.

عالمی دہشت گردی ایشیا سے افریقہ جا رہی ہے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موثر امریکی میڈیا کے خیال میں جمعرات بارہ جون کو بغداد کے بعد عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل پر دہشت گردوں کے قبضہ کے بعد امریکی افواج کے غیظ وغضب کو عراق سے نئے بلاوے آنے لگے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کے عین وسط میں اسامہ بن لادن جیسے لوگوں کا ایک خواب ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ (اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ شام یا ’’داعش‘‘) کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے مگر یہ بھی امریکی دانش ور ہی کہتے ہیں کہ امریکی فوج کو عراقی بلاوے سنے ان سنے ہی رہیں گے کیونکہ امریکہ افغانستان اور عراق پر حملے کی اکیسویں صدی کی پہلی غلطی دوہرانے کے سیاسی جرم کا ارتکاب نہیں کرے گا کیونکہ غلطی معاف کی جاسکتی ہے مگر غلطی دوہرانے کا ارتکاب جرم ہوتا ہے جو معاف نہیں کیا جاسکتا اور افغانستان اور عراق میں عالمی دہشت گردی کی نام نہاد سرکوبی سے بھی کہیں زیادہ اہمیت اب افریقہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ’’القاعدہ‘‘ تنظیم کی سرگرمیوں کو حاصل ہورہی ہے جن سے عالمی سرمایہ داری نظام غافل اور لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

’’آئی ایس آئی ایس‘‘ کے تحت مشرق وسطیٰ کے وسط میں ’’اسلامی خلافت‘‘ کے قیام کے اس خطرے کو دیکھتے ہوئے ایک کارٹون میں سابق امریکی صدر جارج بش یہ فرماتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’مجھے عراق پر حملہ نہیں کرنا چاہئے تھا‘‘ اور اس منظر کو دیکھتے ہوئے موجودہ امریکی صدر بارک حسین ابامہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’مجھے شام کے بحران میں مداخلت کرنی چاہئے تھی ‘‘ یعنی جس سیاسی غلطی کا سابق امریکی صدر کو افسوس ہورہا ہے اور یہ افسوس صحیح بھی ہے کہ اسامہ بن لادن کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو عراق میں لے جانے کی ذمہ داری جارج بش کے افغانستان کے حملہ آور ہونے پر عائد کی جاسکتی ہے مگر بارک ابامہ ’’مشرق وسطی کی بہار‘‘ کے ذریعے مشرق وسطی کے مسلمان ملکوں میں جو تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں وہ جارج بش کی افغانستان اور عراق پر حملے کی حماقتوں سے بھی زیادہ خوفناک نتائج کی ذمہ دار ہوسکتی ہیں اور ان کے ذریعے آنے والی دہائیوں میں عالمی سرمایہ داری نظام کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوسکتا ہے جو سوشلزم کے عنوان سے سٹالن ازم کے ساتھ ہوا ہے۔

افریقہ میں تیزی سے پھیلنے والی دہشت گردی کی وجوہات دریافت کرنے اور ان کا تدارک سوچنے کا کام نصف صدی کی عمر کے امریکی جرنیل لنڈر LINDER صاحب کے حوالے کیا گیا ہے جو امریکہ کی سپیشل آپریشن فورس کے کمان دار ہیں اور آرمی گرینز کی بارہویں رجمٹ کےساتھ افریقہ کے دورے پر ہیں اور دہشت گردی کے اندیشوں کے ساتھ ان کے قلع قمع کے طریقے بھی تلاش کررہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’میرا کام افریقہ میں پائے جانے والے خطرات اور اندیشوں کا جائزہ لینے کے علاوہ ان سے محفوظ رہنے کے امکانات کی نشان دہی بھی ہے LINDER صاحب کا کہنا ہے کہ ’’میں افریقہ کا نقشہ کھول کے دیکھتا ہوں تو مجھے بے شمار انتہا پسند اور شدت پسند دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ ’’اسلامک مغرب‘‘ کی شکل میں القاعدہ دکھائی دیتی ہے جو لیبیا میں مصروف عمل ہے۔ صومالیہ میں ’’الشہاب‘‘ کی تنظیم دکھائی دیتی ہے۔ باقوحرام نائیجریا میں بھی انصار اور الشرعیہ کی تنظیمیں ہیں۔ تیونس، بن غازی اور دھرنا میں بھی اسے خطرات اور اندیشے نظر آتے ہیں۔ لنڈر صاحب نے اپنے تجزیے میں یہ نہیں بتایا یا بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ سب افغانستان اور عراق پر امریکی حملے سے پیدا ہونے والی ضمنی بیماریاں ہیں۔

’’کرسچین سائنس مانیٹر‘‘ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں کوئی ’’اسلامی خلافت‘‘ وجود میں آنے اور زندگی پانے کی کوشش میں کامیاب بھی ہو جائے۔ بلاشبہ یہ بہت مشکل کام ہے مگر امریکہ بہادر نے اپنی سیاسی غلطیوں اور عالمی سرمایہ داری نظام نے غربت افروزی کے ذریعے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔

کودا کوئی دیوار کو یوں دھم سے نہ ہوگا

جو کام ہوا ہم سے کبھی تم سے نہ ہوگا

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.