.

افغانستان کی نئی حکومت میں حامد کرزئی کا کردار

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

28اپریل کے ’’گریبان‘‘ میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی امریکی تابعداری کے 13سالہ اقتدار سے اترنے کے بعد بھی اقتدار میں یا اقتدار کے بہت قریب رہنے کی سرتوڑ کوشش کریں گے کیونکہ حکومت کے دوران حکمرانوں پر ہونے والی کرپشن کی ’’بارانِ رحمت‘‘ کی حفاظت کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور اس ضرورت کے لئے یا اس نظریہ ٔ ضرورت کے تحت پرانے حکمرانوں کے لئے نئے حکمرانوں کے ساتھ خیرسگالی کے تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

موقر خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ افغان صدر اتوار کے انتخابات کے بعد بھی اپنے موجودہ عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بعض حکومتی یا سیاسی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوں گے۔ افغان ایوان صدر سے نکل جانے کے بعد بھی اس کے پڑوس میں ہی رہیں گے۔ سابق ہوتے ہوئے بھی سابق نہیں ہوں گے، ریٹائرڈ ہو جانے کے بعد بھی ریٹائر نہیں ہوںگے اور یوں افغانستان شخصی حکمرانی سے جمہوریت کے نام نہاد سفر کے باوصف قدیم قبائلی روایات کو خیرباد نہیں کہہ سکے گا۔’’ٹوئن ٹاور‘‘کے انہدام کے بعد 2001سے 2013تک گرم جوشی کے امریکی تعلقات کے بعد امریکہ اور حامد کرزئی میں مبینہ طور پر کرپشن اور بیڈگورننس اور طالبان کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ اگرچہ ان میں سے کسی وجہ سے بھی کرزئی اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی کوئی گنجائش یا خطرہ نہیں ہو سکتا اور اگرکوئی اختلاف ہوتا تو یقینی طور پر آج کرزئی صاحب نہ ہوتے۔

ایجنسی فرانس پریس کے مطابق گزشتہ تیرہ سالوں کے دوران حامد کرزئی صاحب نے افغانستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور عناصر سے ایسے تعلقات قائم کر لئے ہیں کہ جو لوگوں کوبے اثر ہونے نہیں دیتے اور ارباب ِ اختیار کے اندر موجود رہتے ہیں۔ حامد کرزئی صاحب کی بعض ایسی ’’خوبیاں‘‘ بھی بیان کی جاتی ہیں جن تک رسائی کا کوئی اور قابل ذکرز افغان دعویٰ نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں اس کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے حامدکرزئی نے افغانستان کے متوقع صدر عبداللہ عبداللہ پر قاتلانہ حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ یہ خوبی افغانستان کے کسی اورقابل ذکر شخص کے پاس نہیں ہو سکتی کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تھوپ سکے۔ ہمارے ایک صحافی دوست خیال ظاہر کر رہے تھے کہ حامد کرزئی تو یہ الزام بھی تخلیق کر سکتے ہیں کہ ہندوستان میں گزشتہ دوسالوں کے دوران اجتماعی آبروریزی کے درجن سے زیادہ واقعات کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔

یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ افغان صدر حامد کرزئی ہندوستان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور اترپردیش کی صوبائی حکومت کو خوش کرنے کے لئے یہ الزام بھی تخلیق فرمادیں کہ اترپردیش کے علاقہ شہادت گنج کے آم کے درخت کے ساتھ لٹکائی جانے والی دو شودر لڑکیوں کی لاشیں بھی پاکستان نے لٹکائی ہیں تاکہ ہندوستان کی بی جے پی حکومت کی بدنامی ہو اور بابو لال گوہر کایہ بیان بھی پاکستانیوں نے ہی اخبارات میں چھپوایا ہے کہ عورتوں کی اجتماعی آبروریزی کے بعض واقعات قدرتی بھی ہوتے ہیں اور ایسے واقعات یا وارداتوں کی ذمہ دارخود عورتیں بھی ہو سکتی ہیں جو اپنے لباس اور اپنی حرکتوں کی وجہ سے مردوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں اجتماعی آبروریزی (گینگ ریپ) پر مجبور کرتی ہیں اور کوئی خاص کام نہیں ہو گا تو حامد کرزئی کو محض پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا فریضہ ہی دیا جا سکتا ہے جس کو وہ بڑی باقاعدگی سے سرانجام دے سکیں گے۔ ایک غیرملکی صحافی نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ انٹرویو کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ حامد کرزئی نے صرف 44 سال کی عمر میں اگر گلوبل اہمیت حاصل کی ہے تو یقینی طور پر ان کے پاس بعض ایسی خوبیاں ہوں گی جن سے بعض دوسرے افغان لیڈر بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ امریکی لہجے کی انگریزی زبان بولنا بھی کرزئی کی نمایاں خوبی ہے۔ وہ اپنی یادوں کی کتاب بھی لکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے افغانستان کی نئی حکومت حامد کرزئی صاحب کو یورپی ملکوں کے گشتی افغان سفیر بنا کر ان کی خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور وہ پاکستان پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے اوپر پاکستان کے احسانات کا قرض بھی اتارتے رہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.