.

کیا ایرانی عربوں اور اسلام سے نفرت رکھتے ہیں؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عوام کی اکثریت کو بھی دنیا کے دیگر بہت سارے ان لوگوں کی طرح فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے جو عرب خطے کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے کوئی قربت یا معاملہ نہیں رکھتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ عذاب ناک ناانصافی کا معاملہ ہے جس کا فلسطین کی پوری آبادی پچھلے کئی عشروں سے نشانہ بنی ہوئی ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ پڑوسی ممالک میں مرتب کیے جانے والے جائزے کس قدر درست ہیں۔ لیکن اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ایرانی، فلسطینیوں کے لیے کم ہمدردی ظاہر کرتے ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، تو شاید کسی حد تک معاملہ بھی یہی ہے۔ ہمارے لیے ان جذبات کو سمجھنا مشکل نہ ہو گا کہ یہ جذبات اس قدر منفی کیوں ہو جاتے ہیں؟

سبز انقلاب

جب سے ایران میں سبز انقلاب آیا ہے، لاکھوں ایرانی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے خلاف سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ ہمیں ایران کی گلیوں میں حکومت مخالف نعرے بھی سننے کو مل رہے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر سوچیے کہ یہ ایرانی رجیم کی غیر معمولی حد تک قربت رکھنے والی حزب اللہ کیلیے ایرانی حمایت کرنے کے خلاف احتجاج ہے۔ یہ احتجاج شامی جنگ کے دوران ایران کی طرف سے اسد رجیم کے دفاع اور تحفظ پر خرچ کی گئی خطیر رقومات کے خلاف تھا۔ یہ احتجاج ایرانیوں کو شام میں لڑنے کے لیے بھیجے جانے کے بھی خلاف تھا؟ ایران نے اپنی عمومی پالیسیوں کے خلاف بھی تحریک کو پنپتے دیکھا ہے۔ ایرانی دانشوروں کی بڑی تعداد تہران کی خارجی سرگرمیوں کے علاوہ ایران کی سیاسی حقیقتوں اور نعروں کے فرق کو بھی خوب سمجھتی ہے۔

مذاکرات کی آڑ

ایران کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت عام طور پر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے مخالف گروپوں کو حاصل رہی ہے۔ جیسا کہ ایران حماس، اسلامی جہاد اور حزب اللہ کا حامی رہا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی قبضہ چھڑوانے کے لیے ایران کوئی متبادل فوجی یا سیاسی لائحہ عمل پیش کیے بغیر ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو رکوانے کی کوشش میں رہا ہے۔ دوسری جانب ایران، فلسطینیوں کو جو حمایت دیتا رہا ہے وہ اس قدر کمزور اور کوتاہ رہی ہے کہ اس سے اسرائیل کو کبھی ایران پر غصہ آیا نہ اشتعال۔ لیکن فلسطینیوں کے لیے یہ ایرانی حمایت خطے کو آگ کی نذر کرنے کے حوالے سے بہرحال کافی رہی ہے۔

ایرانی قیادت ملکی دانشوروں کو کچلنے کی اپنی پالیسی پر پردہ پوشی کے لیے متعدد جواز پیش کرتی چلی آ رہی ہے۔ ان میں اسرائیل کا مقابلہ نہ کر سکنا اور اسلام کا کما حقہ دفاع کرنے میں ناکامی ایسے جواز ہیں کہ جنہیں گھڑ کر ایرانی قیادت اپنے عوام کو دھوکا دینا چاہتی ہے۔ نیز ملکی معیشت پر قابو پانے میں ناکامی کا اعتراف بھی ایک ایسا حربہ ہے کہ جو تہران کو عوامی ردعمل سے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اس وجہ سے بعض لوگ ایرانی رجیم سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت کوئی ایسا منصوبہ موجود نہیں ہے جو فلسطینیوں یا لبنانیوں کے خلاف ہو۔

ایرانیوں کی طرف سے عربوں کے خلاف مزاحمت کے بارے میں گفتگووں کے ساتھ ہی ساتھ مذہب اسلام کے خلاف نفرت بجائے خود ایسی نفرت ہے جو ایرانیوں کی اکثریت کی مذمت کا باعث بنتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں اسلام کے بارے میں اپنی نفرت ظاہر کرتے ہیں اور علماء کے اس طبقے کے خلاف جو حکمران ہے۔ ان نفرت کی زد میں علماء کو بد عنوانی اور طاقت حاصل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ نفرت اس ایرانی رجیم کی طرف سے بھی ہے جو مذہب اور اس کے لبادے کو ایرانی عوام پر اپنے بے اصولی پر مبنی اقتدار کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ایران کی حکمران رجیم کی ناکامی اور عوامی بے بسی کی وجہ سے عالمی برادری میں ایران کی سرکاری شناخت بری طرح مسخ ہو چکی ہے۔ انیس صد اسی کے عشرے کے بعد جب اسلامی عروج کے دور کی عربوں نے بھی قدر افزائی اور خیر مقدم کیا تھا۔ سالہا سال سے جس طرح مذہب اور ایشوز کو اٹھایا گیا ہے یہ ایرانی عوام کے لیے بڑا مایوس کن رہا ہے۔ اگرچہ ایرانی عوام کی اکثریت نہیں جانتی کہ ان کی طرح عربوں کی اکثریت بھی یکساں طور پر شام کی اسد رجیم، ابن الوقت گروپ حزب اللہ اور حماس کے لیے نفرت رکھتی ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.