.

گرفتاری اور ایم کیو ایم کا مستقبل

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الطاف حسین کو قسمت ایک فیصلہ کن موڑ پرلے آئی ہے۔ حال ہی میں لندن میں ان کی گرفتاری کا مطلب یہ کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔ وہ گزشتہ ڈھائی عشروں، جن میں سے وہ زیادہ عرصہ جلاوطن رہے، سے ایم کیو ایم کوکنٹرول کررہے تھے تاہم اب محتاط الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ ان کا کھیل اختتام کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے برطانوی حکام ان کےخلاف تین سنگین کیسز کی تحقیقات کررہے تھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس، منی لانڈرنگ اوراشتعال انگیز تقریر۔ ان تمام کیسز میں حکام کے پاس اتنے ثبوت موجود تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ اُنہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ عمران فاروق کے دو مبینہ قاتلوں، محسن علی سید اور کاشف کامران کا سراغ لگا چکی ہے۔ جب وہ پاکستان واپس آئے تو اطلاع ہے کہ اُنہیں آئی ایس آئی نے پکڑ لیا۔ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے کئی مکانوں پر چھاپہ مارا جو ایم کیو ایم کی ملکیت ہیں۔ ان میں وہ مکان بھی شامل ہے جہاں الطاف حسین صاحب رہائش پذیر ہیں۔ وہاں سے پولیس کو چار لاکھ پائونڈز ملے۔ اس رقم کے حوالے سے لندن پولیس منی لانڈرنگ کیس پر تحقیقات کررہی ہے۔

مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ الطاف حسین اور ان کے قریبی رفقاء نے ناجائز دولت سے لندن میں کئی ایک مکانات خرید رکھے ہیں۔ لندن پولیس کے پاس شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی طرف سے کی جانے والی شکایات بھی موجود ہیں کہ گزشتہ انتخابات کے موقع پر جب عمران خان ایم کیو ایم کی طرف سے کی جانے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو الطاف حسین نے ان کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ گزشتہ ایک سال سے ایم کیو ایم کے کئی ایک سینئر رہنمائوں سے لندن پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ چند ایک کو حراست میں بھی رکھا گیا لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تاہم ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی۔ حال ہی میں الطاف حسین کے برطانیہ میں بنک اکائونٹس منجمد کر دیئے گئے۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ شاید اُنھوں نے برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

ہونے والی اس ناروا پیشرفت نے الطاف حسین کو مجبور کردیا کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ہی اُنھوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو الرٹ کردیا کہ وہ کسی بھی صورت ِ حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ اس کی ایک ہلکی سی جھلک تو کراچی کو عارضی طور پر بند کردینے کی صورت دکھائی دی۔ اب معاملات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں؟ الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت ہو گئی ہے لیکن عمران فارق قتل کیس ان کے سر پر ایک خطرے کی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ اس کیس میں مزید پیشرفت اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک برطانوی حکام اُن دو مبینہ قاتلوں کو پاکستان سے حاصل کر کے گواہی کا عمل مکمل نہیں کرتے۔ اس دوران ایم کیو ایم کے قائد کو صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ چونکہ اس کیس کے دوران برطانوی حکام اُن پر کڑی نگاہ رکھیں گے، اس لئے امکان ہے کہ وہ اپنے قریبی رفقاء اور پیغام رسانوں سے دور ہوجائیں گے اور ایسی صورت میں پارٹی پر ان کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس کے بعد ایم کیو ایم کا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہونا بھی خارج ازامکان نہیں۔ مخالفین کہتے ہیں کہ جب سے برطانوی حکام نے الطاف حسین سے پوچھ گچھ کرنا شروع کی ہے تو ان کے کچھ قریبی ساتھی ان سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال مصطفیٰ کمال اور انیس ایڈووکیٹ کی دوری ہے۔

اس پسِ منظر میں ایم کیو ایم کو کراچی اور لندن میں کھلی یا پوشیدہ پیشرفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بعض مخالفین اس شبہ کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ لندن میں موجود ندیم نصرت اور انور بھائی، جن کے طرزِ عمل سے گھبراہٹ آشکار ہونا شروع ہو گئی ہے، وہ طاقت حاصل کرنے اور اپنے بچائو کا سامان کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ساز باز کرلیں۔ اس سے الطاف حسین کی لندن آفس پر گرفت کمزور ہوجائے گی۔ مزید یقین انہیں یہ بھی ہے کہ کچھ کارکن جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بچائو کی خاطر الطاف حسین اورایم کیو ایم کے بارے میں معلومات لندن پولیس کے ساتھ شیئر کرنے پر راضی ہو جائیں۔ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی سنگینی سے بچنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں روپوش ہو جائیں۔ کچھ سینئر رہنمائوں کو لندن پولیس دوبارہ طلب کر سکتی ہے۔ جس دوران لندن میں یہ واقعات رونما ہورہے ہوں گے تو کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی برپا کی جاسکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے دبائو ڈالنا چاہیں یا کچھ اور مقاصد ان کے پیش ِ نظر ہوں۔ اس صورت میں گورنرعشرت العباد کا کردار بہت اہم ہو گا۔ ایم کیو ایم کے یہ شاید واحد لیڈر ہیں جو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ اور پی پی پی بلکہ پی ایم ایل (ن) کے لئے بھی قابل ِ قبول ہیں۔ وہ اپنی متوازن فطرت کی وجہ سے اسلام آباد میں تین حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ صرف یہی نہیں، وہ سیماب صفت الطاف حسین کے ساتھ چودہ سال سے وابستہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کی طاقتور شخصیات، جیسا کہ فارق ستار، آفاق اور عامران کے ساتھ مقابلے پراترآئیں گی۔

افراتفری کے اس عالم میں پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) سے بھی زیادہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اہم ہو گا۔ کراچی کے کور کمانڈر نے ایم کیو ایم کو پہلے ہی خبردار کردیا ہے کہ کراچی کو طاقت سے بند کرنے کی کوشش سے باز رہا جائے۔بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس آئی بھی محسن اور کاشف کو کچھ بلوچ علیحدگی پسندوں کے عوض برطانوی حکام کے حوالے کرنے کے لئے بات چیت کر رہی ہے۔ شواہد بتاتے ہیں اگر ایم کیو ایم نے کسی قسم کی شورش پھیلانے کی کوشش کی تو رینجرز اس صورت ِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاری ضرب لگائیں گے اور اپریشن کلین اپ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

جہاں تک اس مسئلے کے سیاسی پہلو کا تعلق ہے تو قیاس اغلب ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی تحلیل کا سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ الطاف حسین کے جبر سے رہائی پانے کے بعد خان صاحب کی صفوں میں شامل ہو جائیں۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.