.

’’گونگے بابے‘‘ کا ارتحال اور ہماری بے پروائی

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس دن کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ہوا،اس سے اگلے روز خیابان سحر کی چوتھی گلی کا ایک مکین دار فانی سے کوچ کر گیا۔کاہان کا یہ بلوچ سردار جسے طبعاً خاموش اور کم گو ہونے کے باعث ’’گونگابابا‘‘ کہا جاتا تھا، ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا مگر مجھے لگتا ہے اس کی آواز کی گونج پہلے سے کہیں زیادہ دور تک جائے گی کیونکہ جب بڑے مر جاتے ہیں تو قیادت چھوٹوں کے ہاتھ آ جاتی ہے۔اگرکوئی پنجابی سیاستدان فوت ہوا ہوتا تو یہ خبر شہ سرخیوں میں نظر آتی ،اخبارات اس کی زندگی پر خصوصی اشاعت کا اہتمام کرتے مگر تمام اخبارات نے نواب خیر بخش مری کے سانحہ ارتحال کی دو کالمی خبر یوں شائع کی جیسے کوئی معمول کی بات ہو۔ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کی قیادت بگٹی اور مری قبائل کے ہاتھوں میں ہے جب نواب اکبر بگٹی مارے گئے تو بلوچوں کی مسلح جدوجہد میں شدت آ گئی۔ اب مری قبائل کے سرخیل خیر بخش مری بھی رخصت ہو گئے یعنی بگٹی قبائل کی طرح مری قبائل کو قومی دھارے میں لانے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔خیر بخش مری کی موت میرے لئے یوں ناقابل تلافی نقصان ہے کہ شکاگو یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر Jenna Jordan نے 1945ء سے 2004ء کے دوران سرگرم عمل 96 ایسی مزاحمتی تحریکوں کا مطالعہ کیا جن کی پہلے ،دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو ختم کر دیا گیا مگر توقعات کے برعکس وہ تحریکیں پہلے سے زیادہ متشدد اور متحارب ہو گئیں۔ بلوچستان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

اب قیادت ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی جا رہی ہے جن کی لغت میں محض دو ہی الفاظ ہیں آزادی یا موت۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے بلوچستان اسمبلی میں ایم پی اے کا حلف لیتے وقت پاکستان کے بجائے بلوچستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ نواب خیر بخش مری کے مزاج سے آشنا لوگ بتاتے ہیں کہ دھیمے مزاج کے حامل اس بلوچ سردار کی زندگی میں 60ء کی دہائی کے دوران ایک ایسی تبدیلی آئی جس نے یہ طے کر دیا کہ اب مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ تبدیلی تب آئی جب ایوب دور میں آپریشن ہوا ،بلوچ ہتھیار لیکر پہاڑوں پر چلے گئے۔حکومت طاقت کے زور پر انہیں تسخیر نہ کر سکی تو قاصد کے ہاتھ قرآن دیکر باغیوں کی قیادت کرنے والے نواب نوروز خان زرکزئی سے اپیل کی گئی کہ پہاڑوں سے نیچے اترآئیں،کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی لیکن قرآن کی پاسداری بھی نہ کی گئی ،نوروز خان کے ایک بیٹے اور دیگر پانچ عزیزوں کو ان کے سامنے پھانسی دے دی گئی اور وہ بوڑھا سردار جیل میں ہی مر گیا۔بعد ازاں 1970ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد نیپ بلوچستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو غوث بخش بزنجو نے خیر بخش مری کو گورنر بننے کی پیشکش کی جو قبول نہ کی گئی۔بھٹو دور میں بھی بلوچوں سے ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ہمارے ملک میں یوں تو غداری کے سرٹیفکیٹ بہت فراخدلی سے بانٹے جاتے ہیں،حسین شہید سہروردی سے شیخ مجیب تک کتنے ہی ملک دشمن اور غدار دریافت ہوئے مگر بھٹو دور میں یہ انوکھا واقعہ ہوا کہ عراقی سفارتخانے سے اسلحہ کی کھیپ برآمد کی گئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسلحہ کوئٹہ بھجوایا جانا تھاتاکہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کیا جاسکے۔

یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار پوری صوبائی حکومت ہی غدار قرار پائی اور اسے برطرف کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ حیدر آباد سازش کیس میں نواب خیر بخش مری سمیت بلوچ اور پختون قوم پرست رہنمائوں کو جیل بھجوا دیا گیا۔ بعد ازاں جب بھٹو مکافات عمل کے تحت خود جیل چلے گئے تو انہوں نے بے نظیر کو ایک خط لکھ کر نصیحت کی وہ نواب خیر بخش مری سے معافی مانگیں اور انہیں بتائیں کہ جو کچھ ہوا، ریاستی اداروں کے دبائو پر ہوا ،میں مجبور تھا۔میرے خیال میں بھٹو جیسا شخص مجبور یا لاچار تو نہیں ہو سکتا البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ فریقین متضاد اہداف و مقاصد کے باوجود سیم پیج پر ہوں۔ جب بے نظیر بھٹو پاکستان لوٹیں تو انہوں نے بالاچ مری کی موت پر تعزیت کے لئے جانا چاہا،خیر بخش مری نے کہا،اگر پاکستان کی سابق وزیر اعظم بن کر آنا چاہتی ہو تو مت آئو۔ہاں سندھ کی بیٹی کے لئے میرے گھر کے دروازے کھلے ہیں۔ دوران ملاقات بی بی نے ہمدردی جتلاتے ہوئے کہا: ’’نواب صاحب ! آمریت کے دنوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں‘‘۔ نواب خیر بخش نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر جواب دیا: ’’ہاں ،آپ کے والد کے دور میں بھی یہی کچھ ہوا تھا‘‘۔

کہنے کو تو کچھ بھی کہا جا سکتا ہے،دل کے بہلانے کو یہ خیال بھی اچھا ہے کہ بلوچستان میں بگٹی قبائل مری قبائل سے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ تاویل بھی بہت دلچسپ ہے کہ پسماندگی اور غربت کے ذمہ دار بلوچ خود ہیں کیونکہ وہ طبعاً کام چور اور نکھٹو واقع ہوئے ہیں۔یہ کہ کر بھی اپنی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے کہ یہ مُٹھی بھر شر پسند ہیں جو فراری کیمپوں کے ذریعے سیکورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں وگرنہ بلوچ عوام کی اکثریت تو دل و جان سے پاکستان کے حامی اور وفادار ہیں۔جب بات کہنے کی ہو تو یہ دعویٰ کرنے میں کیا حرج ہے کہ بلوچستان میں کہیں پر کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،لاپتہ افراد خود غائب ہو رہے ہیں اور رہیں مسخ شدہ لاشیں تو اب اتنے بڑے علاقے میں کب کوئی کسی کو مار کے پھینک دے، ریاستی اداروں کو بھلا کیا معلوم؟ اپنے آپ کو بہکانے کے لئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے ہمیشہ بلوچستان کو چھوٹا بھائی سمجھا،دیکھیں نا! ہم نے وہاں معدنیات نکال کر لوگوں کو روزگار دیا۔

کوہلو، آواران،ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد جیسے اضلاع میں میٹھے پانی کے کنویں کھود رہے ہیں،بلوچوں کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے اسکول بنا رہے ہیں، اسپتال اور ڈسپنسریاں چلائی جا رہی ہیں،سڑکیں اور پُل تعمیر ہو رہے ہیں۔یہ پیکیج، وہ پیکیج، فنڈ کی بھرمار ہے صاحب! اور ہم کیا کریں؟ بیوروکریسی میں بلوچوں کی نمائندگی کا یہ عالم ہے کہ ہم پنجابیوں کو بلوچستان کا ڈومیسائل بنوا کر پوسٹنگز دے رہے ہیں۔ ہم چاہتے تو بلوچستان میں حکومت بنا سکتے تھے مگر ہم نے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بنا دیا،اب اگر اس کے پاس اختیارات نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟کوئٹہ میں تو ترقی کا یہ عالم ہے کہ لاہور اور اسلام آباد والے بینر آٹھا کر احتجاج کر رہے ہیں کہ کوئٹہ کی طرح یہاں بھی بلٹ ٹرین چلائی جائے۔کہنے کو تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ ہمارے چھوٹے بھائی ہیں مگر نادان ہیں،اب اگر بار بار سمجھانے کے باوجود وہ لچ لفنگ ہمسائیوں سے رسم و راہ ترک کرنے کو تیار نہیں اور ان کی بہتری کے لئے بڑا بھائی یا باپ دو چار لگا دے تو اس میں آسمان سر پر اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟اور اگر ان سب باتوں سے بھی ضمیر مطمئن نہ ہو تو یہ تیر بہدف بات تو ہے ہی کہ بھارت کو ہمارا وجود شروع سے ہی گوارا نہیں ۔اس نے بنگالیوں کو بھڑکا کر مشرقی پاکستان کو الگ کیا اور اب بلوچوں کو بہکا کر ایک بار پھر پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.