پاک بھارت تعلقات۔ امکانات اور خدشات

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ ایسے ویسے نہیں بلکہ اٹل بہاری واجپائی سے کئی گنا زیادہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ ۔ اتحادی ان کے ساتھ بھی تھے اور اِن کے ساتھ بھی ہیں لیکن ان کی جماعت کو تنہا بھی سادہ اکثریت ملی ہے اور حکومت بنانے یا چلانے کے لئے وہ کسی اور قوت کے محتاج نہیں ہیں۔ گویا ان کو کم وبیش وہ پوزیشن مل گئی ہے جو 1997ء کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں میاں نوازشریف کو مل گئی تھی۔نریندر مودی کی اٹھان انتہاپسند ہندو تنظیم سے ہوئی ہے ان کا ماضی ہندو انتہاپسندی اور مسلمانوں کو دبانے کی کوششوں سے عبارت ہے۔ان کی جماعت نے 482 امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں صرف سات (7) مسلمان تھے لیکن کوئی ایک مسلمان امیدوار بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ اس بی جے پی کے وزیراعظم بن گئے جو پاکستان کے خلاف نہ صرف جارحانہ موقف کی حامل رہی ہے بلکہ اس کے خوف سے ہی گذشتہ سالوں کے دوران کانگریس کی حکومت‘ پاکستان کی طرف سے تعلقات کی بہتری کی کوششوں کا محتاج انداز میں بھی مثبت جواب نہ دے سکی ۔

اب ایسے عالم میں جبکہ پاکستان بے تحاشہ اندرونی مشکلات میں گرا ہوا ہے‘ نریندر مودی جیسے فرد کی سرکردگی میں بی جے پی کا حکمران بن جانا ‘پاکستان کے لئے خطرے کی علامت ہے لیکن تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان سے متعلق تعلقات کی بہتری کا کوئی انقلابی فیصلہ نریندر مودی جیسا ہندو قوم پرست سیاستدان ہی کرسکتا ہے۔ جس طرح پاکستان میں کسی غیرپنجابی لیڈر کے لئے ہندوستان کو کوئی رعایت دینا اس خوف سے آسان نہیں ہوتا کہ اسے غدار قرار دیا جائے گا‘ اسی طرح ہندوستان میں بھی واجپائی‘ ایڈوانی یا مودی جیسے لوگوں سے ہی کسی بڑے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔

کانگریس کی بدترین شکست اور بی جے پی کی تاریخی کامیابی کی وجہ خارجہ پالیسی یا پاکستان کے ساتھ تعلقات نہیں بنے بلکہ معیشت ہی نے سیاست اور انتخابی نتائج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مودی مسلمان اور پاکستان مخالف مشہور ضرور تھے لیکن لوگوں نے ان پر ووٹوں کی بارش اس بنیاد پر نہیں کی بلکہ گجرات میں بطور وزیراعلیٰ ترقی اور امن و امان کے ضمن میں ان کی کامیابی ہی ان کی موجودہ کامیابی کی بنیاد بنی اور ان کی ترجیح بھی ملکی معیشت ہی ہو گی جس کے لئے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ضروری ہیں۔ نریندر مودی ایک غریب باپ کے بیٹے ہیں اور غریب ہندوستان ہی نے ان کو ووٹ دیئے ہیں لیکن گزشتہ انتخابات میں وہ امیروں کے نمائندے بنے تھے ۔ ہندوستان کا کارپوریٹ سیکٹر ان کو سپورٹ کررہا تھا اور ان کے انتخابی مہم کے اخراجات کانگریس کے مقابلے میں بہت زیادہ تھے۔ پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور تجارت کا فروغ سب سے زیادہ اسی کارپوریٹ سیکٹر کی ضرورت ہے اور جنگ سے سب سے زیادہ یہی سیکٹر خوفزدہ رہتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سیکٹر انقلابی اور غریب گھرانے کے مودی پر دبائو ڈالے گا کہ وہ پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرے۔

ہندوستان کے لئے ایک اور مسئلہ اور پاکستان کے لئے غنیمت مودی کا سابقہ امیج ہے۔ گجرات کے فسادات اور ان کے ماضی کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کا عالمی امیج بہت خراب ہے۔ وہ ایک ریاست کے وزیراعلیٰ تھے لیکن امریکہ جیسے ملک میں ان کے داخلے پر پابندی تھی جوان کے وزیراعظم بننے کے بعد ختم کردی گئی۔ عالمی سطح پر اپنے امیج کو بحال کرنے کے لئے بھی نریندر مودی کو بہت پاپڑ بیلنے ہوں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی سپورٹر تنظیم آر ایس ایس کی ناراضی مول لے کر اور مخالفین کی بھرپور تنقید کو دعوت دے کر انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو مدعو کیا۔ دوسری طرف میاں محمد نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں جو کشمیری النسل پنجابی ہیں اور ظاہر ہے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں اگر وہ کوئی جارحانہ اقدام کرے گا تو ان کی حب الوطنی پر زیادہ حرف نہیں آئے گا۔ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے زبردست حامی ہیں اور خود ہندوستان میں بھی ان سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔

مودی کی دعوت کو قبول کرکے انہوں نے رسک پر مبنی انقلابی قدم اٹھایا ہے اور اگر وہ نریندر مودی کی ثانی الذکر پوزیشن سے فائدہ اٹھاکر وہ ہندوستان کے ساتھ تنازعات کے حل اور تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیاب ہو گئے تو انہیں پاکستان ہی کا نہیں پوری جنوبی ایشیاء کا محسن تصور کیا جائے گا تاہم اگر عجلت یا بے احتیاطی سے کام لیا گیا تو نہ صرف یہ ان کے لئے اور ملک کے لئے خطرناک ثابت ہوگا بلکہ مستقبل قریب میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے امکانات بھی معدوم ہوجائیں گے ۔ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل میاں صاحب کو چاہئے کہ وہ فوج کو حقیقی معنوں میں اعتماد میں لیں اور جن داخلی ایشوز پر تنائو موجود ہے ‘ ان پر بھی ہم آہنگی پیدا کرلیں۔اگر موجودہ تنائو اور اختلافِ نظر کے ہوتے ہوئے ہندوستان کے محاذ پر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی تو نہ صرف مثبت نتیجہ نکلنا مشکل ہے بلکہ الٹا داخلی محاذ پر بھی فساد ہوسکتا ہے۔

وزیر اعظم کے بارے میں اب کے بار یہ تاثر عام ہے کہ وہ امریکہ‘ چین اور ہندوستان جیسے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں متعلقہ اداروں یعنی دفتر خارجہ وغیرہ کو استعمال کرنے کے بجائے خاندانی اور ذاتی دوستوں کے چینلز کو استعمال کررہے ہیں ‘ جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس لئے جو بھی قدم اٹھایا جائے‘وہ فوج کے ساتھ مشاورت کے ساتھ دفتر خارجہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے پارلیمنٹ اور قومی قیادت کو آن بورڈ لے کر اٹھایا جائے۔میری رائے میں اس لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل دلائل کے ساتھ ان افواہوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہندوستان کے سلسلے میں کسی رعایت کو قوم شک کی نظروں سے نہ دیکھے۔

شہاب الدین شہاب بیرون ملک مقیم ہمارے دوست اور کاروباری شخصیت ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھرپور کاروباری مصروفیات کے باوجود انہوں نے قلم و قرطاس کے ساتھ اپنے رشتے کو برقرار رکھا ہے ۔ محترم بھائی حامد میر صاحب کے بارے میں انہوں نے ایک نظم لکھی ہے ۔ گزشتہ ہفتے ان سے یواے ای میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے وہ اشعار سنائے ۔ آپ بھی ملاحظہ کرلیجئے اور میرے ساتھ محترم حامد میرصاحب کی جلد صحت یابی کی دعا میں شریک ہوجائیے۔

ایک نظم حامد میر کے نام
ظلم ڈھاتے رہو پر سنو ظالمو
ہم نہ پیچھے ہٹے نہ ہٹیں گے کبھی
تیرے جوروستم ہم سہیں گے صدا
تیرے ناحق کو حق نہ کہیں گے کبھی
تم نے ہر موڑ پر خون سچ کا کیا
تم جلاتے رہے نفرتوں کا دیا
خون ناحق یہاں تم بہاتے رہے
جو ہیں مجبور ان کو ستاتے رہے
تیرے زنداں گواہ ہیں ستم کے تیرے
پھر بھی سمجھو کہ دامن تیرا صاف ہے
لاشے بکھرے ہیں غربت کے پھر بھی کہو
خون ان کا ہے ارزاں ہمیں معاف ہے
جرم ہم سے ہوا یہ کہ سچ کہہ گئے
جو کہا تم نے سننے سے ہم رہ گئے
ہے وطن سے محبت ہمیں بھی سنو
دوش اپنا کہ اس پیار میں بہہ گئے
ہم نے مجبور و مظلوم کی بات کی
ترجمان بن گئے ان کے جذبات کی
خون مظلوم کی بن کے آواز ہم
لکھ گئے داستاں بحرظلمات کی
ہم سے مدح سرائی نہ ہوگی کبھی
تم کسی اور کو اس کی خاطر چنو
ہم ہیں اہل جنوں سن لے اہل ستم
چاہے جس طرح سے جال اپنے بنو
بس یہ باتیں زبان پر شہاب آگئیں
گرچہ دل میں کئی اور طوفان ہیں
ہے دعا یہ کہ وہ بھی سمجھ لے ہمیں
اشک مظلوم سے جو بھی انجان ہیں
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں