.

گھر کا بھیدی صدارت ڈھائے

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں اب جبکہ صدارتی انتخابات میں دو ماہ کا قلیل عرصہ باقی رہ گیا ہے حزبِ اختلاف کی جماعتیں ابھی تک صدارتی امیدوار کی تلاش میں رات دن سرگرداں ہیں لیکن ابھی تک وہ مشترکہ صدارتی امیدوار کی تلاش میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) تو اپنے صدارتی امیدوار کا فیصلہ کر چکی ہے (تاہم اس کا باقاعدہ اعلان ابھی تک نہیں کیا ہے) لیکن حزبِ اختلاف کی جماعتیں صدارتی امیدوار کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں ۔ ترکی کی دوسری بڑی جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی اور تیسری بڑی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے صدارتی امیدوار کا تعین کرنے کے لئے حالیہ کچھ عرصے سے ترکی کی کئی ایک اہم شخصیات کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے بلکہ ان جماعتوں کے رہنماؤں نے سابق صدر سیلمان دیمرل اور احمد نجدت سیزر سے بھی رہنمائی کرنے کی اپیل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تجربات سے بھی استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے بائیں بازو کی ری پبلکن پیپلز پارٹی کو ایک ایسا صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس پر دائیں اور بائیں بازو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو اور یہ شخصیت ایک لحاظ سے مشترکہ چھت کا کردار ادا کرسکے اور اس چھت کو ایک طرف دائیں بازو اور دوسری طرف سے بائیں بازو کا ستون سہارا دے سکے۔ سیاسی مبصرین دائیں اور بائیں جانب جھکے ہوئے ان ستونوں کے کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسکنے یا ہلنے کی صورت میں چھت کے دھڑام سے گرنے کا اندیشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں جس کی بنا پر یہ دونوں جماعتیں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں۔ اگرچہ ان انتخابات میں ایک تیسری جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی جسے ترکوں کی قومیت پسند پارٹی سمجھا جاتا ہے کردوں کی قومیت پسند پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سے کسی بھی صورت تعاون کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے اس لئے وہ صرف ری پبلیکن پیپلز پارٹی ہی سے تعاون کرتے ہوئے مشترکہ صدارتی امیدوار کا اعلان کرے گی۔ان دونوں جماعتوں کو ایک ایسے صدارتی امیدوار کی ضرورت ہے جو آق پارٹی سے بھی ووٹ حاصل کر سکے اور ان کو بارہ سال سے جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے بھی نجات دلواسکے۔

ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے آق پارٹی کے اندر کے بھیدی عبداللطیف شینر سے کچھ عرصے سے خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کا راز اس وقت فاش ہوا جب ترکی کے مشہور صحافی اور اینکر اعور دؤندار نے اپنے ایک پروگرام میں اس نام کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ اگرچہ ابھی تک ان دونوں جماعتوں کی جانب سے عبداللطیف شینر کے نام اور ان سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم دونوں جماعتوں کے اس نام پر اتفاق کئے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

عبداللطیف شینر کون ہیں؟ پہلے اس پر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ عبداللطیف شینر وزیراعظم ایردوان کے دستِ راست رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز مرحوم نجم الدین ایربکان کی جماعت رفاہ پارٹی سے کیا تھا۔ رفاہ پارٹی کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد انہوں نے ایربکان ہی کی فضیلت پارٹی میں سیاست کو جاری رکھا لیکن بعد میں ایردوان کی قیادت میں عبداللطیف شینر، عبداللہ گل اور بلنت آرنچ پر مشتمل ایک گروپ نے ایربکان کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے نئی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ عبداللطیف شینر طویل عرصے تک پارٹی کے ڈپٹی چئیرمین، نائب وزیراعظم اور ایردوان کے دستِ راست کے طور پر فرائض ادا کرتے رہے۔ عبداللطیف شینر اور آق پارٹی کے درمیان اختلافات اُس وقت ابھر کر سامنے آئے جب 2007ء میں ملک میں صدارتی انتخابات ہونے والے تھے۔ اُس وقت حزب اختلاف کی ری پبلکن پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کے موقع پر آق پارٹی کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لئے آق پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبداللطیف شینر کو صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کے لئے دانہ ڈالا اورعبداللطیف شینر ری پبلکن پیپلزپارٹی کے پھیلائے ہوئے جال میں ایسے پھنسے کہ ان کا اس جال سے نکلنا مشکل ہو گیا۔ اسی دوران انہوں نے وزیراعظم ایردوان سے ان کو (عبداللطیف شینر) صدارتی امیدوار کے طور پر کھڑا کرنے کی اپیل کی لیکن ایردوان نے اپنے ساتھیوں کے مشورے سے اپنے دست راست عبداللطیف شینر کی جگہ اپنے دوسرے قریبی ساتھی عبداللہ گل کو صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کر دیا جس پر عبداللطیف شینر نے آق پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ آق پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اگرچہ 2009ء میں ترکیہ پارٹی کے نام سے پارٹی تشکیل دی لیکن ان کی پارٹی پارلیمنٹ میں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی اور وہ عبداللطیف شینر جو آق پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور نائب وزیراعظم بھی رہ چکے تھے ری پبلکن پیپلز پارٹی کے سیاسی کھیل کی وجہ سے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا بیٹھے اور پھر ان کو پارلیمنٹ کا منہ تک دیکھنا نصیب نہ ہو سکا۔

ری پبلکن پیپلزپارٹی جس نے عبداللطیف شینر کی تیرتی ہوئی کشتی کو اپنے ہاتھوں سے ڈبویا تھا اب انہیں نکال کر ایک بار پھر ترکی کی سیاست میں لاکھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا مقصد آق پارٹی جسے اس وقت تک 48 فیصد کے قریب ووٹروں کی حمایت حاصل ہے میں سے چند فیصد ووٹ چرا کر آق پارٹی کے صدارتی امیدوار کی راہ مسدود کرنا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا خیال ہے کہ عبداللطیف شینر جنہوں نے طویل عرصے آق پارٹی میں فرائض ادا کئے ہیں پارٹی کے اندر سے چند فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہیں گے اور یہی چند فیصد ووٹ آق پارٹی کے امیدوار کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں اور آق پارٹی کے امیدوار کی راہ مسدود کرنے سے ان دونوں جماعتوں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی بھی ہمدردیاں عبداللطیف شینرکو حاصل ہو جائیں گی اور اس طرح آق پارٹی جو اپنے امیدوار کے کامیاب ہونے کے بارے میں بڑی پُرامید ہے کو دھچکا پہنچایا جاسکتا ہے اور یوں آق پارٹی کے ہاتھوں میں آنے والی صدارت کو حزب اختلاف اپنے ہاتھوں میں لے سکتی ہے۔

آق پارٹی نے ابھی تک اپنے صدارتی امیدوار کے نام کا سرکاری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا ہے لیکن وزیراعظم ایردوان ہی کے صدارتی امیدوار کھڑا ہونے کےغالب امکانات ہیں تاہم ایردوان بھی حالات کا بڑا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کی پارٹی نے ہمیشہ کی طرح جائزے مرتب کرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ وہ ان جائزوں کے نتائج کو دیکھ کر ہی اپنے صدارتی امیدوار ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کریں گے۔ یہ صدارتی انتخابات ان کی زندگی کے سب سے اہم صدارتی انتخابات ہیں کیونکہ ان کے مستقبل کا دارومدر انہی انتخابات پر ہے۔ اگر وہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں صدارتی طرز کا نظام متعارف کرانے کے خواہاں ہیں اور اگر ان کو صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل نہ ہوتی تو پھر ان کے پاس سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں رہے گا اور اس کے اثرات ان کی سیاسی جماعت پر بھی مرتب ہوں گے۔ان صدارتی انتخابات میں کردوں کی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ایچ ڈی پی کو بڑی کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔

خاص طور پر یہ جماعت دوسرے رائونڈ کے صدارتی انتخابات میں کھل کر سامنے آئے گی اور اپنی ان تمام شرائط کو منوانے کی کوشش کرے گی جن کی طرف اس سے قبل کوئی بھی سیاسی جماعت ذرا بھی کوئی توجہ نہیں دیتی رہی ہے بلکہ ان پر علیحدگی پسندی کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ آق پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ طے کرنے کی صورت میں آق پارٹی جو پہلے ہی ملک میں جمہوری اصلاحات متعارف کراتی رہی ہے نئی جمہوری اصلاحات جنہیں ریڈیکل اصلاحات بھی کہا جاسکتا ہے، ملک کے ایجنڈے پر لاسکتی ہے۔ وزیراعظم ایردوان صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں فرانس جیسا صدارتی نظام متعارف کرانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اپنے کئی ایک جلسوں میں ملک میں نئے سیاسی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہےاور وہ ملک کے مسائل کو صدارتی نظام ہی کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ وہ 10 اگست 2014ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے دور ہی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں یا پھر دوسرے رائونڈ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.