.

عراق، شام کی راہ پر!

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم شام میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر ان وجوہ کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں جن سے عراق کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک میں خون آلود سیاسی تبدیلی رو نما ہو رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ عراق اس سے پہلے بھی المیے، سکیورٹی خلا اور سیاسی عدم توازن کے تجربے سے گزر چکا ہے۔

دونوں ممالک میں صورت حال بدستور عدم تصفیے کی جانب جا رہی ہے اور دونوں ممالک کی حکومتیں منتشر بنیاد پر مختلف گروپوں کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور یہ گروپ دونوں ممالک میں ایک ہی جیسے ہیں۔ ان میں القاعدہ اور اس سے وابستہ گروپ، عراق میں شیعہ ملیشیائیں اور شام میں علوی گروپ ہیں۔ ان دونوں ممالک میں سرکاری فوجیں کمزور ہیں مگر انھیں غیر ملکی فوجی اور لاجسٹیکل امداد حاصل ہے۔

دریائے دجلہ اور فرات کی سر زمین کی جغرافیائی سیاسی صورت حال قبائلی توسیع کے متوازی ہے۔ ان دونوں ممالک کی تاریخ مشترکہ ہے اور میسوپوٹیمیا سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ عراق اور شام میں بعث پارٹی نے ایک ہی جیسی فوجوں کے ساتھ جبر و استبداد کے انداز میں حکومتیں کی ہیں۔ اول الذکر ملک میں بعث پارٹی کے اقتدار کے زوال کے بعد طوائف الملوکی کا دور دورہ ہو گیا اور اس نے دوسرے ملک کو بھی متاثر کیا ہے۔

عراق آج کی خبروں کی شہ سُرخی ہے۔ وہاں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، اس کی تفہیم کے لیے ہمیں عراق کی سیاسی اور فوجی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کو ملاحظہ کرنا چاہیے: شمال اور مغرب میں شورش زدہ علاقے، دھمکی زدہ یا مشتملہ علاقے ۔۔۔ ان میں بغداد کا وسط اور اس کے نواحی علاقے شامل ہیں اور جنوب اور کردستان میں خاموش مگر تشویش زدہ علاقے۔

تین بڑے صوبوں الانبار، نینویٰ اور صلاح الدین میں ریاست کے خلاف ایک بڑی بغاوت برپا ہے۔ دنیا کی سب سے نڈر اور سفاک تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اس مسلح بغاوت کی قیادت کر رہی ہے۔ اس علاقے کے بہت سے مسلح گروپ داعش کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ حکومت اور اس کے نمائندوں کے خلاف لڑائی میں پرجوش انداز میں شریک ہیں۔

یہ منظرنامہ شام میں رونما ہونے والے واقعات ایسا ہی ہے۔ وہاں اول اول جیش الحر بشار رجیم کے مقابلے میں سامنے آئی تھی۔ اس کے ساتھ ظہور پذیر ہونے والے داعش اور النصرۃ محاذ نے اتحاد بنا لیا لیکن بعد میں یہ پتا چلا کہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے مقاصد کچھ اور ہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ داعش کے جنگجو اسد رجیم کی فورسز سے کچھ کم خطرناک نہیں تھے۔ اس لیے ان کے درمیان باہمی لڑائی شروع ہو گئی۔

صوبہ نینویٰ اور الانبار میں مسلح مزاحمت کاروں کی بھاری تعداد موجود ہے۔ داعش کے پاس چند ایک ہزار جنگجو ہیں۔ ان کے ساتھ صدام دور کے سابقہ فوجیوں کی اکثریت ہے۔ مسلح فورسز کا یہ اجتماع ایک بڑی فوج کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو بغداد کے لیے خطرے کا موجب ہو گا لیکن اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اس کا انجام بھی شامی باغیوں کی طرح ہو گا۔ مسلح باغی گروپ اپنے قبائلی حمایتیوں کے ساتھ ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہوں گے۔

الانبار جیسا منظر نامہ بھی دُہرایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں الانبار قبائل نے القاعدہ کے مقابلے میں امریکی فورسز سے اتحاد بنا لیا تھا۔ القاعدہ ان قبائل کے لیے خطرہ بن گئی تھی اور اس نے ان کے علاقوں میں اپنے شہزادوں اور منصفین کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کی تھی۔

وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت اس وقت مشکل میں ہے۔ خاص طور پر یہ واضح ہے کہ وہ داعش کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ یہ اس بھی عیاں ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شمالی شہر موصل کو خالی کیا اور اس کا کسی ایک لڑائی کے بغیر ہی سقوط ہو گیا۔ نوری المالکی کی حکومت موصل سے تعلق رکھنے والے اسامہ النجیفی ایسے اپنے مخالف رہ نماؤں کو سزا دینا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ان کے علاقوں کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بننے دیا ہے لیکن حکومت کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یہ خطرہ اس کے اثر و رسوخ والے علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس عفریت کے بارے میں توقع یہ ہے کہ وہ پھلے پھولے گا اور ہر کسی کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ اس لیے یہ بات غیر متوقع تھی کہ مالکی کو ہنگامی حالت کے نفاذ کا حق بروئے کار لانے کے لیے کہا جاتا۔

درحقیقت انھیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ وہ پہلے ہی ہنگامی حالت کے انداز ہی میں حکمرانی کر رہے ہیں۔ وہ تن تنہا عراق کو چلا رہے ہیں۔ وہ بیک وقت وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ ہیں، ملک کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس کے کمانڈر بھی ہیں۔ وہ عدلیہ کی بھی نگرانی فرماتے ہیں۔اس لیے انھیں ہنگامی حالت کے اعلان کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

نوری المالکی اقتدار سے چمٹے ہوئے ایک آمر ہیں۔ ان کے مخالفین اور اتحادیوں کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ جن شیعہ قوتوں نے چار سال قبل ان کا انتخاب کیا تھا، اب وہ اگلی چار سالہ مدت کے لیے ان کی حمایت کو تیار نہیں۔ تاہم اگر عراق نے ان کو مزید اقتدار سے چمٹے رہنے دیا ہے تو وہ اس کو جلانے پر آمادہ ہیں۔ وہ بشارالاسد کی طرح ہی اقدام کر رہے ہیں۔ شام کا حکمران، جس نے برسر اقتدار رہنے کے لیے اپنے ملک کو جلا دیا ہے اور اس نے مصالحت کی ان تمام پیش کشوں کو ٹھکرا دیا جن میں اس کے اقتدار میں توسیع کی ضمانت نہیں دی گئی تھی۔

موصل کے سقوط سے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے اور امریکی فوج کے انخلاء کے بعد عراق کی نئی تاریخ کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اگر جنگیں محدود رہتی ہیں، جیسا کہ یہ اب ہیں تو اس سے ایک ایسے سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور مختلف جماعتوں میں اتحاد سے مزاحمت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر تشدد شمال میں کرد علاقوں اور وسط میں حکومت کے مضبوط مرکز تک پھیل جائے گا اور موصل کا سقوط ایک مکمل اور خوف ناک خانہ جنگی پر منتج ہو گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.