.

آدم خور

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل ضیاء الحق کے دور میں’’ ہتھوڑا گروپ‘‘ نے رات کے اندھیرے میں سوتے ہوئے خاندانوں کو نشانہ بنایا ۔خوف وہراس کی فضاء میں لوگوں نے چھتوں اور صحنوں میں سونا چھوڑ دیا۔ آج کل اسلام آباد میں آدم خور انسانوں کی موجودگی کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔بہت سے لوگوں خصوصا ماؤں کی نیندیں اڑ گئی ہیںمگر موجودہ حالات میں ایک اور قسم کا آدم خور گروہ بھی میدان میں آچکا ہے۔ یہ وہ آدم خور گروہ ہے جواختلاف رائے کو غداری اور کفر کے فتوؤں میں لپیٹ کر انسان کو انسانوں کے خون کا پیاسا کردیتا ہے۔ یہ آدم خور ہتھوڑا گروپ عوام کو یہ بتاتا ہے کہ زبان بندی میں دینی اور دنیاوی عافیت ہے ۔اس گروہ کے بیانات سے لگتا ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں غداروں اور کافروں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جس کیلئے ان ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کی نس بندی اور نسل کشی انتہائی ضروری ہے۔یوں لگتا ہے کہ اکثریت کے بل بوتے پر ملک دشمن اور اسلام دشمن عوام نے اپنی حکومتوں میں بھی غداروں اور کافروں کو منتخب کرلیا ہے۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے پاکستان زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعروں کی بجائے اب فلاں کافر اور فلاں غدار کے نعرے لگا کر ہی زندہ رہا جاسکتا ہے۔ حب الوطنی کے تربیتی کورس اور ورکشاپوں میں شریک نہ ہونے والے افراد کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

چند موقع پرست افراد اور اداروں کیلئے حب الوطنی کے فتوے اور اسلام کے سرٹیفکیٹ بانٹنا ایسا کاروبار بن گیا ہے جس کی فرنچائز اب ٹی وی اینکروں کو بھی دی جاچکی ہے۔ بنکوں سے کریڈٹ کارڈ لے کر اس پر لاکھوں روپے سود ادا کرنے سے قاصر چند اینکر حضرات علماء کے پہلو میں بیٹھ کر سود کیخلاف پروگرام کرتے ہیں۔اسی طرح چند دوسرے صحافی و اینکر حضرات جو خود تو سکالر شپ کے نام پر مغربی حکومتو ں کے خیراتی ٹکڑوں پر کئی سال یورپ میں عیاشی کرتے رہے وہی صحافی آج غیر ملکی کمپنیوں اور سماجی اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں عام پاکستانیوں کی وفاداری پر شک کا اظہار کررہے ہیں۔

منافقت کی انتہا یہ ہے کہ ایک پروگرام میں غیر ملکی امدادی اداروں کیلئے کام کرنے والے پاکستانیوں کی وفاداری مشکوک قرار دینے کی کوشش کی گئی اور اسی پروگرام میں ایک بڑے غیر ملکی امدادی ادارے کا اشتہار بھی چلتا رہا۔ حب الوطنی کے ایسے ٹھیکیداروں کی حالت اس نالائق طبیب سے مختلف نہیں جوکہ ہر مریض کی تشخیص کرنے کی بجائے تمام مریضوں میں ایک ہی لال شربت بانٹتے ہیں۔ اپنی پیشہ وارانہ کوتاہیوں اور نالائقی کو چھپانے کیلئے یہ اینکر اور صحافی حضرات پاکستان کے اصلی دشمنوں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ بے نقاب کرنے کی بجائے پورے طبقے یا کمیونٹی کو مورد الزام ٹھہرا کر معصوم عوام کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ منبر اور میزبان کی کرسی پر بیٹھے یہ چند مفتی اینکر اور اینکر مفتی حضرات ایسے بھی ہیں جو شائد اپنے بیوی بچوں تک سے وفادار نہیں مگر ملک سے اپنی وفاداری کا دم بھرتے نہیں تھکتے۔

بدقسمتی سے حب الوطنی کا ایسا ہی لال شربت ہماری سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں بیچا۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیاسی نظریئے اور فنڈز اکٹھا کرنے کے طریقہ کار سے بہت سے لوگوں کو اختلات ہوسکتا ہے مگر جس طریقے سے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جماعت کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کی دوہری شہریت کو سیاسی انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا وہ کسی نالائق طبیب کے لال شربت سے کم نہیں۔ اسی ذہنیت اور سوچ کو لے کر اس آدم خور ہتھوڑا گروپ نے غیر ملکی اداروں بشمول این جی اوز میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو پاکستان دشمن قرار دینے کی مہم چلا رکھی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ کچھ غیر ملکی اداروں اور این جی اوز میں پاکستان دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیںمگرکیا ہماری پولیس اور طاقتور خفیہ ادارے اتنے بے بس ہیں کہ آج تک کسی ایک کیخلاف بھی ثبوت کے ساتھ کارروائی نہیں کی گئی۔

منبروں اور ٹی سکرینوں پر بیٹھ کر مخصوص طبقے یا شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو کافر یا غدار ان وطن قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے خانہ جنگی کے شکار کسی ملک میں کسی قبیلے یا خاندان کے تمام افراد کو واجب القتل قرار دے کر اس کے قتل عام کیلئے معصوم عوام کو اکسانا۔اگر ’’ڈالر کمانے والے‘‘تمام پاکستانی غیر ملکی ایجنٹ قرار دیئے جائیں گے تو پھر بیرون ملک مقیم اسی لاکھ سے زائد پاکستانی جو اربوں ڈالر زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور ملازمت کی مجبوری کے تحت ان غیر ملکی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں جن کے مالک انڈین یا اسرائیلی ہیں تو پھر وہ کیا کریں؟ کیا وہ ایک ’’محب وطن پاکستانی‘‘ کی طرح بھوکے مر جائیں یا پھر ایک ’’غدار‘‘بن کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے رہیں۔ اس کا جواب کسی اوسط ذہن کے شخص کیلئے بھی مشکل نہیں ہونا چاہئے۔

خدارا!آدم خور’’ ہتھوڑا گروپ ‘‘ کو اس خونخوار اور نفرت انگیز حب الوطنی کے ڈھنڈورے کو بند کرنا ہوگا۔ ہمارے اداروں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ مخصوص ملک دشمن عناصر کیخلاف قانونی کارروائی کرنا ہوگی ورنہ پھر لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ غیر ممالک سے اربوں ڈالر لے کر ہماری سیاسی قیادت نے آج تک کیا کیا بیچا۔ خاص کر وہ قیادت جس نے امریکا اور یورپ میں تعلیم و تربیت حاصل کی اور اپنے پیشے میں سرخرو ٹھہریں۔ کیا یہ ساری قیادت ملک دشمن اور غیر ملکی ایجنٹ تھیں۔

ہمارے حساس ترین اداروں کے سربراہان آج غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کے تھنک ٹینک کیلئے کام کرتے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر)پاشا کو ملک کے حساس ترین رازوں کے امین ہونے کے باوجود اپنی ریٹائرمنت کے اگلے ہی روز ملک سے باہر جانے اور نوکری کرنے کی کیسے اجازت مل گئی؟ہم نے تو سنا ہے کہ ایسے حساس عہدے والے شخص کو کم از کم دو سال تک ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسی طرح فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر)جہانگیر کرامت امریکی تھنک ٹینک کیلئے کام کرتے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف بھی یقینا غیر ملکی اداروں اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دے کر پاکستانی روپوں میں معاوضہ وصول نہیں کرتے رہے اور نہ ہی ان حب الوطن شخصیات کو غیر ملکی اداروں میں بھارتی اور یہودی حکام کے ساتھ کام کرنے پر اعتراض رہا۔ اسی طرح غیر ممالک کی سکالرشپ پر تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں پاکستانی آخر کس طرح اپنی حب الوطنی کو ثابت کریں گے۔

ڈرتے ڈرتے صرف اتنی استدعا ہے کہ آدم خورو! حب الوطنی کے ہتھوڑے سے اپنے سیاسی مخالفین اور عام عوام کے سر کچلنے کی بجائے تھوڑی سی پیشہ وارانہ محنت کرکے اصلی غیر ملکی جاسوسوں اور ایجنٹوں کو کیفرکردار تک پہنچاؤ۔ اگر ایک نالائق صحافی کے پاس بھی لوگوں کی ٹیلی فون گفتگو سننے اور ریکارڈ کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹ دیکھنے کی صلاحیت اور اختیار ہو تو وہ بھی اصلی غیر ملکی ایجنٹوں کو باآسانی تلاش کرلے گا۔ نجانے ہم آج تک ایسا کیوں نہیں کرسکے؟شائد اس لئے کہ اگر اصلی جاسوس پکڑے گئے تو پھر حب الوطنی کا پول کھل جائے گا۔ اب کیا کیجئے کہ آدم خوروں نے انسانی خون کا ذائقہ چکھ لیا ہے۔

(نوٹ: پیشہ ورانہ صحافتی تقاضوں کے مطابق بتانا ضروری ہے کہ راقم نے ماضی میں برطانوی حکومت کی تعلیمی سکالرشپ لی اور بین الاقوامی این جی او ‘ انٹرنیوز اور خبر رساں ایجنسی رائٹر سے منسلک رہا اور اس وقت مقامی فلاحی ادارہ انٹرمیڈیا کا رضاکار بورڈ ممبر بھی ہے۔)

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.