.

عراق، افغانستان اور پاکستان

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے حالات دیکھ کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر اسی تناظر میں ہم پاکستان کے متعلق بات کریں تو ہمارے لیے اب بھی موقع ہے کہ عراق اور افغانستان کے حالات سے سبق سیکھیں، اس سے پہلے کہ پانی سرسے سے گزر جائے۔ گھنٹوں میں عراق کے عسکریت پسندوں نے جس طرح کئی اہم علاقوں پر قبضہ کیا اُس نے امریکا سمیت دنیا کے بڑے بڑوں کو حیران وپریشان کر دیا۔ امریکا کی قائم کردہ عراقی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ عراق میں کئی سال سے چلایا جانے والا امریکی ڈرامہ ایک ایسے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکا کے لیے ہی ایک ڈروانے خواب سے کم نہیں۔ جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر حملہ کرنے والا امریکا تو عراق کو صدام حسین کے ’’مظالم‘‘ سے آزاد کروانے آیا تھا۔ صدام حسین کی حکومت کو ختم کر دیا گیا، اسے پھانسی بھی دے دی گئی، وہاں لاکھوں کی تعداد میں عراقی مسلمانوں کو مارا گیا،شیعہ سنّی فسادات کو خوب ہوا دی گئی، اپنی مرضی کی حکومت اور فوج بھی قائم کر دی تا کہ امریکی مفادات کا خیال رکھا جائے۔ عراق کو امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے محفوظ بنا کر امریکی اور اتحادی افواج عراق سے واپس لوٹ گئیں مگر عسکریت پسندوں کی حالیہ کارروائیوں نے امریکا کے کھیل کو ہی الٹ کر رکھ دیا۔

وہاں امریکا کی طرف سے طاقت کے استعمال کی قلعی کھل گئی۔ اب امریکا اپنا بحری بیڑہ بھیجنے کی باتیں کر نے کے ساتھ ساتھ ایران کی بھی مدد حاصل کرنے کی بات کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میںبہت سے سوالوں کے جواب مل جائیں گے جیسے کہ یہ سارا کھیل کیا رخ اختیار کرتا ہے اور اس کے شام اور خطہ کے دوسرے ممالک پرکتنے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، سعودی عرب اور ترکی کا ان معاملات پر کیا ردعمل ہوتا ہے اور شیعہ سنّی تقسیم کو اور کتنی ہوا دی جائے گی۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں موجود مسلمانوں کے لیے یہ تمام معاملات انتہائی فکرمندی کا ذریعہ ہیں۔ ہمارا معاملہ تو اس لیے بھی سنگین ہے کیوں کہ پاکستان کو نہ صرف امریکا کی طرف سے تحفہ میں دی جانے والی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں اندرونی طور پر بدترین دہشتگردی اور عسکریت پسندی کا سامنا ہے بلکہ ہم اس افغانستان کے ہمسایہ ملک بھی ہیں جسے امریکا نے 9/11 کے نام پر پہلے تباہ و برباد کیا، وہاں طالبان کی حکومت کو ختم کیا، اپنا قبضہ جمایا، لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا، اپنی مرضی کی حکومت وہاں مسلط کی اور فوج قائم کی تا کہ امریکی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ تقریباً چودہ سال نیٹو افواج کے ساتھ مل کر امریکا نے پورا زور لگا لیا، ہر قسم کا جدید اسلحہ استعمال کیا، اربوں ڈالرز خرچ کر لیے مگرافغانستان میں طالبان پر قابو نہ پاسکا۔ اب عراق کی طرح امریکا افغانستان سے بھی نکل رہا ہے۔

بڑی تعداد میں تو اس کی فوج پہلے ہی واپس جا چکی۔ افغانستان کا مکمل کنٹرول افغان فوج کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ عراق کی حالت دیکھ کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا کی رخصتی کے بعد افغانستان پر طالبان کا دوبارہ قبضہ جمانا کوئی حیرانی کی بات نہ ہو گی۔ افغانستان میں طالبان کی طاقت کو امریکا و نیٹو سب مل کر نہ ختم کر سکے تو افغان فوج طالبان کا کیا مقابلہ کر سکے گی۔ افغان فوج کی حالت تو ویسے ہی پتلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان فوج میںنہ صرف ایک اچھی خاصی تعداد نشہ کرنے والوں کی ہے بلکہ صرف گزشتہ ایک سال میں 30 ہزار افغان فوجی بھگوڑے ہو گئے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ امریکا کے نکلنے کے بعد افغانستان کے حالات خراب ہوں گے جس کے اثرات سے پاکستان نہیں بچ سکتاجسے ویسے ہی عسکریت پسندی اور دہشتگردی کا سامنا ہے۔ جنرل مشرف کی امریکا نواز پالیسیوں نے پاکستان میں خون و آگ کا وہ کھیل شروع کیا، جس کا خاتمہ اب بہت بڑاچیلنج ہے۔ طاقت کے استعمال نے عراق و افغانستان کو تباہ برباد کیا تو ہمارا حال بھی کوئی اچھا نہیں۔

عراق و افغانستان کے مقابلہ میں پاکستان کی فوج بہت پروفیشنل ہے مگراس مسئلہ کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ ہمارے لیے اب بھی موقع ہے کہ ہم عراق و افغانستان کے حالات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے معاملات کو معاملہ فہمی، تدبر اور بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔ امریکا کے نکلنے کے بعد اگر طالبان افغانستان میں دوبارہ اپنا قبضہ جماتے ہیں تو پاکستان میں بھی طالبان زور پکڑیں گے۔ان حالات میں تو اور بھی ضروری ہے کہ ہماری حکومت اور فوج پاکستانی طالبان سے بات چیت کر کے انہیں امن پر راضی کرے ۔ ملٹری آپریشن سے معاملات پہلے بھی خراب ہوئے اور اب بھی ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کام حکومت و پارلیمنٹ کی طرف سے یہ کیا جانا چاہیے کہ وہ اس ملک کی اساس اور اس کے آئین کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی ملک ہو اُسے اسلام سے زیادہ عرصہ دور نہیں رکھا جا سکتا اور جہاں تک پاکستان کی بات ہے اس کا تو معاملہ ہی مختلف ہے۔ اس ملک کو اسلام کے نام پر بنایا گیا اور ہمارا آئین پاکستان کو قرآن و سنت کے مطابق چلانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر پاکستان سے اس کے خواب کو چھینا گیا اور اس سے اس کا آئینی وعدہ پورا نہ کیا گیا تو پھر عسکریت پسندی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.