.

السیسی کا مشن :پرانی بنیادوں پر نئی تعمیر کا آغاز

ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی نے جشن اور شادیانوں کے ماحول میں صدارتی منصب کا حلف اٹھا لیا ہے۔ مصر کی سیاست کے تقریبا تمام چہروں نے اس موقع پر دنیا کو دکھا دیا ہے کہ قاہرہ کی نئی حکومت پرانی حکومتوں کے نقش قدم پر اپنے نئے مینڈیٹ کے ساتھ رواں دواں ہو گی۔ اس ملتی جلتی تصویر سازی کے رجحان کے ساتھ السیسی کے زیر قیادت مصر پر مسلط معاشی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ایسے ماحول میں آگے بڑھے گا کہ دو سابق مصری صدور جیلوں میں بند ہیں جبکہ مصری فوج اور ریاست حقیقی ترقی کی طرف مائل ہیں۔

صدر السیسی کی تقریب حلف برداری میں عبوری صدر عدلی منصور، وزیر اعظم ابراہیم المحلب، شیخ الازہر احمد الطیب، مصر کے قبطی عیسائیوں کے پوپ تواضرس دوم اور دوسرے عمائدین موجود تھے۔ اس تقریب کے بعد صدارتی محل میں ایک استقبالیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں دنیا بھر کے نمائندے شریک ہوئے۔ عام تعطیل اور شادمانیوں کے بعد مصری صدر السیسی مصر کے جس پریشان کن معاملے پر کام شروع کریں گے وہ مصر کی بے حال معیشت ہے۔

مجھے یقین ہے کہ صدر السیسی کو کلیدی نوعیت کے معاشی مسائل کو ہی پہلے دیکھنا ہے، بشمول غیر ملکی فنانسنگ کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور نئے تیز رفتار منصوبے شروع کرنے کے۔ اسی صورت میں مصر کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ اس سلسلے میں خوش آئند بات یہ ہے کہ جی سی سی کے رکن ممالک اور ڈونر کانفرنس ہر قیمت پر السیسی کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔

اس سلسلے میں چالیس ارب ڈالر کی لاگت آ چکی ہے جبکہ جی سی سی اور دوسرے ملک جو مصر کو مستحکم اور ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں مصر کے اس کے نئے صدر کی مزید مدد کو بھی تیار ہے۔ صدر السیسی بھی جی سی سی ملکوں کے ترقی یافتہ شہروں کے ماڈل کے ساتھ ساتھ رہائشی و تجارتی منصوبے، توانائی کے منصوبے، توانائی کے حصول کیلیے پائپ لائنز کی توسیع، سیاحت کا فروغ، نئے ہوائی مستقر قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اس نوعیت کا 160 ملین مربع ایکڑ اور 13 سائیٹس پر مشتمل منصوبہ پہلے ہی جاری ہے۔ اس منصوبے سے اب مصر کے کم آمدنی والے طبقات کو فائدہ اٹھائیں گے۔ السیسی فوج پر انحصار بھی کرتے ہیں اس کے معاشی وسائل، جائیدادیں، تعمیراتی کمپنیاں ایک نئے مصر کی بنیاد بن سکتے ہیں جو معاشی ترقی کی طرف بڑھنے کا اشارہ ہوں گی۔ دیگر ذرا ئع کے مطابق مصری فوج کی ایک بڑی آمدنی کا ذریعہ فو ج کی زیر نگرانی چلنے والی فیکٹریاں ہیں۔ عرب آرگنائزیشن فار انڈسٹر لائزیشن اور نیشنل سروسز پراجیکٹس آرگنائزیشن ان میں اہم ہیں۔

علاوہ ازیں بھی مصری فوج ریاستی ملکیتی مختلف کمپنیوں کو دیکھتی ہے۔ جبکہ سرکاری و نجی شعبے میں مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے یا ان کے حصص لے رکھے ہیں۔ اسی طرح بحریہ کے زیر انتظام چھوٹے چھوٹے آپریشنز نیز نجی منصوبے اب آفیسر اکانومی کے نام سے معروف ہیں۔

یہ حقائق ضرور تسلیم کیے جانے چاہییں، انہیں تسلیم کیے جانے کی بھی ضرورت ہے اور ان ماڈلز کے ساتھ کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ مصری معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ وہ ملک جو اسی طرح کی صورتحال سے گذر رہے ہیں انہیں بھی ریاستی املاک اور زمینوں کے حکومتی کنٹرول میں آغاز کرنا چاہیے۔ صدموں اور دھچکوں سے مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس طرح کے اقدامات سے مصر کی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔


اہم بات یہ ہے کہ مصر کو کسی اور سانچے میں ڈھالنے کی کوشش مصری معیشت کیلیے اچھی نہیں ہو سکتی۔ افراتفری اور خصوصا مصر میں دہشت گردی کا معاملہ ہے۔ یہ درست سوچ ہے کہ مصری فوج کی بنیاد پر انحصار کیا جائے کہ اس صورت میں جی سی سی کی مدد کے ساتھ نجی شعبہ مصری ترقی میں سرگرم ہو گا۔ اگرچہ اس سرگرمی کے ثمرات آنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اس لیے مصر میں اچھے آغاز کے لیے مصری فوج کی ملکیت میں موجود نظام سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔

آئندہ مصر میں کیا ہونے جا رہا ہے٫ بلاشبہ مصر اصلاحات کے حوالے سے محتاط رہے گا کہ سماجی سطح پر ہم آہنگی ایک کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جی سی سی کی طرف سے اضافی فنڈنگ جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ کہ ان رقومات کو کم سود کے قرضوں کی صورت میں دیے جانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں لگانے کیلیے کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں اور پٹرولیم کے منصوبے میں۔ قصہ مختصر یہ کہ جی س سی معاشی کمزوریوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت غالبا 2014 کے اختتام تک مکمل ہو جائے گی اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات طے پا جائیں گے۔ مصری معیشت استحکام کی راہ پر ہو گی۔ خلیجی ممالک صدر السیسی کی دوسرے سرمایہ کاروں کو مصر میں لانے میں مدد کریں گے۔ لیکن اگر منفی ایجنڈے والی طاقتیں یعنی دہشت گرد متحرک رہے تو آگے بڑھنے کا سفر تھم جائے گا۔ اس لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ مصری استحکام یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے دوسرے ملکوں سے پولیس کی تربیت اور جدید ہتھیاروں سے پولیس سمیت سکیورٹی اداروں کو لیس کیا جائے۔ اس راستے کے سوا بچت کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

بشکریہ 'العربیہ ڈاٹ نیٹ انگلش'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.