.

طالبان کی صفوں میں انتشار

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کی صفوں میں انتشار کی خبریں منظر عام پر آگئی ہیں، اگرچہ یہ انتشار پہلے سے موجود تھا مگر ڈرون حملے اور امریکہ کی افغانستان میں موجودگی اُن کو متحد رکھتی تھی، اب یہ دونوں وجوہات موجود نہیں ہیں تو اُن کے درمیان اتحاد کو برقرار رکھنا کیسے ممکن ہے۔ اِس کی ایک تیسری وجہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو جہاد کے لئے اکٹھے ہوئے تھے، جہاد ختم ہو گیا تو اب وہ اپنے معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے مگر محسود قبیلے نے زیادہ بہتر کام انجام دیا کہ انہوں نے اپنے گروپ کو علیحدہ کر لیا۔

اِس کے اسباب بھی ہیں ایک تو مولوی فضل اللہ سواتی ہیں عام طور پر پشتون، مضبوط پشتون کے بغیر کسی کی قیادت قبول نہیں کرتا، دوسرے مولوی فضل اللہ افغان انٹیلی جنس خاد کے قبضے میں ہے وہ اُن کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے جسکے یہ معنی ہوئے کہ امریکہ، بھارت اور دُنیا بھر کی انٹیلی جنس کے قبضے میں ہیں۔ ’’جنگ‘‘ کے قارئین کرام لطف اللہ محسود کی گرفتاری کو نہیں بھولے ہونگے جب وہ خاد کی گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور جلال آباد میں ایک غیرملکی سفارت خانے جارہے تھے تو سی آئی اے نے لطف اللہ محسود کو پکڑ لیا تھا اور اس کے ارادے طشت ازبام کردیئے تھے۔ یہ تو نہیں معلوم ہو سکا کہ امریکہ نے کس حدتک جو معلومات اس سے حاصل ہوئی تھیں وہ ظاہر کیں البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ افغان حکومت سے علیحدہ سے جو عزائم تھے جو کام وہ سی آئی اے الگ ہٹ کر کر رہی تھی وہ ضرور منظرعام پر آ گئے۔ کہا جاتاہے کہ امریکہ اور مغرب کا مسئلہ یہ آن کھڑا ہوا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے جو معاشی کوریڈور کاشغر سے گوادر کے درمیان بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس کو روکنے کے لئے ساری دُنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں حرکت میں آ گئی ہیں۔

کہا یہ بھی جاتاہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے مولوی فضل اللہ کو کلیدی کردار سمجھتے ہوئے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری سونپی ۔ یہ منصوبہ جب تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروپوں کے پاس پہنچا تو وہ کافی جزبز ہوئے وہ تو امریکہ کے خلاف لڑنے کیلئے اکٹھے ہوئے تھے اور پاکستان کے خلاف اسلئے لڑ رہے تھے کہ وہ امریکہ کا اتحادی تھا مگر 2011ء اور اس کے بعد پاکستان امریکہ کا اتحادی نہیں رہا بلکہ امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ امریکہ کے کئی انٹیلی جنس کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دوسرے زاوئیے سے دیکھا جائے تو یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ معاشی راستے سے محسود اور دیگر قبائل کو بہت فوائد حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ پشتون اور اِس علاقے کے لوگ محنت کش اور اُن کے سرمایہ دار یا مہم جو شخصیات یا ٹھیکیدار برادری ان منصوبوں سے بہت سے فوائد مل سکتے ہیں۔ یہ وہ کشش ہے جو بہت سے گروپوں اور اُن کے ہمنوائوں اور اُن کے سرپرستوں کو اِس طرف توجہ دینے پر مجبور کردے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عسکری ذرائع جو طالبان کے اختلافات سے باخبر تھے انہوں نے بھی محسود قبائل کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے مفاد کو پیش نظر رکھیں تو اُن کا مفاد بھی محفوظ ہو جائے گا۔

پاکستان کے آرمی چیف کا حالیہ دورئہ شمالی وزیرستان نے بھی اِس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان کے پاس پاکستان کے خلاف جہاد کرنے کا نہ تو فتویٰ ہے اور نہ کوئی اور وجہ باقی رہی ہے ۔ تیسرے پاکستان کی جوابی پالیسی کہ اگر پاکستان کے کسی جگہ پر حملہ کیا گیا تو ہم سخت جواب دیں گے وہ بھی کام آئی اور شرارتی اور شدت پسند غیرملکی ایجنٹوں کو وہ مار پڑی کہ وہ توبہ کرتے پھر رہے ہیں۔ اب بھی یہی پالیسی کہ حملے کے جواب میں سخت حملہ، کارآمد ہوئی کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے لئے راضی ہوئے۔ اس طرح بھی طالبان کا لڑنے کا مزید جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اُن کو عزت سے نارمل زندگی کا راستہ مل رہا ہے۔ اب خالد سجنا گروپ نے تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کرکے جو راز افشا کئے اگرچہ ہوش ربا ہیں مگر سب کو معلوم تھے اہمیت اس وجہ سے ہوئی کہ بھیدی کے منہ سے ادا ہو رہے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ہر طرح کے جرائم میں ملوث ہے۔ یہ کوئی جہاد نہیں بلکہ انہوں نے فساد برپا کیا ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اور خود ہماری بھی یہ رائے ہے کہ اِس میں بہت سے گروپ علیحدہ ہوجائیں گے، جن میں ذرا بھی پاکستانیت کی رمق موجود ہے وہ اپنے گھر کو لوٹ آئے گا اور پاکستان کے دفاع کا کام کرے گا۔ امریکہ اُن کو ڈالر دے گا مگر چند سالوں میں ڈالر خود بے قدر ہونے جارہا ہے تو وہ کاغذ کا ٹکڑا کس کام کا۔ پاکستان مسلمانوں کے خوابوں کی سرزمین ہے اور فاٹا کے لوگ پاکستان کے بازوئے شمشیر زن ہیں۔ اُن پر وہی کردار بھاتا ہے، وہ کردار اُن کو معتبر بناتا ہے۔ غیرملکی ایجنٹ بننا پشتون کا شیوہ نہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے بھی غیرملکی ایجنٹ بن کر آفریدی قبیلے کو بدنام کیا ورنہ یہ وہ قبیلہ تھا جس پر مسلمانوں کو ناز تھا۔ اب خرابی بسیار کے باوجود اُن کا یہ فخر واپس لوٹ سکتا ہے کہ وہ اپنے موجودہ کردار سے تائب ہوں اور پاکستان سے رجوع کریں جس غیرملکی ایجنڈا کو اپنا کر انہوں نے اپنے بھائیوں کا خون بہایا ہے وہ اُن کے دامن پر داغ ہے جس کو انہیں اب اس طرح دھونا چاہئے جس طرح محسود قبائل نے دھویا ہے کہ اس تنظیم سے جس کے ہاتھ معصوم انسانی جانوں سے رنگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے قبیلے سے رجوع کیا اور اپنے گروپ کواس تنظیم سے علیحدہ کرلیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے پہلے والے ترجمان بھی مسلمان کے ناحق خون بہانے کو حرام کہہ چکے ہیں اور پاکستان وہ سرزمین ہے جو اپنا دامن پھیلائے اِن کو اپنے سموئے بیٹھی ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ یا اس کے مکینوں کے ساتھ ظلم کریں تو یہ جان لیں کہ وہ کس مقام پر کھڑے ہیں۔ اچھے ہیں وہ لوگ جو یہ کوشش کررہے ہیں کہ فاٹا کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے، پاکستان کا قانون یہاں لاگو کیا جائے، وہ صوبہ چاہتے ہیں یا خیبرپختونخوا میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اُن کی مرضی پر منحصر ہے تاہم ایک بات صاف ہے کہ وہ پاکستان کے دستور کو مان کر پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ایسا ہی کام تحریک طالبان کے سارے گروپ کرنا شروع کریں یا جو لوگ یہ کام کررہے ہیں اُن کے ساتھ مل جائیں اور اس پاکستان کو مضبوط کریں تاکہ وہ عالمی بساط پر اپنا کردار سکے اور عوام خوشحال اور مطمئن ہوجائیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.