.

جارجیا سے

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہوٹل کے کمرے سے عمارت کا صحن نظر آتا ہے، صحن میں انگور کی بیلیں ہیں اور ان بیلوں کے درمیان چیری کا ایک درخت فخر سے دائیں بائیں دیکھتا ہے، چیریز پک چکی ہیں، سبز پتوں کے درمیان چیری کے سرخ گچھے لٹک رہے ہیں، یہ گچھے مجھے بار بار اپنی طرف بلاتے ہیں، میں درجنوں مرتبہ اپنے بستر سے اٹھا، نیچے جانے، چیریز توڑنے اور درخت کے سائے میں بیٹھنے کا ارادہ کیا، جوتے بھی پہن لیے لیکن پھر کسی ان جانی طاقت نے روک لیا، پھلوں سے لدے درختوں میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے، آپ خواہ کتنے ہی مضبوط اور شاکر کیوں نہ ہوں؟

یہ آپ کی توجہ بہر حال کھینچ لیتے ہیں، آپ اگر ان کے دام میں نہ آئیں تو بھی یہ آپ کے ارادوں پر ہتھوڑے برساتے رہتے ہیں اور چیری کا یہ درخت سارا دن یہی کرتا رہا۔ میں بستر پر لیٹتا، کھڑکی کا پردہ ہلتا اور درخت مجھے آوازیں دینے لگتا۔ آخر میں، میں کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھا تو دیکھا وہ درخت اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ آلو بخارے، اخروٹ اور خوبانی کے درخت بھی ہیں اور وہ بھی آوازیں دے رہے ہیں، تبلیسی پر شام اتر رہی تھی، افق سرخ تھا، روشنیاں جلنا شروع ہو چکی تھیں اور گھروں سے بچوں کی شرارتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، میں آ کر چیری کے درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا، ہاتھ بڑھایا، چیریز کا ایک گچھا کھینچا اور چیریز توڑ توڑ کر کھانے لگا۔

اس وقت ایک خیال آیا اور ذہن کی دیواروں کو چھیل کر گزر گیا ’’میں تبلیسی کیوں آیا ہوں،، شاید میرے نصیب کی یہ چیریز مجھے کھینچ کر یہاں لے آئیں یا پھر آلو بخارے کے درخت میں چھپی کوئل یا پھر رستا ولی کے قہوہ خانوں کی مہک یا پھر دریا کا گدلا پانی یا پھر تبلیسی کی اداس مسجد کا قدیم مینار یا پھر ترکوں کا گم گشتہ حمام یا پھر اجنبی آنکھوں میں شناسائی تلاش کرنے کی لت، کیا تھا جو مجھے یہاں لے آیا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا!

میں واقعی جارجیا کیوں آیا؟ تبلیسی کے ایئرپورٹ پر اترتے ہی یہ سوال میرے پاؤں کی زنجیر بن گیا، میرے ذہن میں جارجیا کا صرف ایک تصور تھا، ہم لوگ ذات کے گجر ہیں، میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا، یہ لوگ جارجیا سے نقل مکانی کر کے برصغیر آئے تھے، آج سے ہزاروں سال قبل کوئی مصیبت انھیں جارجیا کے پہاڑوں، میدانوں اور وادیوں سے برصغیر کی گرمی، گرد اور فساد میں لے آئی، یہ لوگ برصغیر پہنچ کر پورے ہندوستان میں بکھر گئے تاہم ہزارہ، کشمیر، پنجاب، ہماچل پردیش اور دہلی کے مضافات ان کا مستقل ٹھکانہ بن گئے۔
گیارہویں سے چودہویں صدی کے درمیان گجروں کی ایک اور نئی کھیپ ہندوستان پہنچی، وہ سنٹرل ایشیا کا مشکل ترین دور تھا، منگولوں سے لے کر تیمور تک طالع آزماؤں نے خوبصورت شہروں، وادیوں اور قلعوں کو روندنا شروع کر دیا، یہ لوگ اس قتل و غارت گری کے دور میں بھی جارجیا اور چیچنیا سے نکلے اور ہندوستان میں موجود اپنی ’’بلڈ لائین،، سے جا ملے۔ ڈاکٹر ہوتی جارجیا کا مشہور آرکیالوجسٹ تھا، یہ گجر قبائل پر ریسرچ کرتے کرتے 1967ء میں پاکستان اور بھارت پہنچا، یہ ہندوستان کے مختلف گجر قبائل سے ملا، اس نے ان کی آوازیں ریکارڈ کیں، لباس کی روایات اسٹڈی کیں، رسم و رواج کا مطالعہ کیا۔

ان کے برتن اور گھر دیکھے اور جانور پالنے کی خُو کا مشاہدہ اور آخر میں اس مشاہدے اور مطالعے کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا، یہ لوگ سو فیصد جارجیا اور چیچنیا سے تعلق رکھتے ہیں، یہ لوگ ’’گوجرستان،، سے ہندوستان آئے، ڈاکٹر ہوتی کا دعویٰ تھا، گجر جارجین زبان کا لفظ ہے، ان کی زبان، ان کا لہجہ بھی جارجیا سے ملتا جلتا ہے اور ان کی اسی فیصد رسوم و رواج بھی جارجین ہیں، پنجابی زبان میں بے شمار جارجین لفظ موجود ہیں اور یہ لفظ گجر اپنے ساتھ ہندوستان لائے تھے۔

میں شاید اپنی یہ جڑیں ٹٹولنے کے لیے جارجیا آ گیا یا پھر اس کی ایک اور احمقانہ وجہ بھی تھی، جارجیا ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے لیے آپ کو ویزے کی ضرورت نہیں پڑتی، آپ کے پاس اگر امریکا، برطانیہ یا یورپی یونین (شینجن) کا ویزہ موجود ہے تو آپ جارجیا میں داخل ہو سکتے ہیں، میں نے چند دن قبل دنیا کے ان ممالک کی فہرست نکالی جہاں جانے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں، جارجیا بھی اس فہرست میں شامل تھا چنانچہ میں نے جارجیا آنے کا فیصلہ کر لیا۔

جمعہ کی دوپہر تبلیسی ائیر پورٹ پر اترا تو زندگی بہت آہستہ آہستہ محسوس ہوئی، یہ اسلام آباد جیسا ائیر پورٹ تھا، ائیر پورٹ پر صرف ایک فلائیٹ اتری تھی، امیگریشن کاونٹر پر رش نام کی کوئی چیز نہیں تھی، امیگریشن آفیسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا، جمائی لی، مہر لگائی اور آگے بھجوا دیا، سامنے ’’پٹرول پولیس،، کا کاؤنٹر تھا، پٹرول پولیس کے آفیسر نے پاسپورٹ لیا، فوٹو کاپی کی اور مجھے جانے کا اشارہ کر دیا، گیٹ سے نکلنے لگا تو کسٹم کی خاتون نے روک لیا، پاسپورٹ دیکھا اور پوچھا ’’کیا پیسے ہیں،، میں نے انکار میں سر ہلایا اور جواب دیا ’’میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرتا ہوں،، اس نے پوچھا ’’یہ کیا ہوتا ہے،، میں نے اسے سمجھانا شروع کر دیا مگر وہ نہیں سمجھی، اس نے اسی نا سمجھی کے دوران مجھے باہر جانے کا اشارہ کر دیا، میں باہر آ گیا، باہر گرمی تھی، پتہ چلا جارجیا اپنے نیم گرم موسم کی وجہ سے یورپ بھر میں مشہور ہے، گرمیوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سنٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔

ملک سستا ہے ساحل، ہوٹل، شراب، شاپنگ، کھانا پینا، ٹیکسی، بسیں اور ریلوے سستا ہے، امن و امان بھی ہے، پولیس اور قانوں بھی سخت ہے، کرپشن انتہائی کم ہے، لوگ لبرل ہیں، شبانہ سرگرمیاں بھی عام ہیں، صفائی تقریباً پورا ایمان ہے، لوگ دوسروں کے معاملے میں اپنی ناک نہیں گھساتے چنانچہ یورپ، عرب، ترکی اور ایران کے سیاح جارجیا کا رخ کرتے ہیں، جارجیا کی حکومت نے ویزے میں خاصی رعایتیں دے رکھی ہیں، عراق، سعودی عرب اور مصر تک کے لوگ ویزے کے بغیر تبلیسی آ سکتے ہیں، اس رعایت نے تبلیسی کو انسانی اسمگلروں اور ایجنٹوں کے لیے جنت بنا دیا، یہ لوگ دنیا بھر سے مرغے پھانس کر یہاں لاتے ہیں، ان کی ماؤں کے زیور اور زمینوں کی کمائی اڑاتے ہیں اور انھیں یہاں بے یارو مدد گار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اس صورتحال نے جارجیا کی حکومت کو پریشان کر دیا ہے چنانچہ یہ اس ستمبر سے اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات صفر ہیں۔

پاکستان میں جارجیا کا سفارتخانہ ہے اور نہ ہی جارجیا میں پاکستان کا سفارتی عملہ۔ پاکستانیوں کے بارے میں ان کی معلومات صرف اسامہ بن لادن، خود کش حملوں، جنرل پرویز مشرف اور غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کے خواہش مند نوجوانوں تک محدود ہیں، یہ آج بھی ہماری رنگت کے لوگوں کو انڈین سمجھتے اور کہتے ہیں۔ جارجیا ’’وومن ڈامی نیٹنگ،، ملک ہے، عورتیں کام کرتی ہیں اور مرد ان کی کمائی پر عیش کرتے ہیں، آپ کو پورے معاشرے میں عورتیں ہی عورتیں دکھائی دیتی ہیں، عورت بہت ’’ایکٹو،، ہے، آپ کو کام کی تمام جگہوں پر عورتیں نظر آئیں گی، آبادی صرف ستر لاکھ ہے، رقبہ 69 ہزار 7 سو مربع کلو میٹر ہے، روس 70 سال جارجیا پر قابض رہا، یہ ملک 9 اپریل 1991ء کو روس سے آزاد ہوا لیکن روس کے اثرات آج بھی باقی ہیں، یہ ملک 2016ء میں یورپی یونین میں شامل ہو جائے گا لہٰذا ترقیاتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، حکومت دھڑا دھڑ زمینیں الاٹ کر رہی ہے۔

زرعی زمین ایک لارے (پاکستانی شرح میں ستر روپے) میں مربع گز مل جاتی ہے، پانی وافر مقدار میں موجود ہے چنانچہ زراعت کے امکانات بہت روشن ہیں، انڈسٹری نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا صنعتکاری کی ضرورت بھی موجود ہے، ہوٹل انڈسٹری ترقی کر رہی ہے، تعمیرات کا مٹیریل سستا ہے گھر بھی بن رہے ہیں، ہوٹل اور ریستوران بھی، چائے کے باغات بھی ہیں، قدرتی پانی کے چشمے بھی ہیں فروٹ بہت سستا اور دستیاب ہے، لوگ گوشت خور ہیں لیکن گوشت کی صنعت موجود نہیں چنانچہ گوشت ایران اور ترکی سے درآمد کیا جاتا ہے اور یہ خاصا مہنگا ہوتا ہے، لیبر بہت سستی ہے، دفاتر میں کام کرنیوالوں کی تنخواہیں دو سے 3سو لارے ہوتی ہیں۔

یہ ملک عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کا محکوم بھی رہا چنانچہ یہاں مسلمان بھی موجود ہیں، یہ کل آبادی کے پانچ فیصد ہیں، تبلیسی کی جامع مسجد قدامت اور جدت کا خوبصورت امتزاج ہے، میں مسجد میں داخل ہوا تو اس کی صفائی، ترتیب اور سلیقے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، بجلی، گیس اور پیٹرول سستا ہے، گاڑیاں زیادہ تر سی این جی ہیں، مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو تک سی این جی پر چلتی ہیں، روسی دور سے میٹرو بھی چلتی ہے، اس کا کرایہ بھی انتہائی کم ہے، شہر میں بسیں بھی ہیں، یہ بسیں بھی صاف ستھری ہیں۔

تبلیسی پہاڑوں میں گھرا ہوا شہر ہے، شہر کے درمیان سے دریا گزرتا ہے، دریا کے دونوں کناروں پر آبادی ہے، دریا پر پل ہیں، یہ پل شہر کے دونوں حصوں کو آپس میں جوڑتے ہیں، شہر کی انتظامیہ نے سیاحوں کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کے طالبعلموں کو ہائر کر رکھا ہے۔ یہ ’’ٹوریسٹ،، کی جیکٹ پہن کر شہر کے مختلف حصوں میں کھڑے ہوتے ہیں، یہ سیاحوں کو مفت معلومات دیتے ہیں، شہر میں بھکاری موجود ہیں لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں۔

تاہم یہ انتہائی ڈھیٹ ہیں، بالخصوص بھکاری بچوں سے بچنا مشکل ہے، یہ اچانک آتے ہیں اور آپ کی ٹانگ کے ساتھ لٹک جاتے ہیں، آپ ان کی لاکھ منتیں کریں، یہ آپ کی ٹانگ نہیں چھوڑتے، میری ٹانگین کئی بار ان بچوں کے قبضے میں آئیں، میرے پاس سکے نہیں تھے اور میں نوٹوں کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں تھا چنانچہ میں فٹ پاتھ پر بیٹھتا اور بچوں کے پاؤں پکڑ لیتا، یہ منظر دیکھ کر راہگیروں کی ہنسی چھوٹ جاتی، بھکاری بچے تھوڑی دیر اس صورتحال کو انجوائے کرتے لیکن پھر جلد ہی پریشان ہو جاتے، یہ پاؤں چھڑانے کی کوشش کرتے مگر میں ان کا پاؤں نہ چھوڑتا، یہ مقامی زبان میں منتیں کرتے اور میں پنجابی میں ان کے ترلے کرتا، لوگ قہقہے لگاتے، میں ذرا سی دیر میں بھکاری بچوں میں اتنا بدنام ہو گیا کہ یہ مجھے دیکھ کر دوڑ لگا دیتے تھے اور آخری بات تبلیسی میں پاکستانی بھی ہیں، مجھے انھوں نے تلاش کر لیا اور میں نے انھیں ڈھونڈ نکالا اور ہم دونوں فریق اب ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.