.

’’علّامہ القادری چُوڑیاں نہیں پہنتے!‘‘

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

علّامہ طاہر القادری نے اپنے انقلاب کا آخری مرحلہ مکمل کرنے کے لئے 23جون کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترنے کا اعلان کر دِیا ہے اور کہا ہے کہ ’’مَیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آ رہا ہوں۔‘‘ جان ہتھیلی پر رکھنا یا سر ہتھیلی پر رکھنا کا مطلب ہے جان دینے کے لئے تیار ہونا یا جان سے بے پروا ہوجانا۔ امِیرؔ مینائی نے کہا تھا کہ ؎

’’ہائے قاتل نہیں مِلتا کہیں شمشِیر بکف
سر ہتھیلی پہ لئے پھِرتے ہیں مرنے والے‘‘

لیکن علّامہ القادری عاشق نہیں بلکہ سیاستدان اور ’’قائدِ انقلاب‘‘ ہیں اور وہ (بقول خُود) اپنی جان یا سر ہتھیلی پر تو لئے پھِرتے ہیں لیکن مرنے سے ڈرتے بھی ہیں۔ اِس سے ثابت ہُوا کہ عاشق قائدِ انقلاب کی طرح ڈرپوک نہیں ہوتا۔ اگر القادری صاحب خود ’’خطرۂ ایمان‘‘ نہ ہوتے تو اُنہیں ’’خطرۂ جان‘‘ بھی نہ ہوتا۔ انہوں نے وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے 8 لِیڈروں سے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وفاقی اور حکومتِ پنجاب سے بھی جناب ذُوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی سے پہلے ایک چھوٹی سی کتاب " If I Am Assasinated" کے نام سے لِکھی تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے قتل ہونے سے پہلے اپنی وصِیت لیکن علّامہ القادری نے صِرف جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی جان کے لئے خطرہ بیان کرنا ہی کافی سمجھ لِیا ہے۔

علّامہ القادری نے گذشتہ دِنوں وِیڈیو لِنک کے ذریعے خطاب کرتے ہُوئے بتایا تھا کہ ’’مَیں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں پڑھاتا رہا ہوں اور ہائی کورٹ اور سُپریم کورٹ کے لاتعداد سینئر وُکلاء اور جج صاحبان بھی میرے شاگرد رہ چُکے ہیں۔‘‘ ممکن ہے کہ موصوف کایہ دعویٰ درُست ہو لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ القادری صاحب نے بحیثیت وکِیل کبھی کِسی لوئر کورٹ، ہائی کورٹ یا سُپریم کورٹ میں پریکٹس نہیں کی یعنی قانون کے اِس اُستاد کا تجربہ "Net Practice" تک ہی محدُود رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’اُستادِ محترم‘‘ نے کینیڈا سے یہ اعلان کر دِیا ہے کہ ’’اگر مجھے قتل کر دِیا جائے تو وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے فلاں فلاں لِیڈر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے‘‘ علّامہ القادری نے کہا کہ ’’مَیں نے 8 افراد کے خلاف پیشگی "F.I.R" یعنی بنیادی اطلاعاتی رپورٹ درج کرا دی ہے۔‘‘ عجیب بات ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت ایف آئی آر توکسی تھانے میں جا کر مُدّعی اُس کا وکیل یا کوئی رشتہ دار درج کراتا ہے۔

اگر واقعی علّامہ القادری کو وزیرِاعظم وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور اُن کے 6 ساتھی وُزراء سے جان کا خطرہ ہے تو اُن کے خلاف اُنہیں خُود اُن کے بیٹوں یا اُن کے کسی وکِیل کے ذریعے ’’اندیشۂ قتل کا مقدمہ‘‘ درج کرانا چاہیے جِس طرح صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری نے اپنے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش کے الزام میں وزیرِاعظم ذُوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا ۔ محض غُصّہ اور جوشِ خطابت میں کسی پر الزام لگا دینے سے وہ الزام ایف آئی آر نہیں بن جاتا۔ دروغ برگردنِ راوی کہ ’’مَیں تمہارے خلاف ایف آئی آر درج کرا دوں گا‘‘ علّامہ القادری کا تکیہ کلام بن گیا جب موصوف جھنگ میں تھے۔ ایک دِن اُن کا ایک کلاس فیلو اُن کی سائیکل اُدھار مانگ کر لے گیا ۔کلاس فیلو نے سائیکل واپس کی تو اُس کے ’’کُتّے‘‘ فیل ہو گئے تھے۔‘‘ القادری صاحب نے کہا کہ ’’تُم میری سائیکل میں نئے کُتّے ڈلوا کر دو!‘‘ کلاس فیلو نے کہا کہ ’’کُتّے بھونکن والے ہون یا وڈھ کھان والے؟‘‘

اُس کے بعد القادری صاحب کسی اپنے یا غیر سے ناراض ہوتے ہیں تو بالمشافہ یا وِیڈیو لِنک کے ذریعے اُسے اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ بد دُعائیں اور کوسنے بھی دیتے ہیں۔ یہ بات مشہور ہے کہ جِس بھی چھوٹے یا بڑے شخص کو علا ّمہ القادری نے بد دُعائیں اور کوسنے دئیے ہیں وہ کامیاب و کامران رہا ہے۔ (نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر)۔ مجھے علّامہ القادری کے ایک مُرید نے بتایا ہے کہ ’’اب ’’شَیخ اُلاِسلام ‘‘ بددُعائیں اور گالیاں دینے کا نذرانہ بھی وصول کرنے لگے ہیں۔‘‘ علّامہ القادری نے حُکم دِیا ہے کہ ’’جب 23 جون کی صُبح میرا طیّارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈّے پر اُترے تو پاک فوج کے افسران اور نوجوان ہوائی اڈّے کو اپنے کنٹرول میں لے لیں۔‘‘ حیرت ہے کہ موصوف نے جنرل راحیل شریف کو یہ حُکم کیوں نہیں دِیا کہ ’’چونکہ مَیں ’’شَیخ الاِسلام اور قائدِ انقلاب‘‘ ہوں اِس لئے مجھے 21 توپوں کی سلامی بھی دی جائے۔‘‘ اب تو ایک ہی طریقہ ہے کہ علّامہ صاحب کے مُریدین 21 توپوں کا بندوبست کریں جو علّامہ صاحب کی تشریف آوری پر توپ چلا سکتے ہوں۔

23 دسمبر 2013ء کو علّامہ القادری نے خُود ہی میزبان اور خُود ہی مہمانِ خصوصی بن کر مینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ خطاب کرتے ہُوئے مِیڈیا کو بتایا تھا کہ ’’جلسۂ گاہ میں موجود لوگ میرے عقِیدت مند ہیں جو اپنے مکان، دُکانیں، گاڑیاں، موٹر سائیکل، سائیکل اور عورتیں اپنے زیورات فروخت کر کے آئی ہیں۔ ’’انقلاب‘‘ کے لئے اب مَیں لاہور سے لاکھوں افراد کے ٹھاٹھیں مارتے ہُوئے سمندر اپنے لانگ مارچ کی قیادت کرتا ہُوا اسلام آباد پہنچوں گا اور انقلاب لا کر دم لوں گا۔‘‘ لانگ مارچ کی روانگی سے پہلے علّامہ القادری نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کی حکومت کو بد دُعائیں دیں جِس کا نتیجہ یہ نِکلا کہ 11 مئی کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی پارٹی بن گئی۔ میاں نواز شریف، وزیرِاعظم اور میاں شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئے۔علّامہ طاہر القادری جِتنے دِن اسلام آباد میں رہے وہ اور اُن کے اہلِ خانہ بم پروف کنٹینر میں رہے اور لانگ مارچ کے شُرکاء کھُلے آسمان تلے سخت سردی میں۔ انقلاب کے انتظار میں وہ بم پروف کنٹینر اب کہاں ہے؟ پاکستان میں یا کینیڈٖا میں؟

سابق وزیرِاعظم چودھری شجاعت حسین اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی علّامہ القادری کی حمایت میں خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں۔ چودھری صاحبان نے اپنا ’’انقلاب‘‘ علّامہ طاہر القادری کے ’’ا نقلاب‘‘ کے ماتحت کر دِیا ہے اور اعلان کر دِیا ہے کہ ’’کوئی وی ساڈے علّامے نُوں مَیلی اَکھّ نال نہ ویکھے، نئیں تاں اَسیں اونہوں وخت پا دیاں گے۔‘‘ لندن سے الطاف بھائی نے بھی خبردار کِیا ہے کہ ’’اگر کسی نے میرے بڑے بھائی جان کو ہاتھ لگانے کی جُرأت بھی کی تو اُس کی خیر نہیں۔‘‘ (ہاتھ لگانے والے کی یا علّامہ صاحب کی؟)

علّامہ القادری کے پیروکاران انقلاب کے آغاز میں ہی قائدِ انقلاب پر اپنا ’’دھن‘‘ تو پہلے ہی نچھاور کر چُکے ہیںاور اب ’’تن اور من‘‘ بھی نچھاور کرنے کے لئے پَر تول رہے ہیں۔ اِس کے باوجود ’’قائدِ انقلاب‘‘ فوج سے سکیورٹی طلب کر رہے ہیں اور انہوں نے فرمایا کہ ’’ہم نے چُوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘‘ علّامہ صاحب نے یہ وضاحت کر کے بہت اچھا کِیا ورنہ ممکن تھا کہ ایسی صورت میں ’’انقلاب‘‘ کسی اور کے گھر چلا جاتا۔ بائی دی وے پنجاب کے ضلع جھنگ اور سندھ کے ضلع حیدر آباد کی چُوڑیاں بہت مشہور ہیں۔ علّامہ طاہر القادری اپنے لانگ مارچ کے ذریعے تو انقلاب نہیں لا سکے ممکن ہے۔" Short March" کے ذریعے لے آئیں کیونکہ اِس بار موصوف موصوف کینیڈا سے سیدھے اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.