مشرق میں مودی، مغرب میں عبداللہ عبداللہ

اشتیاق بیگ
اشتیاق بیگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع (Stratigic Location) ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے مگر مشرقی اور مغربی سرحدوں کے باعث یہی اسٹریٹجک محل وقوع پاکستان کے لئے ہمیشہ مشکلات کا سبب بھی رہا ہے۔ 2014ء کو پاکستان کے لئے Make یا Break کا سال قرار دیا جارہا ہے جس کی وجہ خطے میں ہونے والی وہ 3 بڑی تبدیلیاں ہیں جو رواں سال رونما ہورہی ہیں۔ 2014ء کی پہلی بڑی تبدیلی افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کا انخلاء ہے جس کے پاکستان پر نہ صرف دور رس اثرات مرتب ہوں گے بلکہ افغانستان میں ایک خلا کی صورتحال پیدا ہوگی جس کا طالبان اور دیگر متحارب گروپ فائدہ اٹھائیں گے اور پھر صورتحال 1989ء کی طرح ہو جائے گی جب سوویت افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی۔ ایسی صورت میں نئی افغان حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہوگی کہ وہ کابل کے علاوہ پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرسکے۔ اس طرح اُن صوبوں جہاں آج امریکی و اتحادی افواج کا کنٹرول ہے، پر طالبان قابض ہونے کی کوشش کریں گے جس میں اُنہیں پاکستانی طالبان کی مدد بھی حاصل ہوگی اور قوی امکان ہے کہ طالبان افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قابض ہوجائیں گے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ افغان طالبان، پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً وزیرستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش بھی کریں اور یہ صورت حال پاکستان کے لئے یقیناً انتہائی پریشان کن ہو گی۔

2014ء کی ایک اور بڑی تبدیلی افغانستان میں ہونے والے انتخابات ہیں جس میں عبداللہ عبداللہ کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے۔ بھارت نواز اور پاکستان مخالف تصور کئے جانے والے عبداللہ عبداللہ جنہوں نے اپنی فیملی کے ہمراہ بیشتر سال بھارت میں گزارے ہیں، کی حکومت پاکستان سے اچھے تعلقات کی کبھی خواہاں نہیں ہوگی کیونکہ عبداللہ عبداللہ جن کا تعلق شمالی اتحاد سے ہے، کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران پاکستان اور اس کی ایجنسیاں شمالی اتحاد کے خلاف رہیں جبکہ وہ شمالی اتحاد کے رہنما انجینئر احمد شاہ مسعود کی خودکش حملے میں ہلاکت کا ذمہ دار بھی پاکستانی ایجنسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد عبداللہ عبداللہ اور افغان ایجنسیوں کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ پاکستانی طالبان کے رہنمائوں کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مالی و اخلاقی مدد کریں تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں پر بھارت کا کافی اثر و رسوخ پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعہ کی ذمہ داری پاکستانی ایجنسیوں پر ڈالتی آئی ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کے شہر ہرات میں بھارتی قونصلیٹ پر حملے کی ذمہ داری بھی پاکستانی ایجنسیوں پر ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا گیا جب وزیراعظم میاں نواز شریف نے نومنتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا فیصلہ کیا جس کا مقصد نئی بھارتی حکومت اور پاکستانی قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا تھا۔

پاکستان کے لئے 2014ء میں خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی حالیہ بھارتی انتخابات ہیں جس میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کو کثرت رائے سے کامیابی ملی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کامیابی اسلام اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے کامیاب امیدواروں میں کوئی بھی مسلمان امیدوار نہیں۔ نریندر مودی کو نہ صرف اسلام بلکہ پاکستان مخالف تصور کیا جاتا ہے اور گجرات کے مسلم کش فسادات مسلمانوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ مودی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جب ایک بار اُن کی گاڑی کے نیچے آکر ایک مسلمان جاں بحق ہوگیا اور مودی سے حادثے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’کتے بلے مرتے ہی رہتے ہیں‘‘۔ نریندر مودی کے یہ الفاظ مسلمانوں کے خلاف ان کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ نریندر مودی کی پاکستان دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی ہی جماعت کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کو پارٹی سے صرف اس لئے نکال دیا کہ انہوں نے قائداعظم کی زندگی پر کتاب تحریر کی تھی جبکہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو دہشت گرد اور ممبئی بم حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان نے دائود ابراہیم کو پناہ دی ہوئی ہے اور اُن کی حکومت وطن دشمن دہشت گرد کی گرفتاری کے لئے اس کا تعاقب کرتے ہوئے کسی ملک کی سرحد عبور کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ نومنتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی جو مودی کی سیاسی چال بھی ہوسکتی ہے تاہم نواز شریف کا حلف برداری تقریب میں شرکت کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ نواز شریف کے حالیہ دورہ بھارت سے نہ صرف دونوں ممالک کے مابین خیرسگالی کے جذبات پیدا ہوں بلکہ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور پاک بھارت مذاکراتی عمل جو کافی عرصے سے ڈیڈلاک کا شکار تھا، کے بحال ہونے کا بھی امکان ہے۔ مسلم لیگ ن ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزے ختم کرنے کی باتیں کرتی رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان کی حکومت بھارت کو تجارت کے حوالے سے ’’پسندیدہ ملک‘‘ کا درجہ دینے اور پاکستان کے راستے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک راہداری فراہم کرنے کے حق میں ہے۔ اگر پاکستان، بھارت کو افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک راہداری فراہم کرتا ہے تو ایسی صورت میں نئی بھارتی اور افغان قیادت کا گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ نومنتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو ہمیشہ چین سے تجارتی و اقتصادی روابط بڑھانے کی باتیں کرتے رہے ہیں، کی کوشش ہو گی کہ وہ چین سے اقتصادی تعلقات بڑھا کر اُسے بھارت کے قریب اور پاکستان سے دور کریں۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء، افغانستان میں عبداللہ عبداللہ اور بھارت میں نریندر مودی کی فتح سے پاکستان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان 18کروڑ افراد پر مشتمل نیوکلیئر پاور رکھنے والا ملک ہے اور ہماری مسلح افواج وطن کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتی ہے تاہم موجودہ صورت حال میں ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی اور ان ممالک میں کسی ایڈونچر سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ ’’زیرو ٹالرینس‘‘ کی پالیسی بھی اپنانا ہوگی۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستان نے بروقت ایران سے تعلقات میں بہتری کی پالیسی کو اپنایا۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایک واضح پالیسی مرتب کرے جس میں حکومتی شخصیات کے علاوہ تھنک ٹینک کو بھی شامل کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ جو کسی وزیر خارجہ کے بغیر ہے، ان درپیش چیلنجز سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہے۔ آج پاکستان کی مثال ایک سینڈوچ کی مانند ہے جو دو دشمن ممالک کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ مشرق میں مودی اور مغرب میں عبداللہ عبداللہ کی حکومتیں پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اگر قوم متحد اور سیاسی و فوجی قیادت کے مابین ہم آہنگی ہے تو دشمن کا خواب کبھی پورا نہ ہوسکے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں