.

اسلام کےبارے میں بے بنیاد ’’سچائیاں‘‘۔

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ہرشخص کی کچھ سچائیاں ہوتی ہیں جو ضروری نہیں کہ صداقتیں بھی ہوں یہ سچائیاں مفروضوں اور مغالطوں کی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں جو ہمیں پڑھائی یا بتائی گئی ہوں یہ سچائیاں غلط فہمی اور خوش فہمی کی پیداوار بھی ہوسکتی ہیں۔ ان سچائیوں میں یہ سچائی بھی شامل ہے کہ مسلمان ممالک ’’سیکولر‘‘ نہیں ہوتے اور غیر مسلم اقلیت کو برداشت نہیں کرتے جب کہ صداقت یہ ہے کہ مسلمان آبادی والے ملکوں کی غالب اکثریت آج بھی ’’سیکولر‘‘ نظام کو اپنائے ہوئے ہے۔

دنیا کا سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک انڈونیشیا جہاں 25 کروڑ مسلمان (پاکستان سے کم از کم پانچ کروڑ زیادہ) آباد ہیں ’’سیکولر جمہوریت‘‘ کے نظام میں رہتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کی آبادی 88 فیصد، عیسائی آبادی 9 فیصد، ہندو آبادی تین فیصد اوربدھ آبادی دو فیصد ہے۔ انڈونیشیا کا قومی سلوگن ’’تنوع میں اتحاد‘‘ ہے۔

مسلمان آبادی کے بڑے ’’سیکولر‘‘ ملکوں میں انڈونیشیا کے بعد ترکی، مالی، شام، نائیجر اور قزاقستان کے نام آتے ہیں۔ اسلام کو اپنا ریاستی مذہب قرار دینے کے باوصف بنگلہ دیش کی حکومت قانون کے معاملے میں ’’سیکولر‘‘ ہے۔ ایسے کچھ اور مسلمان ممالک بھی ہیں۔ دنیا میں صرف چھ ممالک ایسے ہیں جن کا ریاستی مذہب اسلام ہے اور ان چھ ملکوں کی آبادی انڈونیشیا کی آبادی کے برابر ہے۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی غالب اکثریت سیکولرازم کو اپنانے والے ملکوں میں رہتی ہے۔

غلط فہمی سے جنم لینے والی ایک ’’سچائی‘‘ یہ بھی ہے کہ ’’تمام دہشت گرد مسلمان نہیں ہوتے مگر دہشت گردوں کی اکثریت مسلمان ہے‘‘۔ اگر ہم حکومت کی وضاحت کو تسلیم کر لیں کہ ہندوستان میں دہشت گرد کون ہوتا ہے تو مذکورہ بالا سچائی بالکل غلط ثابت ہوگی کیونکہ ہندوستان میں دہشت گردوں کی مجموعی تعداد میں مسلمان دہشت گردوں کا تناسب ایک تہائی سے بھی کم ہوگا۔ عالمی سطح پر سب سے زیادہ خود کش حملوں کی وارداتیں کرنے والی دہشت گرد تنظیم سری لنکا کی LTTE ہے جس کے ارکان ہندوئوں اور عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ کوئی ایک مسلمان بھی ان کے زیر اثر نہیں ہے۔

یہ ’’سچائی‘‘ بھی بے بنیاد ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ اور سرگرم دہشت گرد مسلمان ہیں جب کہ ’’سائوتھ ایشیا ٹیررازم پیٹرول‘‘ کے مطابق سال 2005ء اور 2014ء کے درمیان مسلمان دہشت گردوں کی خون ریز کارروائیوں سے دوگنی وارداتیں ہندوستان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیموں نے برپا کی ہیں جو غیر مسلم ہیں اور اس عرصے میں ULFA نام کی تنظیم کے ہاتھوں مارنے جانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس کے ارکان میں زیادہ تراونچی جاتی کے ہندوئوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

’’دہشت گردی‘‘ کی شدت کا اندازہ لگانے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ اگر ایک بم کے پھٹ جانے سے بیس لوگوں کے مارے جانے کو دہشت گردی سمجھتے ہیں تو 1984ء میں گجرات میں ہزاروں لوگوں کے قتل کئے جانے کو اور سال 2002ء میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو گجرات میں زندہ جلا دینے کی وارداتوں کو کیا نام دیں گے۔ اس کے علاوہ مظفر نگر میں 40 لوگوں کی زندگیاں تلف کرنے اور 68 لوگوں کو اوڑیسہ میں 2008ء میں قتل کر دینے کو دہشت گردی کیوں نہیں سمجھیں گے۔

یہ مفروضہ بھی غلط، گمراہ کن اور بے بنیاد ہے کہ مسلمان سارے بنیاد پرست ہوتے ہیں اور دیگر تمام لوگوں سے زیادہ شدت پسند مذہبی جذبات رکھتے ہیں۔ تازہ ترین تاریخ اس سچائی کو سب سے زیادہ بڑا جھوٹ قرار دیتی ہے۔ صداقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بنیاد پرستی کی عمر صرف چالیس سے ساٹھ سالوں کی ہے۔ انڈونیشیا مشرق وسطیٰ اور نارتھ امریکہ میں سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور سیاسی طاقت سیکولر بایاں بازو تھا اور وہ مختلف شکلوں میں، مثال کے طور پر انڈونیشیا کی کمیونسٹ پارٹی، جمال عبدالناصر کے حامیوں، مصر کی بعث پارٹی، شام اور عراق تک پھیلی ہوتی تھی، ایران کی محمدمصدق کی حکومت ان ملکوں میں خاص طور پر سعودی عرب جیسے ملکوں کو امریکہ دائیں بازو کے رجحانات کو سپانسر کرتاتھا کہ بائیں بازو کا مقابلہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل کا کردار بھی قابل توجہ ہے جو پی ایل او کے مقابلے میں حماس کو لے آیا تھا۔ سرمایہ داری نظام کے تحفظ کے لئے امریکی کوششوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہ اپنی انتہا کو 1980ء کی دہائی میں پہنچا جب افغانستان میں روسی فوجیں نازل کی گئیں اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام خطرے میں پڑ گیا اس زمانے میں امریکی ڈالروں کے بے دریغ خرچے سے ’’القاعدہ‘‘ وجود میں آئی۔ اس زمانے میں امریکہ بہادر کو پاکستان کے جنرل ضیاء الحق کی دوستی نصیب ہوئی جس نے اسلامائزیشن کے ذریعے حالیہ تاریخ میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ خوفناک دشمنی کا کردار اپنایا اورنام نہاد اسلامی دہشت گردی کی بنیاد رکھی۔ دیگرمفروضاتی غلط العام سچائیوں کا ذکر آئندہ کالموں میں آئے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.