نہ کرے اگرچہ مخالفت کا اعلان بھی اتنا ضروری نہیں تھا۔


بہرحال، دورے پر جانے یا دورے کی حمایت کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ معاملے کو بھارت سے اچھی ہمسائیگی کی خواہش سے کچھ زیادہ بنا دیا جائے یا سمجھا جائے۔ بھارت وہ بدنیّت ملک ہے کہ حالت جنگ میں بھی وار کرتا ہے اور حالت امن میں بھی۔ اگرچہ اسے وار کرنے کا موقع ہمی دیتے ہیں۔ مثلاً ہم نے بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا تو اسے بنگالیوں کا ‘‘نجات دہندہ’’ بننے کا موقع مل گیا، ہم نے بلوچوں کا قتل عام کیا اور بھارت نے وہاں ایجنٹ تلاش کر لئے۔ یوں کہنا چاہئے کہ بھارت نے ایجنٹ نہیں بنائے۔ مشرف علیہ ما علیہ نے دھکے مارمار کر بلوچوں سے کہا کہ جاؤ بھارتی ایجنٹ بن جاؤ۔ شاید کچھ لوگوں کو یاد ہوگا کہ سقوط ڈھاکہ پر ایک تبصرہ سب پر جامع تھا اور ایسا بے مثال بھی کہ کوئی اور آج تک اس سے بڑھ کر تبصرہ نہیں کر سکا۔ یہ تبصرہ مولانا مودودی ؒ کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کب الگ ہوا، اسے تو ہم نے دھکے مار مار کر الگ ہونے پر مجبور کیا۔ یہی دھکے دے دے کر الگ کرنے کا کھیل اب بلوچستان اور پٹھانوں کے علاقوں میں جاری ہے۔

کل ہی اسلام آباد میں قبائلی بچوں نے مظاہرہ کیا ہے ان کا مطالبہ ان کے پلے کارڈز پر لکھا ہوا تھا۔’’ معصوم پشتونوں کو قتل مت کرو‘‘۔ لیکن ہم کہاں ماننے والے ہیں۔ ہم تو انتظار کرنے والے ہیں کہ کل کوئی اور مولانا مودودیؒ کی طرح کا جامع تبصرہ کرے۔
’’بھارت سے ہمارا جھگڑا صرف مسئلہ کشمیر کا ہے’’ ۔ یہ فقرہ بہت لوگ کہتے ہیں اور نہ جانے کتنے اخباروں ، رسالوں اورمقالوں میں لکھا ہوا بھی ملے گا۔ لیکن یہ جزوی سچ ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ یہ کلی جھوٹ ہے جس کا ایک جزو سچ ہے۔ صرف کشمیر نہیں، بھارت نے ہمارے دریا بھی ہتھیار کھے ہیں جو ایوب خاں (خدا اسے اس کے کارناموں کا جامع اجر عطا فرمائے ) نے اسے تحفے میں دے دیئے تھے۔ یہ ایوب خاں بھی کیا سخی چیز تھا۔ دریا بھارت کو دیئے، بلوچستان کا تیل والا علاقہ رضا شاہ پہلوی کو دان کر دیا اور 1965ء کی جنگ میں کارگل وغیرہ کے علاقے بھی بھارت کے حوالے کر دیئے۔ یہ الگ بات ہے کہ سوویت یونین (آنجہانی) کو پتہ نہیں کیا سوجھی، اس نے معاہدہ تاشقند میں یہ علاقے پاکستان کو واپس دلوادیئے۔ ایوب خاں نے تخت و تاج اپنے ‘‘ولی عہد’’ جنرل یایا خاں کے حوالے کیا، اور اس یایا خاں نے ٹیکا خاں سے مل کر1971ء کی جنگ میں کارگل پھر بھارت کے حوالے کر دیا،‘‘ لالہ بنگال آپ کا ہوا لیکن 1965ء میں آپ کی یہ چیز بھی غلطی سے ہمارے پاس رہ گئی تھی’’۔ بہت بعد میں پرویز وں کا پرویز آیا اور اس نے کشمیر کاز کی گردن ہی کاٹ دی! اس کے علاوہ بھارت کی نیت کا جھگڑا بھی ہے۔ وہ پاکستان کو اپنے اندر ضم کرنے یا اسے نیپال، بھوٹان بنانے کے سپنے دیکھنے سے کبھی باز نہیں آیا۔

کشمیر کاز جب بھی زندہ ہوا،( صرف ایک ضیاء الحق مرحوم کے استثنیٰ کے ساتھ) جمہوری دور ہی میں زندہ ہوا۔ نواز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کا دن شروع کر کے اسے پھر سے عالمی مسئلہ بنا دیا۔ ان سے پہلے ضیاء الحق مرحوم جہاد کشمیر شروع کرچکے تھے اور قریب تھا کہ بات فیصلہ کن موڑ مڑ جاتی لیکن پرویز کے آقا امریکہ نے ان کا جہاز اڑا دیا۔مشرف نے آکر جہاد کو دہشت گردی کا ہم معنے بنا دیا اور کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔

اس کے دور میں کشمیر کا نام لینے والے لاپتہ کر دیئے جاتے تھے۔ پرویز اپنی جملہ پرویزکاریوں سمیت تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور پاکستان میں پھر جمہوری حکومت ہے۔ اس نے کشمیر کاز کو پھر سے زندہ نہیں کیا تو تاریخ میں اس کا نام ایوب یایااور مشرف والے کھاتے میں لکھا جائے گا۔ کشمیر کاز کو زندہ کرنے کایہ ایک ہی مطلب نہیں ہے کہ بھارت پر چڑھ دوڑو۔ سفارتی اور نفسیاتی راستے بھی ہیں۔اصولاً تو پاکستان کو اس حالت میں ہونا چاہئے کہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو ٹیڑھی کرنے کی دھمکی دے سکے اور پوزیشن ایسی ہونی چاہئے کہ لوگ دھمکی کو سنجیدہ لیں۔ بدقسمتی سے مشرف نے امریکی ہدایت پر فاٹا اور بلوچستان بلکہ پورے ملک میں وہ مار دھاڑ شروع کی کہ اب پاکستان دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

جمہوری حکومت کم سے کم پاکستان کی دھمکی دینے والی پوزیشن تو بحال کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف پر زید لال ٹوپ نے پتہ نہیں کیا ڈورے ڈالے ہیں کہ وہ مارشل لاء لگاؤ ملک مکاؤ کی نادانستہ حصہ دار بن گئی ہے۔ نواز شریف بڑے ہونے کے ناطے تحریک انصاف کو واپس پاکستانی کیمپ میں لائیں۔ یہ مبارک بات ہے کہ پیپلزپارٹی سے لے کر اے این پی تک اور جے یو آئی سے جماعت اسلامی تک سبھی سیاسی جماعتیں پاکستانی کیمپ میں کھڑی ہیں، تحریک انصاف آدھی اس کیمپ کے اندر ہے، آدھی باہر، اسے پوری طرح اس کیمپ میں نواز شریف لا سکتے ہیں۔ ایسا کرنا کشمیر کاز اور بھارت سے باعزّت تعلقات کیلئے ضروری ہے۔دھاندلی کے بارے میں تحریک انصاف کی شکایات دور کرنے میں کیا خرابی ہے۔ شکایات دور ہونے کے باوجود تحریک کا رویہ نہ بدلے تو پھر سمجھا جا سکتا ہے کہ لال ٹوپ کا وائرس لاعلاج ہو چکا۔

لال ٹوپ دھوکہ دے رہا ہے۔ اس نے کنٹینر والے مولانا کو یقین دلا رکھا ہے کہ چند ماہ بعد تم وزیراعظم بنو گے اور یہی یقین دہانی تحریک انصاف کو بھی کرا رہا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ایسا ہی وعدہ اس نے چھوٹے مٹی پاؤ سے بھی کر رکھا ہے جس کے بعد سے چھوٹے مٹی پاؤ کی انگڑائیاں دیکھنے کے قابل ہیں۔ انگڑائی تو مولانا کی بھی قابل دید ہوگی لیکن کیا کیجئے، کینیڈا سے کوئی لائیو فوٹیج فی الحال نہیں آرہی ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ ‘‘نئی بات’’

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں