.

ڈرون حملے بند

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ اور موت کے مشینی ہرکارے ڈرون کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ حکومت وقت کی جرات مندانہ سفارت کاری اور غیرت مند جمہور کی طویل جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ پاکستان کی فضاؤں میں موت برساتے سی آئی اے کے اس مہلک ترین ہتھیار ڈرون کو اس کے ہینگروں میں گراؤنڈ کر دیا۔ آپریشنل طیاروں کا رخ اب القاعدہ کے تعاقب میں یمن، صومالیہ اور نائیجریا کی جانب پھیر دیا گیا ہے۔

آپ کی مرضی ہے کہ ایک سال عمر کی حکومت کی جانب سے اقتصادی شعبہ میں مثبت کارکردگی کے دعویٰ کو مکمل طور پر مسترد کر دیں۔ کلی طور پر اتفاق کر لیں یا پھر اس کو جزوی طور پر مان لیں۔ لیکن ایک جائز کریڈٹ اس کو ضرور دیں جو اس کا حق بنتا ہے۔ ایک عشرہ سے قبائلی علاقہ جات کی فضاؤں میں موت کا گشت کرنے والے خونی ڈرونز اب محض فضائی گشت تک محدود ہو چکے۔ خودکش حملے نہ ہونے کے برابر رہ گئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی۔

نواز حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی صرف ایک سال مکمل ہوا ہے۔ آج جب یہ کالم آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوگا تو وفاقی حکومت اپنا دوسرا بجٹ پیش کر چکی ہوگی۔ بجٹ سامنے آئے گا تو بغیر کسی لگی لپٹی کے اس کا مکمل پوسٹ مارٹم کریں گے۔ لیکن جو حقائق سامنے دیوار پر حقیقت بن کر اپنی توجہ مبذول کرا رہے ہوں ان سے انکار اور فرار بھی ممکن نہیں۔ بین الاقوامی سطح کی جائزہ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اوباما انتظامیہ کو دو ٹوک سفارتکاری اور عوامی ردعمل کے سامنے ہار ماننا پڑی۔ چند روز پہلے امریکی صدر اوباما نے جب دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اپنی پالیسی کے خدوخال واضح کئے تو انہوں نے القاعدہ کے خلاف تعاقب جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے ملکوں کی فہرست میں پہلی دفعہ پاکستان کا نام نہ تھا۔ ڈرون حملوں کی اس غیر اعلانیہ بندش پر عام پاکستانیوں کے برعکس دفاعی ماہرین کو کوئی اچنبھا نہیں ہوا۔ ڈرون طیارے ابھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ابھی ان کو ڈس مینٹل بھی نہیں کیا گیا۔ وہ کبھی کبھار قبائلی علاقہ جات میں معمول کی پرواز بھی کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ پانچ ماہ سے ان انسانی خون کے پیاسے طیاروں سے ایک بھی میزائل نہیں برسایا گیا۔

25 دسمبر 2013ء کو کرسمس کی تعطیل کے روز شمالی وزیرستان میں میران شاہ کے نواحی گاؤں میں ہونے والا حملہ اب تک اس طویل اور گھناؤنے کھیل کی آخری قسط ثابت ہوا۔ جو افغانستان اور پاکستان کی ملحقہ پٹی پر 2004ء سے کھیلا جا رہا تھا۔ ان دس سالوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو سی آئی اے نے اس ہتھیار کو القاعدہ کے خلاف ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جو سو فیصد درست نتائج فراہم کرتا ہے۔ اس جنگ کے نتائج جو بھی رہے ہوں۔ لیکن یہ بات ایک اٹل حقیقت بن کر سامنے آتی ہے کہ اس ہتھیار نے جس کا کوئی توڑ ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا نے القاعدہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اسی ہتھیار کی وجہ سے القاعدہ اس خطہ سے فرار ہوئی۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر موجود رہے گی کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات میں مزید شدت آئی۔ پاکستان کے عوام میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور وہ جانوں کے اجتماعی ضیاع پر اس وقت سراپا احتجاج بنے رہے جب تک انہوں نے اس موذی ہتھیار کو خاموش نہیں کرا لیا۔ پاکستان کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات پر ڈرون اٹیک 2004ء کے وسط میں شروع ہوئے۔ جونہی امریکی انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بغیر پائلٹ کے چلنے والے میزائلوں سے لیس ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کیا تو پرویز مشرف حسب معمول آگے بڑھے اور اپنے سلوگن کے مطابق ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی سرزمین اس تجربے کے لئے پیش کی۔ دالبندین اور شمسی ائیر بیس اس نئے ہتھیار کی تجربہ گاہ قرار پائے۔ 2014ء کے وسط سے لے کر امریکی حکام کے سگنل پر اس میکنیکل عفریت کے 391 حملے کئے گئے۔ ان حملوں میں تین ہزار پانچ سو چھ افراد مارے گئے، جن میں پاک سرزمین پر پناہ گزین غیر ملکی باشندے بھی شامل تھے۔ بے شمار زخمی اور ان گنت ہمیشہ کیلئے معذور ہو کر رہ گئے۔

2008ء میں نئی حکومت بنی تو اس کے پاس بھی پرویز مشرف کی جانب سے کئے گئے غیر تحریری زبانی معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ تاہم رائے عامہ کے ردعمل کی وجہ سے امریکہ کے زیرقبضہ ائیربیس خالی کرا لئے گئے اور یہ آپریشن افغانستان سے جاری رہا۔ 2010ء وہ سال ثابت ہوا جس میں سب سے زیادہ حملے ہوئے۔ ان بارہ مہینوں میں 132 دفعہ قبائلی علاقہ جات پر حملے کئے گئے۔ جن میں 938 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس بدترین سال کے بعد ڈرون حملوں میں بتدریج کمی آنی شروع ہوئی۔ 2011ء میں 75، 2012 میں 61 اور 2013 میں 27 حملے ہوئے جن میں 101 افراد جاں بحق ہوئے۔دس سال تک اپنے ہر حملے میں ہلاکت اور موت کا پیامبر بن کر آنے والے یہ طیارے اب یا تو اپنے مستقروں میں اونگھتے رہتے ہیں یا پھر کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے خاموش پروازیں کرتے ہیں۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور ملک کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے موثر احتجاجی تحریکوں اور پارلیمنٹ کی مضبوط قراردادوں نے امریکیوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اب امریکی ماہرین کہتے ہیں کہ وہ عام قسم کے جنگجوؤں سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ البتہ ان کو ایمن الظواہری سمیت کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کی موجودگی کی اطلاع ملی تو وہ ایکشن میں دیر نہ کریں گے۔

امریکی ڈرون حملوں کے خاتمے کے بعد حکومت پاکستان اور عسکری اداروں کے پاس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز کی طاقت بھی آ گئی لہٰذا اب شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آئی ہے۔ کنفلیکٹ مانٹیرنگ سنٹر کی رپورٹ کے مطابق ماہ اپریل میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف 72 کارروائیاں کیں۔ مئی میں ان کارروائیوں کی تعداد بڑھ کر 112 ہو گئی۔ یہ اپریل کی بہ نسبت 56 فیصد اضافہ ہے۔ اسی طرح خودکش حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور دہشت گردوں نے بارودی سرنگوں اور ٹائم ڈیوائسز کا استعمال بڑھا دیا ہے تاکہ وہ موقع واردات سے دور رہ کر فریق مخالف کو جانی نقصان پہنچا سکیں۔ڈرون حملوں کا غیر اعلانیہ خاتمہ ہو، خودکش حملوں میں بتدریج کمی ہو یا دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہو۔ اس کے پیچھے صرف اور صرف کامیاب سفارتکاری، قوم کا اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے ہے۔ اگر یہ قومی اتفاق قائم رہا تو وہ دن دور نہیں جب دہشت گرد دم دبا کر ان بلوں میں پھر سے جا گھسیں گے جہاں سے وہ نکلے تھے۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.