.

ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت، جو کہ ایک خاندان پر مشتمل لمیٹڈ کمپنی بن چکی ہے، ایک مریض، جس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو چکا ہو، کی طرح اسپتال کے بستر پر دراز جبکہ کچھ معالج چہرے پر سنجیدہ تاثرات لئے دکھ بھرے کلمات ادا کر رہے ہیں۔ جب آخری مرتبہ نواز شریف وزیراعظم بنے تھے تو اُس وقت اُنہیں اپنے اقتدار کو سبوتاژ کرنے میں ڈھائی سال لگ گئے تھے۔ اس کار ِ خیر کے لئے اُنھوں نے اُس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف سے محاذآرائی مول لی حالانکہ ایک معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی جانتا تھا کہ اس لڑائی کا کیا انجام ہو گا تاہم اس مرتبہ اُنھوں نے سستی اور غفلت کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا اور ایک سال سے بھی کم عرصہ میں خود کو اُس مقام پر لے آئے ہیں... اور اس کے لئے وہ وقت چنا جب ملک عملی طور پر حالت ِ جنگ میں تھا۔ اس جنگ، جس سے ہم اغماض کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں، کی تازہ ترین یاددہانی کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہے۔

اس تمام صورت ِ حال میں حکومت کہاں ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ اس کی (حکومت کی) جھلک اب اشتہارات میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ اگر میٹرو بسوں اور برق رفتار بلٹ ٹرینوں کے اشتہارات نہ چلیں تو حکومت کا وجود عنقا سمجھیں۔ فوج کو اسلام آباد سے احکامات وصول نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کے بجائے وہ فاٹا میں اپنی مرضی سے کچھ کارروائیاں کر رہی ہے۔ آئی ایس آئی کو بھی وزیر ِ اعظم کے بجائے جی ایچ کیو سے ہدایات ملتی ہیں۔ میڈیا میں ہونے والی کشمکش میں خفیہ اداروں کی مرضی چل رہی ہے۔ حکومت عقلمند بننے کی کوشش میں خود کو اس کے برعکس ثابت کر رہی ہے۔ جب پیمرا نے جیو پر پندرہ دن کی پابندی لگادی تو حکومت نے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ یہ نرم سزا ہے۔ وہ اس کو مزید سخت کرنے کے لئے کہہ سکتی ہے...’’ہم اس معاملے کو عدالت میں لے کر جا سکتے ہیں۔ ہم جیو کی طرف سے جواب دائر کئے جانے کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔ اس بیان کی ڈرافٹنگ جس زبان میں کی گئی ہے اس سے وزیر ِ ا عظم آفس میں فعالیت کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ہمیں اس قدر مضحکہ خیز صورت ِ حال کا سامنا ہے کہ اگر معاملات نازک نہ ہوتے تو ان حماقتوں سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا لیکن جب قوم حالت ِ جنگ میں ہو تو پھر ریت میں سر دینے کی عیاشی میسر نہیں ہوتی۔ دفاعی ادارے یہ جنگ تنہا لڑتے ہوئے بھاری نقصان برداشت کر رہے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری لینے اور آگے بڑھ کر رہنمائی کرنے کے بجائے حکومت نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ہی فوج اور اہم ترین خفیہ ادارے کے ساتھ سرد جنگ میں الجھ بیٹھی۔

چاہے وزیراعظم کی مقبولیت کا سحر ٹوٹ چکا ہے یا نہیں , ایک سروے کرنے والے ادارے کی تحقیقات پر آنکھ بند کرکے اعتماد کہ اسی طرح کی گئی ریسرچ کے مطابق نواز شریف کی مقبولیت کا گراف اُونچا جارہا ہے. ان کے خلاف اٹھنے والی سیاسی لہریں سونامی نہ سہی، لیکن ان کی تندی اور اُونچائی میں اضافہ ضرور ہورہا ہے۔ جب آصف زرداری حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو دو ماہ پہلے تک ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت کے سامنے کوئی اپوزیشن ہے ہی نہیں لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں ایک ہفتہ ہی بہت ہوتا ہے، اس لئے یکایک بہت کچھ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عمران خان کے جلسوں میں شرکاء کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سچی بات یہ ہے کہ مجھے اتنے کامیاب جلسوں کی توقع نہ تھی۔ دوسری طرف ڈاکٹر قادری بھی اپنی شعلہ بیانی سے جون کی تمازت میں سیاسی درجہ حرارت کا اضافہ کرنے (اور نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں) کینیڈا سے تشریف لایا ہی چاہتے ہیں۔ بیان بازی سے اپنی فعالیت جتانے والے چند وزراء کو چھوڑ کر نواز شریف کی ٹیم میں قول و فعل کے حوالے سے مکمل سکوت طاری ہے۔ وہ خود بھی اس سراسیمگی کا شکار ہیں کہ اُنہیں خود سمجھ نہیں آتا کیاکریں... کرنا تو درکنار کہنے کے لئے الفاظ بھی نہیں مل پاتے۔
وہ وقت بہت اچھا تھا جب محض شوپیس ، جیسا کہ پنجاب کے لوگوں کو بہلانے والے لیپ ٹاپ، فلائی اوورز، پہاڑوں سے گزرنے والی سڑکیں، قرضہ اسکیمیں وغیرہ، کام دے جاتے تھے۔ نوجوانوں کے لئے شروع کی گئی قرضہ اسکیم کا مقصد نوجوانوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے سوا کچھ اور نہیں۔ اب ہیلتھ انشورنس کی اسکیم کی بات بھی کی جارہی ہے۔ آج جب ہمیں ایک مضبوط اور قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والے رہنما کی ضرورت تھی، ہمیں ان کھیل تماشوں سے بہلایا جارہا ہے۔ صرف یہی نہیں، وزیر ِ اعظم آمادہ ِ جنگ بھی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف نہیں (یہ نہ تھی ہماری قسمت) بلکہ اپنے ہی دفاعی اور خفیہ اداروں کے خلاف۔

اب جس دوران وزیر اعظم اور ان کا دفتر مختلف بے معنی اسکیموں میں الجھے ہوئے ہیں، فوج اپنے طور پر کچھ کارروائی کررہی ہے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد کی صورتِ حال کو ٹی وی پر سرسری انداز میں دیکھنے والا بھی یہ محسوس کر سکتا تھا کہ دہشت گردوں کے مقابلے پر دفاعی ادارے... فوج، رینجرز اور ائیر پورٹ سیکورٹی فورس... ہی لڑے تھے اور اب آرمی چیف ہی ہلاک ہونے والے افراد کے لئے تعزیت کر رہے ہیں۔ اس دوران وفاقی حکومت کہیں دکھائی نہیں دی۔ یہ وقت فوج کی بالا دستی کا احساس جتانے کا نہیں تاہم ہمیں حقائق کا سامنا کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج ہی اس ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے۔ کیا کوئی وزیرِاعظم سے پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ ایسے ادارے سے الجھنے میں کوئی دانائی ہے؟ اگر ہر مرتبہ تاریخ نے ہی خود کو دہرانا ہے تو پھر آپ کی حکومت اور حکمرانی کی صلاحیت کہاں ہے؟

اس وقت سیاسی قیادت کا سامنے آنا اس لئے بھی انتہائی ضروری تھا کہ یہ اندرونی دشمن سے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ اس دشمن کو ملک کے مختلف حلقوں کی نظریاتی اور عملی حمایت حاصل ہے۔ ان کا جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ فوج سیاسی حکومت کے بغیر ان عناصر کا قلع قمع نہیں کر سکتی جبکہ حکومت ذمہ داری اٹھانے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنجہ آزمائی پر تلی ہوئی ہے۔ کیا نواز شریف نے گزشتہ تیس برسوں میں یہی کچھ سیکھا ہے؟کیا یہ درست نہیں کہ ماضی میں دفاعی اور خفیہ اداروں نے ہی اُنہیں پی پی پی اور بے نظیر بھٹو کے خلاف کھڑا کیا تھا؟ اب وہ انہی کے مقابلے پر کھڑے ہوگئے ہیں۔

اب یہ صورت دیر تک نہیں چل سکتی، کسی نہ کسی کو لچک دکھانی پڑے گی۔ فوج اور خفیہ ادارے یقینی طور پر ناخوش ہیں۔ اسی دوران عوام اور سیاسی جماعتیں بھی حکومت کو آنکھیں دکھارہی ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ موجود اسٹیبلشمنٹ سیاسی حکومت کے خلاف براہ ِ راست کچھ نہیں کرے گی لیکن میڈیا کے موجودہ معاملے میں جو دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ پس ِ پردہ رہ کرجو دائو کھیل سکتی ہے تو وہ زیادہ موثر اور تباہ کن ہے۔ شطرنج کی بساط کے مہرے متحرک ہوچکے ہیں۔ ماضی میں جب کبھی ملک ایسی اندرونی کشمکش سے گزرتا تھا تو بھاری بوٹوں کی دھمک آنا شروع ہو جاتی تھی لیکن اس مرتبہ زیادہ زیرک انداز اپنایا جارہا ہے۔ اس پر کسی کو اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت تنہا کھڑی دکھائی دیتی ہے، اگرچہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد موجود ہے لیکن ان حالات میں یہ پارلیمانی فورس بے جان دکھائی دیتی ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک پارلیمانی اکثریت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اب لکھ رکھیں، ہلکا سا بھی کھٹکا ہوگیا تو پرندوں کی پرواز شروع ہوجائے گی۔

سول حکومت اور ملٹری کے درمیان پیدا ہونے والے تنائو نے عمران خان اور علامہ قادری کا حوصلہ بڑھا دیا ہے کہ وہ حکومت کے سامنے خم ٹھونک کر آجائیں۔ عمران خان کوئی نئی بات نہیں کررہے، انتخابات میں کی جانے والی مبینہ دھاندلی پر ان کا سیاسی موقف بہت ہنگامہ خیز پیغام نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ ان کے جلسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کررہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا عمران خان کو ایک مرتبہ پھر سیاسی نجات دہندہ سمجھ لیا گیا ہے یا پھر پنجاب کے لوگ آخر کار خواب سے جاگ گئے ہیں؟ احتیاط اپنی جگہ پر لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ صورت ِ حال نتیجہ خیز ثابت ہو کر رہے گی۔ جب ایک فریق گومگو کی کیفیت میں رہے تو دوسرا چالاکی دکھا جاتا ہے،اس لئے پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.