.

وزیر اعلیٰ، پروٹوکول اور لنگر نذرانہ

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو لاہور پولیس کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ناکے پر اُس نے صرف لنگر کے لئے نذرانہ طلب کیا، بلیو بک کے مطابق سکیورٹی اور پروٹوکول نہ لینے کے جرم میں اپنے وزراء شاہ فرمان، عاطف خان اور شاہرام خان سمیت حوالات نہیں بھیجا اور رنگدار شیشوں والی گاڑی سے ہیروئن، چرس اور غیرقانونی اسلحہ برآمد نہیں کیا ورنہ یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
میاں خورشید محمود قصوری کے گھر جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور ان کے ساتھی وزیر وارد ہوئے تو صحافیوں میں سے کسی کو ان میں سے کوئی وی آئی پی نہیں لگا۔ سادہ لباس، مسکین سے شریفانہ چہرے، ہر ایک سے مصافحہ و معانقہ اور بے تکلف جملوں کا تبادلہ۔ ہوٹر کا شور نہ ہٹو بچو کی آوازیں اور نہ سکیورٹی گاڑیوں کی قطار، کوئی سڑک بند ہوئی نہ کسی نے آنے والوں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا۔ عندلیب عباس کی بریفنگ میں بھی خوشامدی جملے عنقا۔ پاکستان اور پنجاب میں کہیں حکمران ایسے بھی ہوتے ہیں، جھوٹے کہیں گے۔

کہنے کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاہور اور پنجاب میں حالات اس قدر پرامن اور پرسکون ہیں کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ سکیورٹی کے بغیر گھوم پھر سکتا ہے لیکن اگر واقعی اس پر یقین کر لیا جائے تو پھر ہمارے اپنے صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کو کس بات کا ڈر ہے۔ وہ درجنوں سکیورٹی گاڑیوں اور سینکڑوں پولیس اہلکاروں کے حصار میں کیوں باہر نکلتے اور ان کے اہل خانہ، دور پرے کے رشتے دار، نوکر چاکر کس بنا پر حفاظتی انتظامات کے بغیر باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ دہشت گردوں، تخریب کاروں اور جرائم پیشہ افراد کا خوف ہے یا اپنے ووٹروں، کارکنوں اور مہنگائی، بدامنی، بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام کی طرف سے گریبان پر ہاتھ پڑنے اور کسی ناکے پر پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہونے کا ڈر۔

پنجاب میں پولیس ہمیشہ سے ایسی تھی نہ یہاں کے سارے حکمران سکیورٹی، پروٹوکول اور تام جھام کے رسیا۔ جس دور میں درویش وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کا قافلہ ہٹو بچو کی آوازوں میں پنجاب کی سڑکوں کو روندا کرتا تھا، انہی کے گورنر میاں اظہر کسی قسم کی سکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر گورنر ہائوس سے نکلتے، ہر اشارے پر رکتے، کسی سگنل پر کوئی شناسا کھڑا نظر آتا تو آواز دے کر بلاتے، گاڑی میں بٹھاتے اور آئوٹ فال روڈ والے ڈیرے یا گارڈن ٹائون پہنچ جاتے۔ سردار عبدالرب نشتر مرحوم کے تو بچے سائیکل پر گورنر ہائوس سے نکل کر اپنے سکول جاتے۔ ایک سپاہی ساتھ نہ ہوتا مگر اب حکمرانوں کے بچوں کی سکیورٹی پر بھی درجنوں اہلکار تعینات ہیں۔

ملک معراج خالد نگران وزیر اعظم بننے سے قبل بھی کئی اعلیٰ صوبائی اور وفاقی عہدوں پر فائز رہے۔ وزیر اعلیٰ اور سپیکر مگر وزیر اعظم کے طور پر اسلام آباد سے لاہور آتے تو اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے۔ ایئر پورٹ سے بیڈن روڈ پہنچ جاتے، ایک بار انہیں چوک میں پولیس نے روک لیا کہ گورنر طارق رحیم کی سواری گزرنے والی ہے۔ ملک صاحب نے فون پر طارق رحیم سے کیا کہا،قارئین کو بخوبی علم ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا صدارتی قافلہ دو حفاظتی جیپوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ حکمرانوں کو یہ مرض بھٹو دور میں لاحق ہوا اور پھربڑھتا گیا حالانکہ اس وقت ملک میں دہشت گردی تھی نہ بدامنی کا دور دورہ۔ یہ دہشت گردی اور بدامنی بھی انہی خوفزدہ اور بزدل حکمرانوں کی دین ہے۔

کوئی مانے نہ مانے ہمارے سول اور فوجی حکمرانوں کا شوق اور جذبہ نمود و نمائش سکیورٹی اور پروٹوکول میں اضافے کا باعث بنا یا پھر پولیس اور انتظامیہ نے حکمرانوں کو خوف میں مبتلا کر کے انہیں عوام سے دور رکھنے اور اپنے لئے بھی ایسی ہی سکیورٹی اور پروٹوکول کو یقینی بنانے کی سازش کی ورنہ جن حکمرانوں نے یہ روگ نہ پالا وہ بھی زندہ سلامت رہے اور آج تک لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ سکیورٹی کے اس انداز سے عوام خوفزدہ ہوتے ہیں اور دہشت گردوں، مجرموں کے حوصلے بلند کہ وہ حکومتی رعب و دبدبہ اور احساس تحفظ کمزور کرنے میں کامیاب رہے۔ بھلا جس ملک اور صوبے کے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا دوسرے عہدیدار کو جان اور خاندان کے لالے پڑے ہوں، وہ کسی مخبوط الحواس مخبر کی رپورٹ پر طے شدہ مصروفیات ترک کر کے گھر میں دبک کر بیٹھ جائے، ڈاکٹروں کی طرف سے بیڈ ریسٹ کے مشورے یا سرکاری مصروفیت کا بہانہ بنا کے وہاں کےعوام، سرکاری اہلکار اور پولیس افسران کس طرح تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بزدلوں کی رعایا بہادر ہو تو انہیں سرداری کا منصب کیوں سونپے۔

دہشت گردی کا شکار سب سے زیادہ خیبر پختونخواہے۔ شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان سے ملحق اس صوبے میں اے این پی کے ایک وزیر بشیر بلور، تحریک انصاف کے وزیر اسرار گنڈا پور اور کئی ایم پی ایز سمیت اہم لوگ دہشت گردوں کی کارروائی کا نشانہ بنے مگر پرویز خٹک کی جرأت رندانہ ہے، سرکاری وسائل اور نفری اپنی حفاظت کے لئے مختص نہ کرنے کی پالیسی یا موت و حیات کا فیصلہ کرنے والے ربّ پر پختہ ایمان کہ وہ حفاظتی اداروں کی تسلی کے لئے دو سکیورٹی گاڑیوں کے ساتھ اور ان کے وزراء بغیر کسی سکیورٹی کے گھومتے ہیں جبکہ پنجاب میں کونسلر سطح کے لیڈروں اور پولیس انسپکٹروں کا کروفر دیدنی ہے۔ آئی جی آفس کی سکیورٹی وزیر اعلیٰ ہائوس کے برابر ہے، سڑک بند اور گیٹ پر امریکی سفارت خانے کی طرح چیکنگ کا نظام، باقی پولیس افسران اور دفتروں کا بھی یہی حال ہے۔

کسی زمانے میں پنجاب پولیس کی شہرت یہ تھی کہ وہ اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہے اور چھوٹے سے چھوٹے بڑے سے بڑے مجرم کو پاتال سے نکال کر مال مسروقہ یا آلہ واردات برآمد کرنے میں یدطولیٰ رکھتی ہے مگر سفارشی بھرتیوں، مٹھی چاپی اور چائے پانی پر ترقیوں اور جرائم پیشہ افراد و گروہوں کی خواہش کے مطابق تعیناتی کا کلچر عام ہونے کے بعد یہ صرف حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کی پروٹوکول ڈیوٹی دینے کے قابل ہےیا سائیکل اور موٹر سائیکل سوار شہریوں کی جیبیں خالی کرانے کی اہل۔ ناکے بھی آمدنی کا ذریعہ ہیں ، لنگر کے لئے نذرانہ وصول کرنے کے اڈے۔

یہ ناکے بھی خوب ہیں۔ رات کے وقت چھوٹی سی ٹارچ سے آنے جانے والے کی شناخت کی جاتی ہے اور کہاں سے آ رہے ہو، کہاں جا رہے ہو کے سوالات پوچھنے کی مشق۔ فوجی علاقوں میں چیکنگ کا نظام البتہ بہتر ہے اور حکمرانوں کے گھروں دفتروں کے باہر جانچ پڑتال سخت۔ عام آدمی جائے بھاڑ میں وہ سڑکوں پر لٹے یا دکان، دفتر اور گھر میں۔ چوروں، ڈاکوئوں، رہزنوں، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں، قبضہ گروپوں اور بے حیائی کے اڈے چلانے والوں سے کوئی پوچھنے والا ہے نہ شرفا کی بہو بیٹیوں کی عزتیں پامال کرنے والے بھیڑیوں، بدمعاشوں، بدقماشوں کو قانون کے شکنجے میں کسنے والا۔ پروٹوکول ڈیوٹی کے بعد پولیس مال پانی بنائے یا ان کی حفاظت کرے جو شور مچانے کے قابل ہیں نہ کسی کا گریبان پکڑنے کے روادار۔ میاں شہباز شریف ذاتی طور پر تام جھام کے قائل نہیں کسی زمانے میں چھوٹی سی گاڑی میں گھوما پھرا کرتے تھے مگر پھر ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔

جب لوگ تعلیم، صحت، جان و مال کی حفاظت اور صاف پانی، عزت نفس کو بھول کر فلائی اوورز، میٹرو بس اور انڈر پاسز کے علاوہ جہازی سائز سڑکوں کی تعمیر پر خوش ہیں اور وہ حکمرانوں کے چمکتے دمکتے، شور مچاتے قافلے دیکھ کر تالیاں بجانے میں مشغول تو کسی کو ان کی حفاظت، پالیسی سازی اور مستقبل بینی کی فکر کیوں ہو ۔ کونسلر سطح کے لیڈروں کی سوچ گلیوں، نالیوں پلوں سے آگے جا ہی نہیں سکتی۔ پولیس اہلکار جب دیکھتے ہیں کہ ان کے حکمران نگر نگر، ملک ملک نذر اللہ نیاز حسین کی صدائیں لگا کر ڈالر اکٹھے کر رہے ہیں تو وہ لنگر کے لئے نذرانہ طلب کیوں نہ کریں۔ الناس علیٰ دین ملوکھم۔

غلطی پرویز خٹک اور ان کے ساتھیوں کی ہے۔ شکر ہے پولیس نے صرف لنگر کا نذرانہ مانگا بلیو بک کی خلاف ورزی پر پرچہ نہیں کاٹا۔ وہ میاں شہباز شریف سے کس طرح شکایت کرتے، پروٹوکول نہیں لیتے تو پولیس کو بھی خود بھگتیں۔ اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.