.

بھارت کی غیر فعال حزب مخالف

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ چند دنوں کے دوران بھارت کو بدنامی کا داغ سہنا پڑا ہے۔ اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں دو نوجوان دلت لڑکیوں کی آبروریزی کی گئی اور پھر انہیں درخت کے ساتھ لٹکا دیا گیا۔

دہلی پولیس نے آبروریزی کا شکار چار لڑکیوں، جنہیں ہریانہ کے ایک گاؤں سے اغوا کیا گیا تھا، کے گھرانوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی اور ان پر حملہ کر دیا جو دارالحکومت میں انصاف کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ ایک مسلمان نوجوان خاتون کو دائیں بازو کی ایک ہندو تنظیم نے اس بنا پر ہلاک کر دیا کہ وہ شیواجی اور دیگر کی تصاویر کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔

ان تمام حالات کے درمیان، اس تشدد کے خلاف سول سوسائٹی، مظاہروں کا اہتمام کر رہی تھی اور بیانات دے رہی تھی۔ اس موقع پر بھارتی حزب مخالف کا کہیں پتا نہیں۔ حزب مخالف اس لیے کہا جا رہا ہے کہ یہ جمہوریت کی اصطلاحوں میں سے ایک اصطلاح ہے، خاص طور پر بھارت میں کوئی بھی حکومت، موثر حزب مخالف کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔ حکومتیں، قطع نظر اس کے کہ کتنی ہی مضبوط ہوں، حزب مخالف کے بغیر حکومت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں جس کا کام حزب اقتدار کی خامیوں کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

اس وقت کانگریس جماعت کہیں دلدل میں ڈوب چکی ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اس حقیقت کا ادارک کر ہی لیا ہے کہ راجیو گاندھی ، پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں، اس لیے انہوں نے کرناٹک سے ایک کہنہ مشق سیاستدان کو پارلیمان میں جماعت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

یہ کہا نہیں جا سکتا کہ وہ نفرت کی اس لہر سے آگاہ ہیں جو بھارت کے عوام میں کانگریس کے لیے موجود ہے۔ اگر سونیا گاندھی اس ضمن میں کچھ نہیں کرنا چاہتیں یا کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ان کی لیے ہاراکاری کی اصطلاح ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔

اس وقت بائیں بازوکی جماعتوں نے محض تین ریاستوں میں اپنے وجود پر اکتفا کر لیا ہے، مغربی بنگال، تریپورہ اور کیرالا۔ اترپردیش اور بہار کی علاقائی جماعتیں، لوک سبھا کے انتخابات میں پتھر کے مانند ڈوب گئی ہیں۔ لیکن اگر جنگجو سرداروں کے رویے پر غور کیا جائے، تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض اپنی ریاستوں میں ہی برسراقتدار ہی نہیں بلکہ مرکز میں بھی برسراقتدار ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے وزیراعلیٰ ملائم سنگھ کی حالت انتہائی بری ہے کہ مظفرنگر میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کے بعد ان کی ریاست میں اب دو نوجوان لڑکیوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

ان کی طرف سے بولے گئے الفاظ ’’مرد، مردہی رہیں گے!‘‘ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لوگ اپنے طور پر تو بہت کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سول سوسائٹی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ جس ہجوم کو دہشت پھیلانے اور سڑکوں پر گاڑیاں جلانے کی اجازت دے دی گئی، اس نے بالآخر ایک بے گناہ آئی ٹی پروفیشنل کو پکڑ لیا اور اسے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ اس ضمن میں حزب مخالف نے ایک بیان تک جاری نہیں کیا اور نہ ہی کسی وفد کو جائے وقوعہ پر بھیجا ہے، اور نہ ہی وزیراعلیٰ نے کسی دورے کا اہتمام کیا ہے۔

اب وقت ہے کہ حزب مخالف فعال اور متحرک ہو، ورنہ حکومتیں ، جمہوریت کے اس دور میں مطلق العنان اور ظالم بن جائیں گی جو خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھیں گی۔ بھارت کی وفاقیت نے اپنا نہایت بھرپور آغاز کیا لیکن بہت سی علاقائی جماعتوں نے مطلق العنانیت اپنا لی ہے۔ اب کسی بھی جماعت کے اندر جمہوریت موجود نہیں اور پارٹی کا سربراہ ہی فیصلہ کرتا ہے۔

اس صورت حال کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ جبکہ وفاقی پارٹیوں کے لیے بھارتی جمہوریت میں جگہ موجود ہے اور متحرک حزب مخالف کے لئے بھی مناسب مقام موجود ہے جس طرح موجودہ انتخابات میں اس امر کی نشاندہی ہو چکی ہے لیکن موجودہ حزب مخالف کسی بھی قسم کے اعتماد سے محروم ہے۔

جہاں حزب مخالف نے کارکردگی دکھائی ، وہاں وہ جیت گئی، مثلاً تامل ناڈو میں جے للیتا، مغربی بنگال میں مماتابینرجی اور اوڑیسہ میں نوین پیٹنائک،وغیرہ۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا انتخابی زنجیروں سے ایک فعال حزب مخالف ابھرے گی جو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کر سکتی ہو ؟ یہ ایک نہایت ہی اہم سوال ہے جس کا کسی کے پاس بھی واضح جواب نہیں لیکن ایک دو ماہ میں صورت حال واضح ہو جائے گی۔

بشکریہ: روزنامہ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.