.

امرود کی سیکورٹی اور ملک کی سیکورٹی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فیس بُک کی خبروں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، مگر اب یہ خبر بھارت کے اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں چھپ گئی ہے تو صحافتی اخلاقیات کی رو سے میں اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہوں۔ پہلے خبر سُن لیں۔ وزیراعظم کے محل جاتی امرا میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور دو سپاہیوں نے درخت سے امرود توڑ کر کھا لیا، ان کی حرکت شاید سی سی ٹی وی پر مانیٹر کی جا رہی تھی، اعلیٰ افسران فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ان سپاہیوں کو بیک بینی و دو گوش نہ صرف محل سے نکال دیا بلکہ نوکری سے بھی برخواست کر دیا۔ دی ہندو کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔ سیاستدانوں کی طرح پولیس کو بھی کسی وقوعے کی تردید کا حق حاصل ہوتا ہو گا۔ اس سے پہلے یہ خبر زبان زد عام ہوئی تھی کہ وزیراعظم کے اسی جاتی امرا محل میں ایک مور کو بلی کھا گئی، اس پر بھی سکیورٹی عملے کو نوکری سے چھٹی کروا دی گئی۔

وزیراعظم ہائوس کے سیکورٹی نظام پر رشک تب کیا جا سکتا تھا جب نہ بلی کو مور کھانے دیا جاتا اور نہ بھوکے اور لالچی سپاہیوں کو امرود منہ میں ڈالنے کا موقع ملتا، مانیٹرنگ روم میں کوئی ڈرون نما ہتھیار ہونا چاہئے تھا جو ان مجرموں کو دل کی خواہش پوری کرنے سے پہلے ڈھیر کر دیتا۔ مگر امریکہ کے پاس بھی ایسا فول پروف سکیورٹی نظام نہیں ہے،نائن الیون کے روز پانچ گھنٹے تک پانچ جہاز اغوا ہو کر امریکی فضائوں میں گھومتے رہے اور پھر انہوں نے اپنے نشانوں کو تباہ کر کے دم لیا۔ ابھی تین روز پہلے دنیا کے ایک اور ترقی یافتہ ملک کینیڈا کی ایک جیل میں ہیلی کاپٹر اترا اور گھنائونے جرائم میں ملوث قیدی کو لے کر فرار ہو گیا، نہ قیدی کا اتا پتا، نہ ہیلی کاپٹر کا۔ کچھ عرصہ پہلے اسی کینیڈا کی ایک اور جیل پر ایک ہیلی کاپٹر معلق ہو گیا۔ اس کے اندر سے رسہ لٹکایا گیا جس کے ذریعے تین خطرناک قیدی اُڑن چھو ہو گئے۔

جاتی امرا میں وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی پھر بھی اطمینان بخش ہے کہ مجرموں کو فرار کا موقع نہیں دیا گیا اور موقع پر عدالت لگا کر انہیں سزا بھی سنا دی گئی اور اس پر عمل بھی ہو گیا، پھر اس کی تردید جاری ہو گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اگر کراچی ائیر پورٹ کے سانحے پر وزیراعظم کے لئے سات محکموں کے مشیر شجاعت عظیم یہ رپورٹ دے دیتے کہ وہاں کچھ ہوا ہی نہیں تو اس پر بھی یقین کئے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اسے کہتے ہیں سب اچھا کی رپورٹ۔ ہماری افسر شاہی کی پرانی عادت ہے کہ کسی مسئلے کو ختم کرنے کے لئے اس کے وجود ہی سے انکار کر دو۔ چمکتی جلتی دھوپ میں رپورٹ دے دو کہ سورج تو طلوع ہی نہیںہوا، پھر کیا مجال کہ سورج زمین کی طرف ایک آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرأت کر سکے۔

وزیراعظم نے ایک خط بھارت روانہ کیا ہے جو نریندر مودی کے نام ہے، انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ ہمیں زیر التو معاملات طے کر کے خطے میں غربت کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے خط میں ان زیر التوا معاملات کی تفصیل بیان نہیں کی مگر مودی نے حلف اٹھانے سے اگلے روز نواز شریف سے ملاقات میں زیر التوا معاملات گنواتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے باز رہے اور ممبئی حملوں کے مجرموں کو جلد از جلد سزا دے۔

بھارت کے نزدیک بڑا مسئلہ پاکستان ہے۔ ممبئی سانحے کے بعد من موہن سنگھ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان اپنی حرکتوں سے اس وقت تک باز نہیں آئے گا جب تک اسے اسی زبان میں جواب نہ دیا جائے جسے وہ اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اب مودی خود وزیراعظم ہے اور اسے کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کے بعد حافظ محمد سعید کی یہ دھمکی سننا پڑی ہے کہ بھارت کو اس کی زبان میں جواب دیا جانا چاہئے، بھارت کا میڈیا کہتا ہے کہ یہ بھارت کو دھمکی ہے۔ بھارتی میڈیا نے اپنے ملک کو کراچی ایئر پورٹ دہشت گردی کا ملزم یا مجرم ثابت کرنے کے لئے ویسی کوشش نہیں کی جس طرح پاکستانی میڈیا نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کو مجرم ثابت کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیا تھا۔ ہمارا میڈیا تو کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردوں کی رہنمائی کے لئے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک ایک نقل و حرکت پر کیمرے مرکوز کئے رہا۔ مستقبل میں پاک بھارت جنگ میں ہمارے میڈیا کے ہوتے ہوئے بھارت کو او پی بٹھانے یا راڈار نصب کرنے یا اواکس طیارے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ ہمارے کیمرے تمام محاذوں پر انفنٹری دستوں، توپوں، ٹینکوں اور فضائیہ کے بمباروں پر مرکوز ہوں گے اور ہر کیمرہ مین کور کمانڈر، ڈویژنل کمانڈر، بریگیڈ کمانڈر، بٹالین کمانڈر، کمپنی کمانڈر اور پلاٹون کمانڈر سے پوچھ رہا ہوگا کہ وہ بھارتی فوج کے مقابلے میں کیا حکمت عملی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کی کوشش ہو گی کہ ٹیک ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہو کر فوجی نقشوں پر کیمرے زوم ان کرے تاکہ سرحد پار بھارتی فوج کو پاکستان کی ڈپلائے منٹ کی ہر تفصیل کا علم ہو جائے۔ کیا اسے آزادیٔ صحافت کا نام دیا جاتا ہے۔ میں اس سوال کا جواب مجیب الرحمن شامی سے مانگتا ہوں جو اس وقت سی پی این ای کے صدر ہیں اور آزادیٔ صحافت کے چیمپئن بننے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ اس آزادی کی حمایت تو ڈان جیسا لبرل اور ترقی پسند اخبار بھی نہیں کر سکا جس کا مظاہرہ ہمارے میڈیا نے کراچی ائر پورٹ پر رات بھر کیا۔

ادھر بھارتی میڈیا اپنے وزیراعظم کو انگیخت کر رہا ہے کہ وہ پاکستان سے نمٹنے کے لئے محدود آپشنز میں سے کسی ایک پر عمل کر گزرے۔ ایک تو یہ کہ من موہن سنگھ کی طرح کچھ نہ کیا جائے اور پاکستان پر دبائو برقرار رکھنے کا بوجھ امریکہ کے کندھوں پر ڈال دیا جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ واجپائی کی طرح پاکستان کے خلاف جارحانہ فضا بنائی جائے۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت نے اپنی افواج پاک سرحد پر متعین کر دی تھیں۔ اسی طرح 1953ء میں نہرو نے پاک فوج کو کشمیر میں مہم جوئی سے روکنے کے لئے پنجاب کی سرحد پر بھارتی فوج ڈال دی تھی۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ جو کچھ من موہن سنگھ نہیں کر سکا، وہ کیا جائے اور سرجیکل سٹرائیک کے ذریعے جہادی کیمپوں کا صفایا کیا جائے۔1998ء میں امریکہ نے افغانستان کے خلاف ایسی کارروائی کی۔ امریکہ کے 75 بیلسٹک میزائلوں سے 224 افغانی ہلاک ہوئے۔ ان میں جہادی کمانڈر صرف چھ تھے اور وہ بھی چھوٹے موٹے، کوئی قابل ذکر نہیں، ہر میزائل کی قیمت ڈیڑھ ملین ڈالر تھی۔ بھارت سرجیکل سٹرائیکس سے تمبووں کے اندر بنے ہوئے چند جہادی کیمپ تباہ کر بھی دے تو پاکستان جواب میں اس کی صنعتی ایمپائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چوتھا امکان یہ ہے کہ بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول پر کھلی چھٹی دے دی جائے کیونکہ پاک فوج طالبان سے نمٹنے کے لئے یہ علاقہ خالی کر کے فاٹا جا چکی ہے۔ مگر اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے جہادی کشمیر میں داخل ہو جائیں گے۔ پانچواں اور آخری راستہ یہ رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں جہادی لیڈروں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا جائے۔ بھارتی میڈیا کا اپنا تجزیہ ہے کہ مودی کے ترکش میں ایسے تیر موجود ہی نہیں جو نشانے پر لگ سکیں۔

بھارت کے اس مخمصے کا سارا فائدہ پاکستان کو پہنچتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے وزیراعظم یہ فائدہ اٹھانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ یا انہیں اپنے امرودوں کی سکیورٹی کا ہی خیال ستا رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.