ترک اپوزیشن کو صدارتی امیدوار کی تلاش

ڈاکٹر فرقان حمید
ڈاکٹر فرقان حمید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ترکی میں تیس مارچ 2014ء کے بلدیاتی انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کی توقع سے بڑھ کر کامیابی نے ایک طرف وزیراعظم ایردوان کے لئے صدارتی امیدوار ہونے کی راہ ہموار کر دی تو دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کو آپس میں اتحاد کرتے ہوئے مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہنے کا پیغام دے دیا۔

ترکی کے دس اگست 2014ء کے صدارتی انتخابات میں ایردوان کے مدِمقابل اپوزیشن امیدوار کے کامیابی کے امکانات بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں اسی لئے اپوزیشن جماعتیں کسی ایسے امیدوار کی تلاش میں اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں جو ترکی کے مردِ آہن اور ناقابلِ تسخیر شخصیت ایردوان کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں۔ اس لئے ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے صدارتی امیدوار کو ڈھونڈنے کے لئے سر جوڑ کر سوچنا شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے دائیں بازو کی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے اپنی کارروائی کا آغاز کردیا اور اس پارٹی کے چیئرمین دولت باہچے لی نے صدارتی امیدوار کی تلاش کے لئے سب سے پہلے سابق صدر سیلمان دیمرل کے دورازے پر دستک دی ہے تاکہ سیلمان دیمرل جو مختلف ادوار میں سات بار وزیراعظم رہنے کے بعد ملک کے صدر بھی رہ چکے ہیں سے کسی متفقہ صدارتی امیدوار کے بارے میں ان کے خیالات سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔

سیلمان دیمرل جو اپنے دور کے ایک عظیم اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور جن کو مختلف جماعتوں کو اقتدار میں شامل کرنے اور جوڑ توڑ کا وسیع تجربہ ہے، ان کے اس تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیلمان دیمرل کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے فوج کے دبائو میں آکر نجم الدین ایربکان اور تانسو چیلر کی سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا جس نے رجب طیب ایردوان ، عبداللہ گل اور بلنت آرنچ کی قیادت میں نئی سیاسی جماعت کے قیام کی بھی راہ ہموار کی۔ سیلمان دیمرل کے عہدہ صدارت کی میعاد پوری ہونے کے بعد ملک میں نئے صدر کے چنائو میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس وقت برسراقتدار تین جماعتوں کی مخلوط حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آئینی عدالت کے سربراہ احمد نجدت سیزر کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا تھا۔صدر احمد نجدت سیزر کے دور میں برسر اقتدار آنے والی آق پارٹی کو اپنے ابتدائی ایام ہی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس دور میں ایک طرف صدر اور دوسری طرف فوج نے آق پارٹی کو اعلیٰ افسران کے تبادلوں تک کی اجازت نہ دی تھی بلکہ مختلف اداروں کے ڈائریکٹروں کی تعینانی تک کو روک دیا جاتا رہا اور قومی اسمبلی اور کابینہ کی منظور کردہ قراردادوں تک کو ویٹو کیاجاتا رہا۔صدر احمد نجدت سیزر اپنے پورے دور اقتدار میں نام نہاد سیکولرازم کی آڑ میں فوج کے ساتھ مل کر آق پارٹی کو نشانہ بناتے رہے اور وہ خود اپنے اقتدار کے آخری روز تک آق پارٹی کے پاؤں کی زنجیر بنے رہے۔احمد نجدت سیزر کے صدارتی عہدے کی میعاد پوری ہونے پر آق پارٹی نے عبداللہ گل کا نام صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا لیکن فوج اور سیکولر حلقوں اور خاص طور پر آئینی عدالت نے آق پارٹی کو پارلیمنٹ میں صدر کے چنائو میں واضح برتری حاصل ہونے کے باوجود اُن کے صدارتی امیدوار عبداللہ گل کو صدر منتخب ہونے کا موقع فراہم نہ کیا جس پر آق پارٹی نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کروا کر پہلے سے بھی زیادہ مینڈیٹ حاصل کرتے ہوئے عبداللہ گل کو صدر منتخب کرانے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد سے اب تک دونوں رہنماوں نے بڑی یکسوئی اور اہم آہنگی سے ترکی کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا ہوا ہے۔

عبداللہ گل کے پارلیمنٹ سے صدر منتخب ہونے کے بعد آئین میں ترمیم کراتے ہوئے اگلے صدارتی انتخابات پارلیمنٹ سے کرانے کے بجائے براہ راست عوام کے ووٹوں سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اب اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے دس اگست2014ء کوصدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اور 24 اگست2014ء کو دوسرا مرحلہ منعقد ہوگا۔ آئندہ صدارتی انتخابات کے موقع پر ترکی میں پہلی بار غیر ممالک میں آباد ترک باشندوں کو بھی ووٹ دینے کا حق دے دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ایردوان غیر ممالک میں آباد ترک باشندوں کی بھاری اکثریت کے آق پارٹی سے ہمدردی رکھنے سے پوری طرح آگاہ ہیں اسی لئے انہوں نے غیر ممالک میں آباد ترک باشندوں کو ووٹ دینے کا حق دلوانے کے فوراً بعد ہی جرمنی کا رخ اختیار کیا اور بون میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آق پارٹی کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک میں پانچ ملین کے لگ بھگ ووٹرز موجود ہیں جو آق پارٹی ہی کو ووٹ ڈالیں گے اور یوں غیر ممالک میں آباد ترک ووٹروں کے ووٹ سے ایردوان پہلے ہی رائونڈ میں کامیابی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کرچکے ہیں۔آق پارٹی کی جانب سے وزیراعظم ایردوان یا پھر صدر عبداللہ گل دونوں میں سے کسی ایک کے صدارتی امیدوار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں ابھی تک اپنے صدارتی امیدوار کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائی ہیں کیونکہ ابھی تک وہ کسی مشترکہ صدارتی امیدوار کے نام پر راضی نہیں ہوسکی ہیں۔ بائیں اور دائیں بازو کی یہ دونوں بڑی جماعتیں کسی ایسے امیدوار کی تلاش میں ہیں جس پر دائیں اور بائیں بازو کا لیبل نہ لگا ہو یا پھر یہ نام دونوں بازوئوں کے لئے قابلِ قبول ہو ۔ان دونوں جماعتوں کی جانب سے پہلے جنرل (ر) اِلکر باشبو کے نام پر اتفاق ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن ری پبلیکن پیپلزپارٹی نے فوجی امیدوار کا نام پیش کرنے کے منفی اثرات مرتب ہونے کے خوف سے ان کے نام کو فہرست سے خارج کردیا ہے۔

ان دونوں جماعتوں نے آئینی عدالت کے سربراہ ہاشم کلیچ جو کچھ عرصہ قبل تک آق پارٹی کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے لیکن اپوزیشن کے بہلاوے میں آکر اب اپوزیشن کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں کہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے طور پر نام پیش کئے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسی طرح انقرہ وکلا بار کے صدر متین فیضی اولو کا نام بھی اپوزیشن کے مشترکہ صدارتی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے۔ اب اس فہرست میں کمال درویش کا نام بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ ری پبلیکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمال درویش اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی ماضی ہی سے ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کمال درویش ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار بن کر نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کی بھی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں