.

میڈیا کی سودا گری

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ذریعہ ایک بڑے ٹیلی ویثن نیوز نیٹ ورک کو تحویل میں لیے جانے کو ٹیلی ویژن چینلوں نے نہیں دکھایا تو اس پر مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ تقریبا 300 چینلوں میں بیشتر کے مالکان جائیداد کا کاروبار کرنے والے ہیں جو چوری سے کمائی ہوئی دولت کے بوتے پر ہر ماہ اوسطا ایک کروڑ خرچ کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کسی دن ریلائنس کا مالک بننا چاہتا ہے۔

تعجب مجھے اس پر ہے کہ پریس نے اس سودے کی اطلاع دی لیکن اس پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ اگرچہ جرنلزم ایک پیشے کی حیثیت کھو چکا ہے اور صنعت بن گیا ہے، مجھے کم از کم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی طرف سے کسی ردعمل کی توقع تھی۔

جب گلڈ نے میری یہ تجویز مسترد کر دی کہ ایڈیٹروں کو بھی اپنے اثاثے ظاہر کرنے چاہیں تو یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے۔ یہ وہی مطالبہ ہے جو وہ سیاستدانوں سے کرتے رہے ہیں۔ دہرے معیارات اس اعلیٰ مقام کا مذاق اڑاتے ہیں، جس پر میڈیا فائز ہے۔

میں میڈیا میں سرمایہ کاری کرنے والی تجارتی کمپنیوں کے خلاف نہیں ہوں۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکڑتے ہوئے اشتہارات کی وجہ سے فاقوں پر میڈیا کا گزارا ہے، پھر بھی بہترین طریقہ یہ ہے کہ میڈیا خود کفیل رہے لیکن چونکہ یہ اخباری اور برقی میڈیا میں بیشتر کے لئے ممکن نہیں ہے، اس کی کوئی حد مقرر کی جانی چاہیے کہ میڈیا کس حد تک جا سکتا ہے۔

سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے اخبارات میں بیرونی ایکویٹی پر 26 فیصد کی حد عائد کی تھی۔ بعض وجوہ سے اس کا اطلاق ٹیلی ویژن پر نہیں کیا گیا تھا، شاید ہوا پر قابو رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کی ملکیت میں تخفیف قابل فہم ہے۔ اگر ٹروجنی گھوڑے کی طرح بیرونی ایکویٹی ایک حد سے آگے نہیں جا سکتی تو ہندوستانی کمپنیوں کیلئے بھی ایک لکشمن ریکھا قائم ہو، جس سے وہ تجاوز نہ کریں لیکن وہ تو اور بھی طاقتور ہو جاتے ہیں کیونکہ سیاستدان تعیش کی زندگی گزارنے یا انتخابات لڑنے کیلئے ان پر انحصار کرتے ہین۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ احسان کا بدلہ چکایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض سیاستدانوں کے تو ٹیلی ویژن چینلوں میں حصص بھی ہیں۔

بعض اسباب سے مرکز میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پریس یا میڈیا کمیشن کے مطالبے کو ٹھکرا دیا ہے، ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک صرف دو کمیشن رہے ہیں۔ ایک تو آزادی کے فوراً بعد اور دوسرا 1977ء میں ایمرجنسی کے بعد، ثانی الذکر سفارشات پر غور تک بھی نہیں کیا گیا کیونکہ مسز اندرا گاندھی نے مابعد ایمرجنسی دور میں تجویز کردہ کسی اقدام پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ (قابل تعریف پولیس ریفارمز رپورٹ بھی اسی بے نیازی کی نذر ہو گئی)

نریندر مودی کے زیر قیادت حکومت ماضی سے یکسر مختلف ہے اور مسز گاندھی کے اقتدار کے بعد سے میڈیا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اسے ایک کمیشن مقرر کرنا چاہیے۔ ٹیلی ویژن کے کردار کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا ہے کیونکہ ہندوستان یہاں تک کہ دور درشن بھی اس وقت برقی میڈیا سے آشنا نہیں تھا۔

اہم ترین پہلو ایک ہی گھرانے یا افراد کے گروہ کی ملکیت میں اخبارات ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کا ہونا ہے۔ امریکہ تک میں بھی کثیر ملکیتی حیثیت پر کسی طرح کنٹرول ہے لیکن ابھی تک ہندوستان میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے، جہاں یہ عمل ایک دوسرا کارخانہ کھولنے کے مترادف ہے۔

میں پریس کی آزادی کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔ دراصل میں اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاڈیکر کے بیان سے فکر مند ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ انہوں نے پریس کی آزادی کا یقین دلایا ہے لیکن یہ شرط لگائی ہے کہ یہ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

یہ تنبیہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ہندوستانی پریس اس نظام اقدار کی پابندی میں کسی سے کمتر نہیں ہے، جسے سیاستدانوں نے برباد کر دیا ہے۔ آزادی سے اب تک پریس کے غیر ذمہ دارانہ روپے کی کوئی مثال نہی ہے۔ یہ بات اس حکومت کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی، جس نے 1975ء میں ایمرجنسی کے دوران سنسر شپ عائد کی تھی

اب کئی ریاستوں میں اخبارات کو وزراء اعلیٰ کا دبائو اور عتاب برداشت کرنا پڑتا ہے، اشتہار جو چھوٹے اخبارات کی آمدنی کا اصل ذریعہ ہیں حامیوں کو انعام کے طور پر تقسیم کیے جاتے ہیں اور ناقد محروم رکھے جاتے ہیں اور حکومت جو کچھ بھی خرچ کرتی ہے وہ ٹیکس دہندگان کا پیپر ہوتا ہے۔

اشتہارات کا لالچ پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی کام کرتا ہے۔ حکومتیں بلا جھجھک اس سے اپنا کام نکالتی رہتی ہیں۔ اس طرح اثر و رسوخ قائم کرنے کیلئے کروڑوں روپے حکمرانوں کے تصرف میں رہتے ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے والی کمپنیوں اور گروہوں کی کہانی ہندوستان سے مختلف تو نہیں ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں مجھے اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے دورے کا موقع ملا۔ ان کی بے ہنگم سیاست اور ملک گیری میں فوج کا غلبہ پورے ایک مضمون کا متقاضی ہے۔ میں اپنے کالم کو میڈیا تک ہی محدود رکھتا ہوں جو بے شک سیاست پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ٹی وی چینلوں کی تعداد زیادہ ہے اور زیادہ تر بنگالی کے ہیں۔ چند انتہا پسندوں اور انٹر سروس انٹیلی جینس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے نشانے پر رہتے ہیں۔ پھر بھی میڈیا سے وابستہ مرد ہوں کہ خواتین دونوں جرات مندی اور کم و بیش سچائی کے ساتھ اطلاعات کا احاطہ کرتے ہیں۔

میڈیا وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ پورے بر صغیر میں اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان اب غیر ملکی نہیں ہیں۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ممتاز اخبارات کو برطانوی ملکیت سے نکالنے کیلئے صنعت کار گھرانوں کی مدد لی تھی۔ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کو چلانے والے بینٹ کولمین ، مدراس کے ’میل‘ اور لکھنئو کے ’پایونیر‘ کے غیر ملکی مالکان بتدیل ہو گئے۔ صنعتکاروں کی ایک جماعت نے جسے نہرو کی شفقت حاصل تھی، 'اسٹیٹمین' کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

یہ سچ ہے کہ میڈیا نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ پھر بھی پریس کونسل آف انڈیا کی حالیہ سالانہ رپورٹ ٹیلی ویژن چینلوں سے شدت سے تقاضہ کرتے ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار کے اندر آئے۔ حکمران اس مطالبے کو مستقل ان سنا کر رہے ہیں۔ کونسل نے کہا ہے خاصے عرصے سے صحافت کے پیشے میں قدم رکھنے کی اہلیت کی ضرورت سے متعلق ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ چونکہ میڈیا پوری طرح ترقی یافتہ میدان ہے اور لوگوں کی زندگیوں پر اہم اثر رکھتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس کے لئے کوئی اہلیت قانوناً لازمی قرار دی جائے۔

افسوس یہ کہ میڈیا کی توجہ اشیا کی فروخت اور پیکنگ پر مذکوز رہتی ہے۔ واقعی انکی اہمیت ہے لیکن مشمولات کو اولیت دی جانی چاہیے اور یہ چیز کم سے کمتر ہوتی جا رہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'راشٹریہ سہارا' دہلی

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.