.

کیا ہمیں فاشزم کی ضرورت ہے

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمیں اتنی سختی کی ضرورت نہیں جسے فاشزم کہاجاتا ہے اور جونسلی برتری کا نظریہ تراشتے ہوئے ہٹلر کی طرح دنیا کو جنگ میں دھکیل دے لیکن جب سٹرکوں پر بے ہنگم ٹریفک، اندرونی شہروں میں پھیلائی ہوئی افراتفری، قوانین و ضوابط سے لاپروا پاکستانی زندگی، افسر شاہی اور حکومتی امور، جہاں پیسوں اور تعلقات کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے تو بے اختیار ذہن میں سوچ پیدا ہوتی ہے کہ اگر خدا کے بنائے ہوئے تمام انسانوں میں کسی کو سخت گیر اور ظالم حکمرانوں کی ضرورت ہے تو وہ یہی اسلامی جمہوریہ ہے۔
ہم میں سے زیادہ تر سستی اور کاہلی کا شاہکار ہیں جبکہ استحقاق یافتہ طبقہ جائز و ناجائز (موخرالذکرترجیحی بنیادوں پر) طریقے سے خود کومزید تقویت دینے کی کوشش میں رہتا ہے تاہم پاکستانی دیگر ممالک، جیسا کہ خلیجی ریاستوں، یورپ اور امریکہ میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ نہیں کہ دیار ِ غیر میں جاتے ہی ان کی فطرت تبدیل ہو جاتی ہے بلکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں سستی اور کاہلی سے نیم دراز ہو کر اُونگھنے سے کام نہیں چلے گا۔ درحقیقت جنوبی ایشیا، خاص طور پر پاکستان کے باشندے دیگر ممالک میں سرجھکا کر خاموشی سے طویل وقت تک محنت کرتے ہوئے پیسہ کماتے ہیں۔ وہ خود مشکل زندگی بسر کرتے ہیں تاکہ یہ پیسہ بچا کر پاکستان میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اچھی زندگی پر خرچ کر سکیں۔اس کا مطلب ہے کہ دیگر معاشروں میں ان افراد کی بہترین صلاحیتیں آشکار ہوتی ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان پاکستانیوں کی بھی کمی نہیں جو دیگر معاشروں میں رہنے کے باوجود اپنے داخلی تصورات اور تعصبات سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو دیگر ممالک میں اپنے قومی تشخص کا اظہار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے... گویا جہاں موقع ملا ہاتھ دکھا دیا۔

مختصر یہ کہ جب بھی پاکستانی اس کلچر کا حصہ بنتے ہیں جوان کے مقامی کلچر سے بہتر ہوتا ہے تو وہ خود کو بہتر شہری بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ بہت آسان ہے کہ آپ کسی بزنس، خاص طور پر پراپرٹی، میں سرمایہ کاری کرکے آرام سے بیٹھ کر دولت حاصل کرتے رہیں لیکن دیگر ممالک میں ایسا ممکن نہیں۔ ہاں، ایک امکان ہے کہ آپ پاکستان میں بہت بااثر ہوں اور آپ نے یہاں سے جی بھر کر دولت لوٹ کر بیرون ِ ملک جمع کرائی ہو تو پھر آپ وہاں جا کر آرام سے زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ اس لئے پاکستانیوں کا مسئلہ دہشت گردی، سیکورٹی اور اس سے بھی بڑھ کر کمزور قیادت ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ طاقتور قیادت عوام کی زندگی میں ڈسپلن قائم کرے لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔

ہمارے ہاں طویل عرصے تک فوجی حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں لیکن قومی زندگی میں ڈسپلن کیا قائم کرنا تھا، انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ خرابیاں پیدا کر دیں۔ دراصل معاشرے میں نچلی سطح سے اصلاحی عمل شروع کرنا نہ تو ہماری جمہوریت اور نہ ہی آمریت کا ایجنڈا رہا ہے۔ ویسے ہمارے ہاں آج کل کیا ہے؟ کیا اسے جمہوریت کہا جاسکتا ہے؟ یقیناً اگر جمہوریت کے معانی تبدیل کر کے اسے ایک خاندان یا چند خاندانوں یا مشترکہ مفاد رکھنے والے افراد کے ایک گروہ کی حکومت قرار دیا جائے تو پھر ہمارے ہاں جمہوریت کی ریل پیل ہے۔

دراصل ہمارے ہاں جو طبقہ اقتدار پر فائز ہوتا ہے، اس کی گرفت ملکی نظم و نسق پر نہیں بلکہ معیشت پر ہوتی ہے۔ صحیح پوچھیں تو اس کی سیاست کا محور اپنی معیشت کو تقویت دینا ہی ہوتا ہے۔ سرحد پار، بھارت میں ایسا نہیں۔ نریندر مودی بھارتی سرمایہ کاروں کے نمائندے ہیں لیکن وہ خود سرمایہ کار نہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑا کاروبار ہی حکومت میں آنا ہے۔ جس طرح رومن آبادی کو ان کے حکمران کھیل تماشوں سے مگن رکھتے تھے تاکہ وہ ان کے آمرانہ ہتھکنڈوں پر توجہ نہ دے سکیں، موجودہ دور میں یہ رومن طریقہ لیپ ٹاپ اور آسان شرائط پر قرضے دینا اور میٹرو بس جیسے منصوبے بنانا اور انہیں ترقی کا نام دینا ہے جبکہ اہم شہری سہولتوں کے منصوبے رقم کی کمی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ آج پاکستان کو جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ سخت اور غیر لچکدار نظم ہے... اس کا مطلب یہ نہیں کہ سخت ڈسپلن بھاری بوٹ والوں کی طرف سے ہو بلکہ جمہوری حکومت کی طرف قائم کیا گیا ہو تاہم ہمارے ہاں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں پائی جاتی جس کا ایجنڈا قومی سطح پر نظم قائم کرنا ہو۔

پاکستان کی بیوروکریسی کو بدعنوانی اور سست روی کی بیماری کا ایک علاج یہ ہے کہ نصاب ِ تعلیم تبدیل کرکے تمام ملک میں یکساں نصاب رائج کیا جائے۔ تمام اسکولوں میں ایک ہی ذریعہ ِ تعلیم ہو۔ دوسرا اہم معاملہ ہے کہ ملک بھر میں اسپتالوں کا نظام بہترین ہو۔ سیاست سے پاک پولیس بھی بہت بہتری لاسکتی ہے۔ اگر ضروری ہو تو موجودہ پولیس کے نظام کو ختم کر کے دیگر مہذب ممالک کی طرز پر جدید پولیس فورس قائم کی جائے۔ اس کے علاوہ پاکستانیوں کو کھلی جگہوں کو ٹوائلٹ کے طور پر استعمال کرنے، درخت کاٹنے اور شاپنگ بیگ کے استعمال سے روکنے والا یقیناً قائد ِ عوام کہلانے کا حقدار ہے۔ ٹرانسپورٹ کو سڑکوں پر باقاعدہ بنانا، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ، ریلوے جو انگریز راج کی دنیا کے اس حصے کے لئے سب سے بڑی عطاتھی اور جس کو ہم تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کو بحال کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے تاہم ہمارے ہاں جاری حماقت، جسے دانائی کا نام دیا گیا ہے، یہ ہے کہ یہ معاملات تو ہم سے درست نہیں ہو پا رہے لیکن ہم بل کھاتی ہوئی پہاڑی وادیوں میں سے گزرنے والی برق رفتار ٹرینوں کی باتیں کرتے نہیں تھکتے۔

سخت ڈسپلن کے دائرے کو دفاعی اداروں کے پراپرٹی بزنس سے لے کر سیاسی طبقے کو حاصل انتہائی استحقاق تک پھیلایا جائے۔ پاکستان کی بڑی حکمران اشرافیہ موجودہ ہو یا سابقہ دیگر مراعات یافتہ حلقوں کے پاس بہت دولت ہے اور وہ اپنے محافظوں کی فوج اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں پھر ان کی حفاظت کے لئے تمام ریاستی مشینری کیوں متحرک رہتی ہے۔ نئی دہلی میں بھی سیکورٹی ہے لیکن اس طرح کہ نہیں،حکمرانوں کے گزرنے کے راستوں کے دونوں طرف ہزاروں پولیس والے ایستادہ ہوں۔

گورنگ کا کہناہے کہ جب وہ لفظ کلچر سنتے ہیں تو بے اختیار ان کا ہاتھ اپنے پستول کی طرف اٹھ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کلچر کی عملی تشریح لاتعداد شادی ہالوں کی تعمیر کی صورت ہویدا ہے۔ جس ملک میں اتنے شادی ہال ہوں، اس کی تباہی کے آسمان سے پتھر برسنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیا دنیا کے کسی اور ملک میں بھی شادی کے نام پر ایسا فسادبرپا کیا جاتا ہے؟جب ہمارے ہاں اتنی وسیع وعریض مساجد موجود ہیں تو ان سے ملحقہ جگہوں پرشادیاں اور ان کے اندر نماز جنازہ کیوں نہیں ہو سکتیں؟ کیا یہ اسلام میں ممنوع ہے؟اور کیا عبادت گاہوں کو بہترین روحانی مقام بنانے کے لئے ان سے شیطانی ایجاد لائوڈ اسپیکر نہیں اکھاڑ پھینکے جاسکتے؟ ہم تہذیب کے دائرے میں قدم رکھنا کب سیکھیں گے؟ ہماری قومی سوچ کے کیا کہنے کے یہ تمام چیزیں کلچر کے نام پر ہمارے ہاں راسخ ہوچکی ہیں۔ حال یہ ہے کہ کھلے ہوئے گٹر، گلیوں میں بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ، ہوا کے دوش پر اُڑتے ہوئے شاپنگ بیگ، بے قابو ٹریفک اوران سے بڑھ کر لائوڈ اسپیکر ہمارے کلچر کے امتیازی نشان بن چکے ہیں۔ یہ معاملات کیوں درست نہیں کئے جاسکتے؟ کیا ان کے لئے بھاری بھرکم فنڈز درکار ہیں؟ نہیں، ان کے لئے ذہن بدلنے کی ضرورت ہے اور کوئی چیز بھی سخت ڈسپلن سے زیادہ ذہنیت کو تبدیل نہیں کرتی۔ دراصل اس وقت ہمیں کسی قسم کے فاشزم کی ضرورت ہے جو اس پھیلی ہوئی افراتفری کو کنٹرول کرسکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.