.

محض مصافحہ نہیں بلکہ مزیدبہت کچھ!!

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو مطلع کیا ہے کہ وہ دہلی میں ان سے ملاقات سے خوش ہیں اور اس سے متضاد اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے اعتبار سے کم از کم یہی ضروری اور کافی ہے کہ دونوں راہنماؤں نے باہمی تعلقات میں پیش رفت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ درحقیقت ، یہ ملاقات منعقد ہی نہیں ہوئی اور دونوں طرف ، باہمی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بے اعتمادی اور شکوک موجود ہیں۔ اس برس، دونوں راہنماؤں کے لیے باہمی ملاقات کے لیے مزید دو مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جن میں ضروری نہیں کہ باہمی تعلقات میں پیش رفت کے متعلق بات چیت کی جائے۔ ایک ملاقات، نیویارک میں ہو سکتی ہے بشرطیکہ دونوں راہنما، ایک ہی وقت پر وہاں موجود ہونے کا فیصلہ کر لیں، جیسا ماضی میں اقوام متحدہ کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوا۔ بلاشبہ، اس ملاقات کا انحصار اس امر پر ہے کہ دونوں فریق اس امر پر اتفاق کر لیں کہ اس ملاقات میں نئی دہلی میں محض مصافحہ کرنے کے بجائے باہمی تعلقات کے ضمن میں مزیدپیش قدمی ہو سکتی ہے۔ درحقیقت، اگر دونوں ممالک، نیویارک میں ملاقات کی ایک متوقع تاریخ کا اعلان کر دیں تو پھر یہ قدم ، نئی دہلی میں دونوں راہنماؤں کے درمیان مصافحہ سے کہیں اہم پیش رفت ہوگی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان ملاقات کا دوسرا موقع ، نیپال میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کا ہو سکتا ہے جہاں یہ دونوں راہنما بلاشبہ موجود ہوں گے۔

راہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں، سارک اجلاس کا ایک حصہ ہوتی ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ مودی ،سارک ممالک کے دیگر سربراہان سے تو ملاقات کریں لیکن نواز شریف کو نظرانداز کر دیں۔ ان دونوں متوقع ملاقاتوں میں سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ملاقات کی تاریخ طے کی جا سکتی ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کے نزدیک دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل نہیں ہو سکتے کیوں کہ پاکستان درحقیقت ،فوج کی گرفت میں ہے اور بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوت ارادی کی موجودگی ضروری ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ چوہے اور بلی کا کھیل کھیلتی رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے ضمن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی سیاستدانوں، سیاسی جماعتوں، اعلیٰ عہدوں پر فائز حاضرملازمت اور ریٹائر سرکاری ملازموں، خفیہ اداروں اور میڈیا شخصیات پر مشتمل ایک ایسی ان دیکھی اسٹبلشمنٹ موجود ہے جو اپنی مرضی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ پاکستان میں کوئی جرنیل، بھارت میں کوئی وزیراعظم، اس اسٹیبلشمنٹ کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بظاہر، دونوں ممالک میں یہ اسٹبلشمنٹ مختلف نظر آتی ہے لیکن درحقیقت، ایک جیسی ہے۔ دونوں طرف حالات ایک ہی قسم کے نظر آتے ہیں، دونوں کا پس منظر ایک جیسا ہے، دونوں کی طرف سے دلائل بھی ایک ہی جیسے پیش کیے جاتے ہیں، اور ان کا موضوع بھی وہی ہوتاہے، یعنی کشمیر اور دہشت گردی۔ دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اس طرح کے دلائل سامنے آتے ہیں؛ ان پر بھروسانہ کرو؛ وہ مکمل ناقابل اعتبار ہیں۔ وہ آپ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے خفیہ ادارے ہماری تباہی کے ذمہ دارہیں، وہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ نہایت ہی برا سلوک کرتے ہیں، انہیں سبق سکھانے کی ضرورت ہے!! اس لیے ضرورت کہ نئی دہلی میں دونوں راہنماؤں نے جو مصافحہ کیا تھا، اس سے کہیں بڑھ کر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے، دونوں راہنماؤں میں ذہنی ہم آہنگی درکار ہے اور دونوں اذہان میں سب سے پہلا مقصد، امن، ہونا چاہیے۔ امن کے مقصد کو ایک مشکل فیصلہ سمجھنا چاہیے، ایک ایسی ضرورت سمجھنی چاہیے جس کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر اپنے مفاد سامنے رکھنا چاہیے۔ دونوں ممالک کی حکومتیں، جنہوں نے ہمیشہ ماضی میں حالات کے دھارے کے الٹا چلنے کی کوشش کی ہے، کو ضرورت ہے کہ وہ امن کو ایک ایسا مقصد سمجھیں جس کے ذریعے دونوں ممالک باہمی مسائل حل کر سکیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.