.

خواجہ سرا والی دھمکی

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ سیاست ہے یا منافقت؟ عوام کے ووٹ لینے والے فوج کے بوٹ کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔ ایک سیاسی نظریے اور جماعت کی سیڑھی پر چڑھ کر اقتدار کی بلندی کے مزے لئے جاتے ہیں اور پھر نام نہاد اصولوں کی خاطر اس بلندی پر قائم رہنے کے لئے نظریے اور جمہوریت کی سیڑھی کو لات مار کر گرا دیا جاتا ہے۔ نئی سیاسی جماعت بنا کر ملک میں نیا نظام لانے کانعرہ لگایا جاتا ہے۔ نئی جماعت ہوتی ہے، نیا جھنڈا تیارکیا جاتا ہے، منشور کی بھی فوٹو کاپی تقسیم ہو جاتی ہیں، گلی گلی محلے محلے جا کر لوگوں سے ووٹ مانگے جاتے ہیں۔ غریب عوام، ریڑھی والے، مزدور کسان، دوکاندار، موچی، درزی، دھوبی کا ذکر تقریروں میں کیا جاتا ہے اور پھر جب انتخابی اتحاد کے باعث الیکشن جیت لیا جاتا ہے تو پھر ایک فاخر عوامی نمائندے کی بجائے کنٹونمنٹ کے دھوبی کی طرح سویلین علاقوں کے باسیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ آج کل کی سیاست بھی کچھ مختلف نہیں۔ جس طریقے سے کچھ سیاست دان کھلم کھلا سرعام فوج کو دعوت گناہ دے رہے ہیں۔ ایسے میں ان سیاست دانوں کے نام لئے بغیر کسی قسم کا تجزیہ کرنا بھی منافقت ہی ہو گی۔

اس سیاسی بانجھ پن کا آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا جب جنرل مشرف کے دور میں عوامی ووٹ لینے والے مسلم لیگ قاف کے چوہدری برادران نے مشرف کو سو بار وردی میں صدر منتخب کرانے کا اعلان کیا تھا۔ آج بھی اس سوچ اور نظریے کے پجاری ایک نئی شکل میں عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارا آزاد میڈیا ایسے سیاست دانوں کی طرف سے عطا کردہ پلاٹوں اورمراعات کے بوجھ تلے دبا ہے اسی لئے یہ سوال بھی نہیں کر پاتا کہ یہ منتخب لوگ عوام کی جمہوری امنگوں کی نمائندگی کرنے کی بجائے فوجی آمروں کی ترجمانی کیوں کرتے ہیں۔ اگر ان دوغلے سیاست دانوں کو فوج کی مداخلت کی دھمکی دینے پر اتنا فخر ہوتا ہے تو پھر سیاسی جھنڈے اور ووٹ مانگنے کا ڈرامہ کس لئے رچایا جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک ہی بار ٹرک‘ ٹینک یا جیپ سے لٹک کر اقتدار میں کیوںنہیں آجاتے۔ ایسی سیاست میں فرزند راولپنڈی نے بھی بہت نام کمایا ہے۔

حالیہ انٹرویوز میں انہوں نے حکومت کو بارہا خبردار کیا کہ اگر مشرف کو جانے نہ دیا گیا تو پھر بقول ان کے ایک جہاز نہیں دو جہاز آئیں گے۔ اگر شیخ رشید کو مشرف کی حمایت پر اتنا ہی گھمنڈ ہے تو پھر اس فوجی آمر کے حق میں ایک بڑی ریلی ہی نکال کر دکھا دیں۔ کیا راولپنڈی کے عوام نے مشرف کو فرار کروانے واسطے انہیں ووٹ دئیے تھے اور کیا عمران خان کے متوالوں کے ووٹ بھی اسی خاطر شیخ صاحب کی زنبیل میں ڈالے گئے؟ یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ طے شدہ تحریک کے نتیجے میں جمہوریت کو نہیں بلکہ ایک خاندان کو نقصان پہنچے گا۔ واضح نہیں کیا کہ یہ کیسے ہوگا۔ یقین نہیں آتا کہ عوام کے ووٹ کی طاقت کا دم بھرنے والے آخر کیسے فوجی بوٹ کی دھمکی لگانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور پھر چند لوگ اس سیاسی بے حیائی ننگے پن اور نظریاتی دیوالیہ پن کو بے ساختگی اور بے باکی کا نام دیتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ ہمارے ہاں بے شرمی اور بے باکی میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہ سیاست دان اگر فوجی بوٹ کی دھمکی لگانے کی بجائے اپنے عوامی ووٹ پر ہی اعتماد کریں تو سیاسی مردانگی ہوگی۔ مگر ان کا رویہ ویسا ہی ہے جیسے کوئی خواجہ سرا کسی مرد کا نام لے کر کسی طوائف کو دھمکا رہا ہو۔ اگر موجودہ حکومت ایسی دھمکیوں کے باعث مشرف کے معاملے میں لچک کا مظاہرہ کرتی ہے تو پھر واضح ہے کہ خواجہ سراؤں نے اس حکومت کو صحیح پہچانا ہے۔ مگر ان ننگ سیاست لوگوں کا کیا کہنا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر خدانخواستہ دوبارہ فوجی مداخلت ہوئی تو یہ کہہ کر فوجی ٹرک سے لٹک جائیں گے کہ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھاکہ ایسا ہوگا، کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ ایسے خواجہ سرا سیاستدانوں کے پروموٹر اور اتحادی بھی بڑے ذہین ہیں۔

تحریک انصاف نے کمال ہوشیاری سے شیخ رشید کو سیاسی ”سٹیپنی“ (فالتو پہیہ) کے طور پر رکھا ہوا ہے کہ اگر سیاست کے سنگلاخ راستے میں جمہوریت کا پہیہ پنکچر بھی ہو جائے تو آمریت کی یہ ”سٹیپنی“ اقتدار کی منزل تک پہنچنے کے کام آ سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی شیخ رشید کے ساتھ جمہوری انتخابی اتحاد کی ایک اور مثال وہ مولوی بھی تھا جس نے اپنی اہلیہ کو پڑوسی کی مرغی حلال کر کے اس کی پلیٹ میں ڈالنے پر ڈانٹ دیا اور کہا کہ صرف شوربہ ہی پیوں گا۔ بیوی نے غلطی سے بوٹی بھی ڈال دی اور گھبرا کر واپس لینے لگی تو مولوی نے کہا کہ ”آپ سے آئے تو آنے دو“ لگتا ہے اقتدار کی بوٹی سے متعلق تحریک انصاف کی بھی یہی پالیسی ہے۔ مرغی چوری کی سہی مگر ”آپ سے آئے تو آنے دو“ آخر صوبائی حکومت کے شوربے پر کب تک گزارہ کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف ایک فوجی آمر کے احتساب کے لئے سڑکوں پر اتنی متحرک نہیں جس انتخابی عمل میں دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے اس انتخابی عمل اور آئینی نظام کو بوٹوں تلے روندنے والے فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کا معاملہ عدالتوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے۔

اس طرح شیخ رشید اور عمران خان کی حکمت عملی اور سوچ میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ شیخ صاحب ووٹ عوام کا لیتے ہیں اور بوٹ فوج کا دکھاتے ہیں اور خان صاحب بات جمہوریت کی کرتے ہیں اور انتخابی اتحاد فوجی آمروں کے ترجمان کے ساتھ بناتے ہیں۔ بہرحال جو بھی کہہ لیں حکمران جماعت کے چند سیاستدان بھی کچھ مختلف نہیں۔ نواز شریف حکومت میں موجود پرویز مشرف کے سابق حمایتی اور وزراءکا کیا کہنا جو خواجہ سراؤں کی دھمکیوں میں آ کر اپنی ”عزت“ کو دوبارہ ”بچانے“ کے لئے پر تولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ عوام کے ووٹ کی طاقت کے گیت گانے والے سیاستدانوں کو نہ تو بوٹ کی طاقت کا پرچار کرنا چاہئے اور نہ ہی بوٹ کی دھمکی کے آگے اپنی پالیسیوں کو ریبوٹ (Reboot) کرنا چاہئے۔ آخر میں ایک اپیل عوام سے کسی ایسے شخص کو منتخب نہ کریں جو آپ کے ووٹ کی پرچی سے کالے بڑے بوٹوں کو چمکا کر اس میں اپنا چہرہ دیکھے اور مانگ بنائے۔ ان دوغلے سیاست دانوں کو ووٹ کی پرچی اور فوج کی پرچی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا....!!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.