.

کیا ایران، عراق میں مداخلت کرے گا؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پیش آمدہ صورت حال نے دنیا بھر میں ہر جگہ سرسراہٹ پیدا کر دی ہے۔ یہ ہر کسی کے لیے انہونی بات تھی کہ عراق کی تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحے سے لیس فوج کے مقابل کوئی حریف کیونکر کھڑا ہو سکتا ہے؟ جب موصل میں نوری المالکی کی فوج محض چند گھنٹوں کے دوران پانی میں نمک کی طرح تحلیل ہو گئی تو کوئی سوچ نہیں سکتا تھا عراقی فوج کی کمان دوسرے شہروں میں کتنی کمزور ہو سکتی ہے۔ ان پے در پے واقعات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ اصل مسئلہ نوری المالکی کی قیادت کے ساتھ ہے۔ نوری المالکی ایک لاعلم اور آمرانہ انداز کے مالک وزیر اعظم ہیں۔ وہ انتظامی اعتبار سے ایک نابلد شخص ہیں۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے وزراء کو ان کے دائرہ اختیار سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ ان دنوں مالکی کا نیا قلمدان اپنے مخالفین پر حملے کرنا اور انہیں مشتعل کر کے اپنے خلاف سر گرم کرنا ہے۔

یہ طریقہ واردات کسی بڑی جنگ کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں پوری عراقی رجیم شکست و ریخت کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی لیے عراقی رجیم کے تحفظ کے لیے ایران کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ایران حقیقتا ایک محافظ ملک کے طور پر سوچ رہا ہے یا محض ایک لالچی ملک کے طور پر دنیا میں تیل کے اعتبار سے دوسرے امیر ترین ملک پر نظر ٹکائے ہوئے ہے؟

ہمیں اس تاثر کا یقین نہیں کرنا ہے کہ ایران نوری المالکی کی مدد صرف شیعہ تعلقات اور معاہدات کی وجہ سے کرے گا۔ ایران کا شیعہ آذربائیجان کے ساتھ کئی سال سے عدم اتفاق اور سنی ترکی سے ایران کے تعلقات کا ہونا اس کی محض شیعہ قربتوں چیز کی نفی کرتے ہیں۔

عراق کے ساتھ ایران کے تعلقات اس حقیقت سے ماوراء ہیں کہ وہاں کون مسند اقتدار پر متمکن ہے کیونکہ یہ دوطرفہ ہمسری کے تعلقات ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے 1950 کے معاہدہ بغداد کے تحت اتحاد پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے میں عراق اور ایران کے علاوہ پاکستان، ترکی اور برطانیہ بھی شامل تھے تاکہ کمیونزم کا مل کر مقابلہ کیا جائے۔

بعد ازاں ان کے درمیان عدم اتفاق ہو گیا اور شاہ ایران نے شط العرب کے تنازعے کے باعث عراق کو محکوم بنانے کی کوشش کی۔ آیت اللہ خمینی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد صدام دور کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات سخت خراب ہو گئے۔ جس نے خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی تھی۔

حتی کہ نوری المالکی کے دور میں بھی ایران نے اچھے تعلقات کے باوجود سرحدی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور عراق کے جنوب میں بڑی مقدار میں عراقی تیل لوٹ لیا۔ آج بھی کوئی چاہے تو ایرانی توپ خانے کی آوازیں سن سکتا ہے۔ ایران، عراقی کردستان میں کے پہاڑوں اس چیز کا بہانہ کر کے گولہ باری کرتا رہتا ہے کہ وہ ایرانی اپوزیشن میں شامل کردوں کو نشانہ بناتا ہے۔

حالیہ واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ یقینی ہے کہ ایران، عراقی رجیم کی مدد کرنے کے نام پر ضرور عراق میں مداخلت کرے گا لیکن اس مداخلت کا حجم اور دائرہ کیا ہو گا۔ نیز اصلا ایرانی نیت اور عزائم کیا ہوں گے۔ لیکن اس مداخلت کے باوجود یہ مشکل ہو گا کہ ہم ایران کے ٹینکوں کو بغداد کی گلیوں میں دندناتے ہوئے دیکھیں گے۔ الا یہ کہ عراقی ریاست کلی طور پر دھڑام سے نیچے آ رہی ہو کیونکہ یہ ملک تیل کی پیداوار کی وجہ سے صنعتی دنیا کے لیے حیات بخش حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے یہ آسان نہ ہو گا کہ زمینی حقائق کو تبدیل کیا جا سکے یا خطے کی سطح پر بڑی تعداد میں افواج استعمال کیے بغیر ایسا کچھ ممکن ہو۔

جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ ایران نے موصل پر قبضے کے پہلے دن سے ہی مالکی کی مدد کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔ اس کے جنگجو لڑائی میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے زیادہ سوال اور مفروضے سامنے آ گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ آیا ایران، عراق میں داخل ہونے اور آگے بڑھنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے؟

کیا ایران ایسے کسی اقدام کا معاشی بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے؟ کیا ایران، شام اور عراق کے دو الگ الگ محاذوں پر انسانی جانیں پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اس کا اولا انحصار اس بات پر ہے کہ عراق کے اندر جدوجہد کی پوزیشن کیا ہے؟ دوسری بات یہ اہم ہے کہ کیا ایرانی کمان کے ارادے کیا ہیں؟ کیا یہ ایرانی کمان سرحد کے ساتھ افراتفری دیکھتی کہ اسے ایک موقع بناتے ہوئے اپنے کنٹرول کو آس پاس تک وسعت دے جیسا کہ پاسداران انقلاب کی آرزو ہے۔ میری دانست میں ایرانی کمان عراق کے تمام فرقوں کے لوگوں کو انگیخت کر دے گی اور ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کو اپنے پرانے راستے پر آنا ہو گا۔

ہمیں ضرور یاد رکھنا ہو گا کہ جہاں تک عراق کے مستقبل کا تعلق ہے یہ پچھلے 22 برسوں سے مخدوش اور معطل چلا آ رہا ہے، بائیس سال پہلے جب عراق نے کویت کو شکست دی تھی اور اس کے بعد اس کی اپنی طاقت کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ایک مرتبہ پھر اس کا مستقبل مخدوش ہو گیا ہے۔ امریکا نے جاتے ہوئے حکمرانی ایک ایسے گروپ کے حوالے کر دی جس نے شکستہ سیاسی حالات کو سنبھالنے کے بجائے مزید خراب کر لیا لہذا آج افراتفری کا ماحول ہے۔

صورت حال غیر متوازن ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اونٹ آئندہ دنوں کس کروٹ بیٹھے گا۔ ہمیں آج ایک مرتبہ پھر عراق میں تاریخ کا ایک عارضی باب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایران کی طرف سے کسی بھی طرح کی مداخلت خواہ یہ مدد کے نام پر ہو یا قبضے کے لیے۔ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ یہ عدم استحکام خلیج عرب سے لیکر اسرائیل اور ترکی تک پھیل جائے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.