.

کیا عمران خان پاگل ہوگیا ہے؟

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چونکہ شرمناک لفظ گالی نہیں، اس لئے براہ کرم پاگل کو بھی گالی شمار نہ کیا جائے۔ چلئے جنونی کہہ لیتے ہیں، جوشیلا کہہ لیتے ہیں، جوانی اور توانائی کا مجسمہ کہہ لیتے ہیں، عزائم کا پہاڑ کہہ لیتے ہیں، کچھ تو کہہ لینے دیں، اس لئے کہ وہ نارمل توہر گز نہیں۔ نارمل انسان زندگی کی دوڑ میں آگے ہی آگے نہیں جا سکتا، نارمل انسان امنگوں سے سرشار نہیں ہوتا۔ نارمل انسان کوئی ابنارمل حرکت کرنے کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری ہوتا ہے۔چلئے عمران خان کو کھلاڑی کہہ دیتے ہیں اور یہ تو وہ ہے، یہ تو اس کے لئے کوئی گالی نہیں۔

عمران خان کی سیاست اتار چڑھاﺅ کا شکار رہتی ہے، اسی طرح میری رائے بھی اس کے بارے میں بدلتی رہتی ہے۔ کبھی وہ پوری قوم کی طرح میرا بھی ہیرو ہوتا ہے اور گاہے زیرو۔ اس نے ورلڈ کپ جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ حالیہ انتخاب اس نے ہسپتال کے بستر پر ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ لڑا اور یہ بیماری مصنوعی نہ تھی، اس کی جان جا سکتی تھی مگر وہ پھر سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے موت اور تقدیر کے سامنے ہار نہیںمانی تو سیاسی مخالفین کے سامنے کیسے دو زانو ہو کر بیٹھ جاتا۔ وہ میانوالی کا پٹھان ہے، مہمان کے لئے اس میں پٹھانوں والی حیا ضرور ہے۔ میاں نواز شریف بنی گالہ گئے تو عمران نے ان پر دروازے بند نہیں کئے مگر دل کے دروازے کھولے بھی نہیں۔ میاں نواز شریف اس کے پاس ہسپتال بھی گئے تھے۔ میاں صاحب کا دل کبھی بے حد رقیق ہو جاتا ہے، وہ پنڈی کے ایک ہسپتال میں محترمہ بے نظیر کے سرہانے بھی کھڑے ہوئے، محترمہ ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں تھیں۔ سیاست دانوں میں اختلاف ہونا چاہئے، دشمنی نہیں ہونی چاہئے، شاید عمران خاں نے یہ سبق کہیں سے سیکھ لیا ہو۔ اپنے بچوں کی جدائی کے دکھ کو سہہ کر ہی سیکھ لیا ہو۔

عمران خان کی سیاست اس وقت جوبن پر ہے، اس نے ایک سال سوچ بچار میں گزارا، پلاننگ پر توجہ دی۔ الیکشن سے پہلے بھی اس نے ن لیگ کو چکر اکر رکھ دیا تھا۔ اس قدر کہ ن لیگ کے بڑے بڑے بھی اس پر یہ الزام لگائے بغیر نہ رہ سکے کہ اسے آئی ایس آئی چیف کی شہہ حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ اگر سیاست کے سارے سبق اس نے آئی ایس آئی کی درس گاہ سے سیکھے ہیں تو باقی لوگ بھی وہیں زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہوں گے۔ مگر مسلم لیگ (ن) بھول گئی کہ عمران خاں کو کرکٹ کے داﺅ پیچ تو آئی ایس آئی نہیں سکھا سکتی تھی۔ یہ محض فیضان نظر تھا، یہ اس کی روح کے اندر ایک تڑپ تھی جس نے کرکٹ میں اسے اونچا اور اونچا اڑایا۔ آئی ایس آئی چیف ریٹائر ہو کر دبئی چلے گئے، اپنے سابق ادارے پر ان کا کوئی ہولڈ باقی نہیں رہا اور جو نئے چیف ہیں ، وہ ایک میڈیا ہاﺅس کے نوٹس کا جواب سوچیں یا اس کو ہرجانے میں ادا کرنے کے لئے پچاس ارب روپے اکٹھے کریں یا عمران خان کو سیاست کے گر سکھائیں۔

میرا تو تجزیہ ہے کہ اب عمران کی اڑان اس کی اپنے پروں پر ہے۔ اس کی پارٹی کے کسی چھوٹے موٹے لیڈر سے بھی میرا کوئی رابطہ نہیں، اس لئے میری رائے پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ عمرا ن خان کے نوجوان ایک تو سوشل میڈیا پر اسی طرح متحرک ، فعال اور سرگرم ہیں جیسے الیکشن سے پہلے تھے۔ ان نوجوانوں نے جنہیںکوئی برگر کلاس کہتا ہے، کوئی ممی ڈیڈی نسل ہونے کا طعنہ دیتا ہے۔ انہوںنے روایتی سیاست بھی کامیابی سے کر دکھائی، ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ منظم بھی تھے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ چلچلاتی دھوپ میں پگھل جائیں گے مگر جینز، ٹی شرٹس اور نیکروں میںملبوس نوجوان لڑکوں اور لڑکیوںنے پینتالیس سنٹی گریڈ کی چلچلاتی دھوپ میں دھمال ڈالی، کوئی کہتا تھا کہ پی ٹی آئی کی خواتین کا غازہ لب و رخسار پر بکھر جائے گا مگر سب کچھ سُننے اور سہنے کا حوصلہ کوئی پی ٹی آئی کے کارکنوں سے سیکھے۔ آپا مہناز رفیع سب کچھ سُن کر صرف مسکرا دیتی ہیں۔ بس مجھے کسی اور کا نام نہیں آتا۔ ہاں، ایک عندلیب عباس ہیں جو میری معذرت پہ معذرت کے باوجود مجھے ہر ایونٹ پر مدعو کرتی رہتی ہیں اور اسلام آباد والے بھی ایس ایم ایس کرتے ہیں، یہی تو رابطہ کاری کا راز ہے جو پی ٹی آئی نے پا لیا ہے۔ کل مجھے واہ کینٹ کے رہائشی کالم کار تنویر قیصر شاہد بتا رہے تھے کہ انہیں سیالکوٹ کے جلسے میں شرکت کی دعوت ملی ہے، شاید اس لئے کہ ان کا تعلق سیالکوٹ اور نارووال سے ہے۔

عمران خاں جلسے کیوںکر رہا ہے۔ محض لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ یا کوئی گہری چال۔ معاملہ جو بھی ہے ، ہے سوچا سمجھا ہوا، یہ ابھی چلے گا ، جھاگ کی طرح بیٹھ نہیںجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے لاہور اور فیصل آباد میں جوابی جلسے کر دیکھے مگر وہ جلد ہی ہانپ گئی اور کوئی خاص رونق میلہ بھی دیکھنے کو نہیںملا۔ سو پی ٹی آئی کے سامنے میدان کھلا ہے۔ کراچی میں مخصوص دنوں میں دھرنے ضرور ہو جاتے ہیں مگر وہ لوگ کسی اور صوبے میں کوئی کمال نہیں دکھا سکتے، اب سارا کمال پی ٹی آئی کو دکھانا ہے۔ وہ شہر شہر اپنی پٹاری کھول رہی ہے، اس کی طاقت نے مسلم لیگ (ن) کو چکرا دیا ہے، نواز شریف ہوں یا شہباز شریف یا رانا ثنااللہ، سب کا سانس پھولا ہوا ہے۔ اتنا تو کہتے ہیں کہ کوئی شکایت ہے تو پارلیمنٹ میں آﺅ، سڑکوں پر گندے کپڑے نہ دھووو۔ مگر پارلیمنٹ میں نہ نواز شریف جاتا ہے، نہ صوبائی اسمبلی میں شہباز شریف جاتا ہے، تو کیا پی ٹی آئی والے رانا ثنااللہ اور عابد شیر علی سے کبڈی کھیلیں گے۔ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کی اہمیت اور طاقت کو نہیںمانتی تو پی ٹی آئی پر کیسے لازم ہو گیا کہ وہ اپنا ڈھول پارلیمنٹ میں بجائے، وہاں تو ایک دستی کو بولنے نہیں دیا جاتا، سپیکر نے درشت لہجے میں کہاکہ کوئی اور طریقہ اختیار کروں، یقینی طور پر یہ غیر پارلیمانی طریقہ ہوتا۔ بھٹو دور میں چند گنتی کے ارکان اپوزیشن کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے ایوان سے باہر پھینکوا دیا گیا۔

اور اگر باہر ہی پھینکوانا ہے تو عمران خاں نے حکومت کے موڈ کو دیکھتے ہوئے باہر کھلے میدا ن میں کھیلنے کو ترجیح دی ہے، یہ ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ سیاست اسی کا نام ہے۔ انہوںنے حکومت کو گرانے کا نام نہیں لیا لیکن جمہوری نظام میں حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ جدوجہد کر کے گرانے کا جواز موجود ہے۔ صرف، جمہوریت کو ڈی ریل نہیںکیا جا سکتا، یعنی غیر جمہوری، فوجی، شخصی، آمرانہ حکومت قائم نہیں کی جا سکتی۔ مگر مڈٹرم انتخابات کے ذریعے نئی حکومت منتخب کی جا سکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن)کی لیڈر شپ نے جو شہزادگی اختیار کر رکھی ہے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔ جمہوری نظام میں اس کا بھی کوئی جواز نہیں۔ مک مکا کے تحت دو پارٹیاں بھی جمہوریت کی بندر بانٹ نہیںکر سکتیں۔ جمہوریت پر ایمان ہے تو عمران خان کا مقابلہ کرنا پڑے گا، وہ پاگل نہیں ہو گیا، اس نے بہت سوچ بچار کی ہوگی، اسی لئے اس کے تیر نشانے پر لگ رہے ہیں۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.