.

بجٹ آیا اور گیا

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ نے قوم کو موسمی بخا ر کی مانند آلیا ہے۔غضب ناک جر اثیم کی طر ح اعدادوشمار ہر طر ف سے حملہ آور ہیں۔اصطلا حیں نہ سمجھ میں آنے والی دوائیوں کی طرح قطاردرقطار آپ کے سرہانے کھڑی گھور رہی ہیں۔صنعتوں کی ترقی،زرعی خدمات کے شعبے، درآمدات وبرآمدات ، روپے کی قدر، ترسیلات زر،شرح بچت،بیرونی قرضے،ما لیا تی خسارے،افراط زر،گردشی قرضے،زرمبادلہ کے ذخائر، معیشت کی اصل بحالی۔ اسے صاف کریں یہ سب بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے پر عوام کو مائل کرنے کی مہم کا پوسٹر معلوم ہوتا ہے ۔

انگریزی میں یہ سب نام اور بھی خوفناک محسوس ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا اگر ڈھیٹ ماہر نہ ہو تو متلی محسوس کیے بغیر اخبار کو بند نہیں کرے گا ۔ یا پھر یہ سمجھ کر خود کو تسلی دے دے گا کہ جو جو انمرد یہ سب جان سکتے ہیں وہ یقیناً کچھ اچھا ہی کر رہے ہوں گے ۔ ان اصطلاحوں کے ذریعے تمام شہریوں کو پیغام بھی یہی دینا مقصود ہے کہ ان کے حکمران اُن کے فائدے کے لیے جناتی قسم کے معاملات سے نپٹ کر کچھ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مگر حقیقت میں ’’ تخمینوں اور لا گتوں ‘‘کی کوئی اہمیت نہیں ۔ یہ سات دن کی وبا کی طرح آپ پر طاری ہونے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔ جون کے بعد آپ اس تمام حساب کتاب کی گرد کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے ۔ میرے سمیت وہ تمام وقتی طبیب جو آپ کے سامنے تشخیص کی لمبی چوڑی فائلیں کھول کر بیٹھے ہوتے ہیں اپنے اپنے کاموں میں دوبارہ مشغول ہو جائیں گے ۔ کچھ تبدیل نہیں ہو گا ۔ حقیقت میں تبدیلی اور آپ کی زندگی میں راحت وآسانی کا تعلق بجٹ یا اسحاق ڈار کی تقریر و تکرار سے نہیں۔ اس طور طریقے سے ہے جس سے ملک چلایا جا رہا ہے اور چلایا جاتا رہے گا ۔ اس کے مطابق امیر کو امیر ترین اور غریب کو غریب تر ہی ہونا ہے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر استحصال و وسائل پر مکمل قبضہ کو قائم نہیں رکھا جا سکتا جو ہماری تمام سیاست اور معیشت کی بنیاد ہے۔

اس طرز اور نظام حکمرانی کی عدم تبدیلی کی حقیقت اتنی ہی تلخ ہے کہ تمام تر شرینی انڈیلنے کے باوجود ان کا کسیلا پن اعداد و شمار کی بازی گری میں سے رس کر باہر آہی جاتا ہے، پاکستان اور معاشی اور اقتصادی سروے سے بڑھ کر سرکاری دستاویز شاید ہی کوئی ہو، اس کو لکھنے والے چکرا دینے والے جملے تراشنے کی خاص تربیت پاتے ہیں۔ ان کا انداز بیان کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کے گردے بغیر قیمت کے خرید کر بھی آپ کو کچھ ایسا تاثر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ جیسے اس کے بعد آپ کی صحت کو چار چاند لگ جائیں گے، سارا محلہ رشک کرے گا۔ مگر تمام ہیر پھیر کے باوجود یہ دستاویز بھی مان رہی ہے کہ اس وقت اس ملک میں غریب پچاس فیصد کے قریب ہے، یعنی نو کروڑ کے لگ بھگ ۔زراعت جس سے اس خطے کی آبادی کے سب سے بڑے حصے کی قسمت نتھی ہے مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

صحت، تعلیم، انصاف، چھت، خوراک۔ ان پانچ بنیادی انسانی ضروریات کو معیار بنا لیں تو معلوم ہوگا کہ نوے فیصد سے زائد شہریوں کو اس نام نہاد منصوبہ بندی سے کوئی فائدہ نہیں۔ نتیجتاً جس پر آج کل بجٹ کے نام پر تجزیاتی مغز ماری کی جارہی ہے۔ نا عزت محفوظ ہے نہ جان کی امان ہے اور نہ مستقبل کی ضمانت۔ اخبارات کے صفحات کو کھنگال لیں تو ہر دوسری خبر میں سے عام شہریوں کے خون کے قطرے گر رہے ہوں گے۔ بازاروں میں، آبادیوں میں، اسپتالوں میں، تھانوں اور کچہریوں میں کچلی ہوئی رعایا عرضیاں اور فریادیں پکڑے ماری ماری پھرتی نظر آئے گی۔ کہنے کو انتالیس ارب نوے کھرب کا بجٹ ہے لیکن شہری کی فلاح پر یہ ریاست گن کر پندرہ روپے مہینہ خرچ کرتی ہے۔ ہاں ! حکمرانوں کی حفاظت اور عیش کے لیے وسائل اندھا دھند ہیں۔

کوئی حد نہیں، کوئی قدغن نہیں، ان پر نہ بجلی کا بحران اثر کرتا ہے اور نہ سبزیوں اور دالوں کے بھائو، ان کی غذا مرغن ہے۔ صحت ایسی بھرپور کہ جیسے اکھاڑے سے نکلا ہوا پہلوان۔ بجٹ تو ایک کھیل ہے۔ اصل میں یہ فیصلہ تو قیام پاکستان کے فوراً بعد کیا جاچکا تھا کہ یہاں کے عوام کو ہمیشہ اس اذیت میں مبتلا رکھنا ہے کہ ان کو ایک نوالے کی فراہمی بھی من و سلویٰ لگے۔ اتنے زخمی ہوں کہ طبیعت پوچھنے پر بھی ساری زندگی شکرگزاری میں غلامی کرتے ہوئے تعریف کی تسبیح پڑھتے رہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو آج ہم سب اس بدحالی کا شکار ہوتے جس نے ہماری کمزور ترین امیدوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے؟

بجٹ اس مفصل واردات کا حصہ ہے جو اس ملک پر قابض طبقے ہر سال ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔ اور ہم دھوکے میں آکر تین سو ساٹھ دن پھر سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو خاموشی سے برداشت کرلینے میں ہی جمہوری قسم کا فخر محسوس کرتے ہیں۔اگر اسحاق ڈار سمیت کسی کو کاروبار ، ریاست اور حالات قوم کو بدلنے میں کوئی حقیقی دلچسپی ہوتی تو وہ یقیناً اسی استطاعت اور کامیاب منصوبہ بندی کا سہارا لیتے جس کے ذریعے انھوں نے ذاتی معاشی معاملات کو ایسے سنبھالا ہے کہ ہر طرف سے فائدہ کے سوا کچھ نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ نہ کوئی سہارا ہے نہ کوئی تنگی، جن تمام سالوں میں (بجٹ کے باوجود یا شاید بجٹ کی وجہ سے) پاکستانی عوام کی ہڈیوں سے ماس غائب ہوگیا اسی دوران بجٹ بنانے والے فربہ اندام ہوگئے۔ ملک کی معیشت ڈوب گئی، ان کی دولت کے انبار آسمان کو چھونے لگے۔

حکومتی آفس میں وزیر بے تدبیر اور بے بس نظر آئے مگر اپنی صنعتوں اور ملوں میں ان سے کائیاں اور ماہر کاروبار دکھائی نہ دیا۔ یہ کیا ماجرہ ہے کہ ملک کی معیشت کو درست کرنے میں نا کام افراد ذاتی دولت اکھٹا کرنے میں اتنے کامیاب ہوجاتے ہیں؟ بنیادی بات یہی ہے جو میں نے پہلے آپ کے لیے تحریر کر دی ہے۔ بجٹ قبضہ گروپ کا وہ ہتھیار ہے جو وہ ہر سال استعمال کرکے آپ کو اپنی خودساختہ مجبوریوں کے واویلے سے متاثر کرتے ہیں اور پھر تمام دن اپنی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کے اہتمام کرنے پرما مور ہوجاتے ہیں۔ اگر ان کو تبدیلی لانا ہوتی تو آج غریب کی اولاد جھگیوں میں مٹی پھانکے کے بجائے دبئی اور لندن میں ارب پتیوں کے ساتھ ان کی اولادوں کی طرح مکمل آسائش میں نہ پل بڑھ رہے ہوتے، یہ کالم لکھتے ہوئے الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر آگئی ہے۔ اب تو بجٹ اور ہی غیر ضروری ہوگیا ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.