.

نا لائقیوں کی ایک اور خونی داستان

رؤف کلاسرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بڑے عرصے بعد اس اذیت کا شکار ہوا ہوں۔ کیا لکھا جائے؟

ایمانداری سے پوچھیں تو کوئی نئی بات لکھنے کو نہیں۔ آج میں جو کچھ لکھنا چاہتا ہوں وہ شاید لکھ نہ پائوں اور جو لکھ رہا ہوں وہ کئی دفعہ پہلے لکھ چکا ہوں۔ اب نیا کیا لکھوں؟ سوچ رہا ہوں کہ جو کچھ کراچی میں ہوا ہے، اس کا اور ہلیری کلنٹن کی منگل کے روز شائع ہونے والی آپ بیتی کے اس انکشاف کا آپس میں کیا تعلق ہے کہ جب وہ اور بل کلنٹن آٹھ برس بعد 2002ء میں وائٹ ہائوس سے نکلے تو وہ نہ صرف دس ملین ڈالرز کے مقروض تھے بلکہ بینک کو گھر کی واجب الادا قسطوں کے علاوہ اپنی بیٹی چیلسی کی تعلیم کے اخراجات کیلئے پیسے بھی نہ تھے۔ بل کلنٹن پر قرضہ چڑھ گیا تھا کیونکہ مونیکا لیونسکی سکینڈل کی وجہ سے جو تحقیقات شروع ہوئیں، اس کا تمام خرچہ بل کلنٹن کو اپنی جیب سے ادا کرنا تھا، نہ کہ امریکی ٹیکس گزار ادا کرتے۔ یوں بل کلنٹن کو دن رات لیکچر دے کر نہ صرف قرض کی رقم اتارنا پڑی بلکہ اس نے چھ ملین ڈالرز چیریٹی کے نام پر دیے اور اپنی محنت کی کمائی سے آج وہ ایک سو دن ملین ڈالرز کما چکا ہے۔ یوں مونیکا لیونسکی کا سکینڈل کلنٹن فیملی کو دیوالیہ کر گیا اور اسے ایک ارب روپے کی فیسیں ادا کرنی پڑیں۔

ایسے صدر کے ملک میں نو ستمبر کو صرف ایک دفعہ ہی حملہ ہو سکتا ہے جو فہمیدہ مرزا کی طرح ستاسی کروڑ روپے کا بنک قرضہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر معاف نہیں کرا سکتا۔ یہی وہ فرق ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں صرف ایک بار حملہ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں روزانہ ہوتے ہیں۔ درجنوں بے گناہ مارے جاتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں، شادیانے بجاتے ہیں کہ آپریشن کامیاب ہو گیا۔ دہشت گردوں کو شکست ہو گئی۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان دہشت گردوں نے زندہ بچنے کیلئے حملہ نہیں کیا تھا۔ وہ آئے ہی مرنے تھے اور مر گئے، ہم کامیاب کیسے ٹھہرے؟ مرنے سے پہلے وہ دنیا بھر میں ہمارے بھرم کا جنازہ نکال گئے اور ہم ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے پھرتے ہیں۔

یوں لگتا ہے، ہم نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھنا، چاہے ہمارے ساتھ دنیا کچھ بھی کر گزرے۔ اگر ہم سنجیدہ ہوتے تو اس دن ہی سدھر جاتے جس دن سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تھا اور ہم پر عالمی کرکٹ کا دروازہ بند ہوگیا تھا یا جس دن جی ایچ کیو پر قبضہ ہوا تھا۔ ہم سمجھدار ہوتے تو اب تک جان چکے ہوتے کہ ہم دنیا میں اچھوت بنتے جا رہے ہیں اور یوں پولیو کی وجہ سے بیرونی دنیا کے سفر پر شرائط نہ لگتیں۔ بیرونی دنیا سے کچھ غیر ملکی ایئر لائنز پاکستان آ جاتی تھیں، اب نہیں آئیں گی۔ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر حملے کے بعد برٹش ایئرویز اور کچھ دیگر ایئر لائنز نے یہاں آنا بند کر دیا، اب کراچی پر حملے کے بعد باقی بھی نہیں آئیں گی۔ کسی نے ٹوئیٹر پر خوب کہا کہ اب کراچی سے سمندر کے ذریعے لانچوں پر پہلے دبئی جانا ہو گا اور وہاں سے باقی دنیا کے فلائٹ پکڑنی پڑے گی۔ یاد رہے کہ پولیو کے قطروں کے بغیر آپ لانچ پر بھی سوار نہیں ہو سکیں گے۔

تو یہ ہوا ہے ہمارا انجام!

کہاں گئے وہ دانشور جو ہمیں الف لیلیٰ کی کہانیاں سناتے تھے کہ ہم نے ایک سپر پاور کوشکست دی، دوسری شکست کھا کر جا رہی ہے؟ ہم دوبارہ افغانستان فتح کریں گے، اس کے بعد بھارت کا لال قلعہ اور پھر سینٹرل ریاستیں اور پھر چل سو چل۔ ایک طرف ہمارے ریٹائرڈ فوجی جنرل اور انکے پسندیدہ دانشور ہمیں یہ بھاشن دیتے رہے کہ جناب افغان قوم غیور ہے اور آج تک اسے کوئی فتح نہیں کر سکا اور خود انہی افغانوں کو فتح کرنے بھی چل نکلے اور سیدھے جلال آباد جا کر دم لیا، مار کھا کر لوٹ آئے اور آج تک شرمندہ نہیں ہوئے۔ بھائی اگر یہ درست ہے کہ افغان قوم اپنے اوپر کسی کا حاکم نہیں مانتی تو پھر آپ کس منہ سے انہیں محکوم کرنے چل پڑے تھے؟ آخر کیا نتیجہ نکلا دنیا فتح کرنے کے رومانس کا؟

اس سے بڑی نا اہلی کیا ہو سکتی ہے کہ فاٹا سے دس دہشت گرد چلتے ہیں، پورا خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ عبور کر کے کراچی تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسلحہ لیتے ہیں اور کئی دن کی منصوبہ بندی کے بعد ایک کوسٹر میں اسلحہ بھر کر لے جاتے ہیں اور کراچی ایئر پورٹ پر تباہی مچا دیتے ہیں اور ہمارے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ ہم اربوں روپے سکیورٹی کے نام پر لٹا رہے ہیں جبکہ کسی کو کچھ علم ہی نہیں ہوتا کہ ملک میں کون کیا کر رہا ہے۔

بتایا گیا کہ جناب پہلے سے خبردار کر دیا تھا، کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ہو گا۔ مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر آپ نے بتا دیا تھا۔ دہشت گردوں کے بارے میں علم تھا تو انہیں حملہ کرنے سے پہلے پکڑنا تھا ناں! ان اداروں کے لوگ دن بھر سوچتے ہیں کہ دہشت گرد کس عمارت یا بندے کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں اور پھر ’’الرٹ‘‘ جاری کر دیتے ہیں۔ جب آپ روزانہ بیس ’’الرٹُ‘‘ جاری فرمائیں گے تو کچھ دن بعد ان میں سے ایک نہ ایک تو ٹارگٹ ہو گا ہی، لہٰذا فوراً کریڈٹ لیتی ہیں کہ جناب دیکھ ہم نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا! میں نے روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں سکینڈل فائل کیا تھا کہ ایک سکیورٹی ادارے کے 35 افسران کو مضاربہ سکینڈل میں ایک عام مولوی احسان نے لوٹ لیا تھا۔ ان سے کوئی کیا توقع رکھے کہ وہ اس ملک کو دہشت گردوں سے بچا پائیں گے؟

سیاسی لیڈروں کا حال بھی سن لیں۔ سات ارب روپے کی ایڈوانس ادائیگی چینی کمپنی کو چار سال قبل کی گئی اور بدلے میں چار ناقص سکینرز لیے۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ پیپلز پارٹی کے جو وزیر اس سکینڈل میں ملوث ہیں، دندناتے پھرتے ہیں۔ کر لو جو کرنا ہے۔ انہیں ہاتھ لگا کر دیکھیں فوراً سیاسی انتقام کا نعرہ بلند ہو گا۔ اس ملک میں دہشت گردی شروع ہوئے بارہ برس گزر گئے اور آج تک سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے پر کوئی کام نہیں ہوا۔ تاہم وزیر اعظم ہائوس کی رکھوالی کیلئے چوبیس لاکھ روپے کے چھ کتے خریدے گئے ہیں۔ بائیس کروڑ کی دو بلٹ پروف گاڑیاں۔ عوام جائیں جہنم میں۔ یہ حکمرانوں کا مسئلہ نہیں۔

اب ہر جماعت اور اسکے لیڈر نے میرے جیسے ڈھول پیٹنے والے اپنے ساتھ رکھ لیے ہیں جو انکی شان میں قصیدے لکھتے رہتے ہیں اور انہیں فرانس کے چارلس ڈیگال سے بڑا لیڈر ثابت کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ اگر اس ملک میں کسی کا احتساب ہوتا تو شاید یہ ملک بچ جاتا۔ اگر 1971ء کے ذمہ داروں کو بھٹو صاحب سزا دیتے، نہ کہ انہیں پروموشن عطا فرماتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اوجڑی کیمپ کے ذمہ داروں کو سزا ملتی تو بھی کچھ بہتری آ سکتی تھی۔ ایبٹ آباد آپریشن پر کچھ طاقتور لوگوں کو برطرف کیا جاتا تو بھی شاید ہم سنبھل جاتے مگر ایسا نہ ہو سکا، چنانچہ ایسے واقعات کا انبار لگ گیا اور قوم ان سب کی نااہلیوں کی سزا لاشوں کی شکل میں بھگتتی رہی اور کسی سے جواب طلبی ، اظہار ناراضگی ، استعفیٰ مانگا یا برطرفیاں شروع کیا تو یہ ٹرینڈ چل نکلے گا اور پھر ایک دن یہ رجحان انکے محل پر بھی دستک دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی حکمران نے اپنے ماتحتوں کی نالائقی پر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔

چودھری نثار کی سن لیں۔ موصوف سال بھر رام لیلا سناتے رہے کہ وہ دہشت گردی کے بارے پالیسی بنا رہے ہیں اور آخر کار بن گئی اور خرچہ تیس ارب روپے بتایا۔ اسحاق ڈار صاحب نے کہا کہ ان کے پاس ایک روپیہ نہیں؛ تاہم ایک سو ارب روپے قرضہ سکیم اور ایک سو ساٹھ ارب روپنے لاہور ٹرین کے لیے نکل آئے۔ اب کراچی حملہ ہو گیا اور سنا ہے کہ وزیر اعظم تک چودھری نثار کو رات بھر ڈھونڈتے رہے مگر وہ نہ ملے اور نہ ہی انکی ریپڈ رسپانس فورس کہیں نظر آئی۔ چوبیس گھنٹوں بعد اپنے محفوظ بنکر سے نکلے اور جذباتی کہانی سنائی کہ کونسا دہشت گرد کہاں سے، کیوں اور کیسے آیا۔ واقعہ ہو جانے کے بعد ہم سب سے بڑے سمجھدار ہو جاتے ہیں۔ اگر اتنی سمجھداری کا مظاہرہ واقعہ ہونے سے پہلے کر لیتے تو شاید ہم یوں بیچ چوراہے میں ننگے تو نہ کر دیے جاتے؟

ایک اور اداس دن گزرا۔ مزید گھرا جڑے اور ہماری نالایقیوں کی ایک کہانی اور خونی داستان سمیٹ کر سرخ سورج غروب ہوا!!

بشکریہ روزنامہ’’دنیا‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.