.

ضرب عضب سے بڑے معاملات

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمجھنے والوں کے لیے اشارے بہت ہیں اگر سمجھنا چاہے تو۔ آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد ہماری تمام تر توجہ وہاں پر ہونے والی کارروائیوں پر مرکوز ہو جانی چاہیے ۔ ہماری سر زمین کا یہ حصہ ایک طویل مدت سے بد امنی اور دہشت گردی کی جڑ بنا ہوا ہے ۔ اگرچہ ملک میں فساد کے ذرایع اور بھی ہیں جوکراچی سے تفتان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن منظم تخریب کاری یہیں سے ہوتی رہی ہے۔ یہ کارروائی کامیاب ہو جائے گی اس میں کوئی شک نہیں۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس آپر یشن کے گرد غیر ضروری تشہیر اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

ریاستیں اپنی سر زمین پر کارروائیاں کر کے جو نتائج حاصل کرتی ہیں ان کو ایک خاص حد سے زیادہ اہمیت دے کر ریاستی اختیار کی تاثیر کے بارے میں خواہ مخواہ کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر موثر ریاست کے پاس اپنے علاقے میں پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے اور سرکش عناصر کا قلع قمع کرنے کی جو استطاعت موجود ہے اسے استعمال کرتے ہوئے یہ پیغام نہیں دیا جاتا کہ جیسے یہ بہت بڑا معرکہ ہے۔ پاکستان کی ریا ست کے کسی ادارے کو یہ تصور نہیں دینا چاہیے کہ جیسے یہ ملک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے نئی آزادی حاصل کر رہا ہے۔ اس سے ہم اپنی طاقت نہیں کمزوری ثابت کریں گے۔

ہمیں شمالی وزیرستان اور اندرونی حالات پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بھی علا قائی معاملات سے نظر نہیں ہٹانی چاہیے ۔ ہم دوسرے ممالک میں بنتی ہوئی صورت حال سے اس موقع پر بھی بہت سے ایسے اسباق لے سکتے ہیںجو ہمیں دیرپا قومی استحکام حاصل کرنے میں انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں ۔ بد امنی کیوں پھیلتی ہے ؟ اس کا جواب آپ کومشرق وسطیٰ میں بدترین افراتفری کی وجہ تلاش کرتے ہوئے مل جائے گا۔ عراق کو دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ بیرونی سازشوں نے ایک بہترین ملک کو کس بری طرح سے تباہ کر دیا۔ آج امریکی خود مان رہے ہیں کہ انھوں نے عراق میں جا کر مختلف گروپوں کو لڑایا ہے۔

پیسے اور اسلحے سے لیس کیا اور اب اسلحہ بردار جتھے انتہا پسندی کے جھنڈے اٹھائے بغداد کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ اسلامی اور عرب تہذیب و تمدن کا یہ مرکز جس نے پانچ سو سال تک دنیا کو روشن کیا ۔ اب ایک ایسی وحشت کا شکار ہو چکا ہے جو زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے نظر آ رہی ہے ۔ یہ ملک تین ریاستوں میں بٹ چکا ہے ۔ ایک شیعہ ، ایک سنی اور ایک کرد ۔2006 میں ایک ریٹائرڈ امریکی لیفٹیننٹ کرنل رولف پٹیر نے آرمڈ فورسز جرنل میں مشرق وسطی اور جنوبی اشیاء کا مستقبل قریب میں بننے والا نقشہ چھاپا تھا ۔ یہ وہی نقشہ تھا جس میں سعودی عرب کئی ٹکڑوں میں بانٹا گیا تھا اور بلوچستان پاکستان سے علیحدہ ریاست کے طور پر دیکھایا گیا تھا۔

رولف پٹیر نے اس نقشے میں عراق کو انھی تین حصوں میں ٹوٹا ہوا بتلایا تھا جس میں آج عراق بٹ گیا۔ 2008 ء میں اٹنلانٹکس نے ان علاقوں میں بڑی ریاستوں میں سے چھوٹی ریاستوں کے نئے نقشے دکھائے تھے ۔ پچھلے سال روبن رائٹ نے ایک امریکی اخبار میں لیبیا کو کئی ریاستوں میں منقسم کر دیا تھا ۔ یہ نقشے فساد پھیلانے والے گروپ اور دہشت گردی ان فساد پھیلانے والی بین الاقوامی پالیسی کا حصہ ہیں۔ جو پاکستان کے چند ایک کو ڑہ مغز لبر لزکو معصوما نہ دکھائی دیتی ہے ۔ ممالک کو مستحکم ہونے کے لیے ان سازشوں کے خلاف بند باندھنے کا انتظام کرنا ہو گا ۔ پاکستان اب بھی ان نئے نقشوں کا حصہ ہے جن پر مشرق وسطیٰ میں عمل در آمد شروع ہو چکا ہے۔

دوسرا اہم سبق قیادت کی کارکردگی سے ہے ۔ کل کے نیویارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں مصر کے حالات کا تجزیہ پیش ہوا ۔ مصر وہ ملک ہے جس نے کچھ عرصہ پہلے تحریر اسکوائر کے نام سے نام نہاد جمہوری تحریک کو جنم دیا۔ جس کی تشہیر میں دنیا بھر کے ذرایع ابلاغ اور پاکستان کے اکا دکا دانشور تجزیہ نگار دن رات مصروف ہو گئے ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جدید انسانی تاریخ میں اس سے بڑا واقعہ اس سے قبل نہیں ہوا۔ انقلاب آیا، حسنی مبارک کو نکال باہر کیا۔ ہر کوئی مصر کی سڑکوں پر آزادی آزادی چلاتا پھر رہا تھا۔ نامہ نگار تعریفیں کرتے ہوئے باولے ہوئے جا رہے تھے ۔ حقائق نے شیشے سے بنے ہوئے ان خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔

مصر خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا ہوتا نظر آیا۔ لاکھوں لوگوں کی نوکریاں گئیں، سیاحت کی صنعت تباہ ہوئی ، غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ، مہنگائی بڑھی اور انقلاب کے نعرے لگانے والے تحفظ کے لیے چلانے لگے ۔ اب اس ملک میں سابق فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی صدر بن گئے ہیں۔ اب ہر کوئی تحریر اسکوائر کے انقلاب کو امریکی سازش قرار دے رہا ہے ۔ لوگ اب حسنی مبارک جیسے ایک اور صدر سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ان حالات سے پتہ چلتا ہے کہ افرا تفری سے پریشان رعایا کوئی رخ بھی اختیار کر سکتی ہے ۔ اس کی ضروریات زندگی جو بھی پوری کرے گا وہ اس کے ساتھ کھڑی ہو گی ۔

جن ممالک نے جمہوریت کو محض نعرے کے طور پر متعارف کرایا اور پھر اسی ایک چپو سے ملک کی کشتی آگے بڑھانے کی کوشش کی وہ بھنور سے نکل نہیں پائے۔ جمہوریت ہو یا کوئی اور نظام شورش اور فتنے سے بچنے کے لیے لوگوں کے مسائل حل کرنے ہوں گے ۔ اس کے بغیر کوئی نظام دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتا ۔ عراق اور مصر میں جمہوریت کی آواز کمزور نہیں ہے ، انتخابات ہو رہے ہیں، منتخب حکومتیں بھی موجود ہیں لیکن امن نہیں ہے ۔ اس کی تیسری بڑی وجہ حکومتوں کے اپنے رویے بھی ہیں۔
عراق میں موجودہ حکومت نے اپنے مینڈیٹ کو زخموں پر مر ہم کے بجائے نمک پاشی میں تبدیل کر دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ طاقت میں آنے کے بعد تمام نقطہ فکر کو اپنے ساتھ ملاتے اور ایک قوم کے اُس تصور کو اجا گر کرتے جو ٹو ٹتے پھو ٹتے عراق کو جوڑنے والے مادے کا کام کرسکے ۔ انھوں نے ہر شعبے میں اپنی پسند کے افراد گھسا دیے ، اپنے خاص مذہبی نقطہ فکر رکھنے والوں کو با صلاحیت فرد پر ترجیح دی اور ایسی کوتا ہ اندیشی کا ثبوت دیا کہ ریاست عملا بھسم ہونے کو ہے ۔

آج کل کے دور میں کمزور ملکوں کی سرحدیں خطرے میں ہیں۔ ان کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ذریعے توڑ پھوڑ کا شکار کیا جا سکتا ہے ۔ جو حکومتیں بر وقت اقدامات کرتیں ہیں وہ ان حالات کا منہ توڑ جواب دے سکتیں ہیں۔ جہاں پر ریاستی ادارے اپنی بھرپور طاقت سلامتی کے معاملات پر مرکوز کرتے ہیں وہاں پرامن آ جاتا ہے ۔ ضرب عضب ایک مرحلہ ہے ۔ گزر جائے گا ، اصل مسئلہ ان مثالوں سے سیکھنے کا ہے ۔ جو ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیںاور جن کو ہم سمجھنا تو درکنار دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔ سیکھنے والوں کے لیے اشارے بہت ہیں اگر وہ سیکھنا چاہے تو ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.