.

مودی کی زیتونی شاخ اور مسلمان

ڈاکٹر سید ظفر محمود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پارلیمنٹ کے مجموعی اجلاس میں صدر جمہوریہ کے خطاب سے متعلق ایوان میں بحث کے اختتام پر وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ تسلیم کر لیا کہ ملک میں مسلمان دیگر لوگوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایسے مسلم خاندانوں سے واقف ہیں جو تین پشتوں سے سائیکل کی مرمت ہی کرتے آرہے ہیں اور انھوں نے مسلمانوں کی ایسی ناگفتہ بہ حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان حالات میں سدھار کیلئے ہمیں مرکوز کاروائی کرنی پڑے گی اور مخصوص اسکیموں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ مودی صاحب نے اپنی تبدیل شدہ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کی حیثیت سے کہا کہ میں (مسلمانوں کی فلاح کیلئے بنائی گئی) ان مخصوص اسکیموں کو مسلمانوں کی ناز برداری نہیں مانتا ہوں بلکہ میں ان اسکیموں کو مسلمانوں کی زندگی میں بدلائو کے طور پر دیکھتا ہوں۔ انھوں نے مذید کہا کہ ’’جسم کے کسی بھی حصہ میں نقص ہو یا وہ کمزور ہو تو پورا جسم کمزور رہے گا، جسم کے سبھی حصے برابر مضبوط ہوں گے تبھی پورا جسم طاقتور رہ سکتا ہے، اسی بنیادی جذبہ سے ترغیب لے کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہو اور ہم یہ کام کرنے کے پابند ہیں۔‘‘

الیکشن کی تقاریر کے دوران مودی صاحب کا مختلف اوتار تھا جب وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے انکے قول و فعل سے ملک کو کئی دفعہ قلب خراشی محسوس ہوئی۔ لیکن فی الوقت ملک بردباری کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعظم کے بظاہر جذبہ صلح کی حسن افروز پیشکش کو مخلصانہ مان لیا جائے اور انھیں معقول موقع دیا جائے کہ وہ اپنے ابتدائی وعدے کو حقیقی عمل آوری میں تبدیل کریں کیونکہ اگر ہم نے سخت رخ اپنایا اور جائز طور پر ہی سہی لیکن ہم روٹھے رہے تو خدانخواستہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے جیسے کہ ء1947-1950ء کے دوران آئین ہند کی تدوین و ترتیب کی ذمہ دار قومی قانون ساز اسمبلی اس وقت کے مسلمانوں کو مدعو کرتی رہی لیکن زیادہ تر افراد اس میں شامل نہیں ہوئے ، جس کا خمیازہ ملک کو اب تک بھگتنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم حکومت وقت کے مخصوص مزاج اور اسکی نشونما پر عقابی نظر رکھیں کہ کس حد تک وہ اپنے کو سنگھ پریوار کی زیر سطح روش سے اثر انداز ہونے دیتی ہے۔ لوک سبھا الیکشن 2014ء کیلئے بی جے پی کے منشور میں درج ہے کہ وہ ملک میں ایسی پرامن اور محٖفوظ آب و ہوا پیدا کرے گی، جس میں خوف پیدا کرنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ اس وعدے کے پیش نظر غور طلب ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد 3-4 ہفتوں میں ہی پونے کے تکنیکی ایکسپرٹ مشتاق شیخ کا قتل مبینہ طور پر ہندو راشٹر سینا نے کردیا اور یو پی میں لوک سبھا کے شکست یافتہ امیدوار نریش ٹکیت نے تنبیہ کردی ہے کہ ’’مظفر نگر تو صرف نمونہ تھا ہم تمھیں (غالباً مسلمانوں کی طرح اشارہ ہے) ملک سے باہر بھی نکال پھینک سکتے ہیں‘‘ ۔ لیکن مرکزی حکومت نے اب تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا ، جس سے لگے کہ وہ منشور میں کئے گئے اپنے وعدے پر عمل کر رہے ہوں۔

اس سیاسی و سرکاری بے عملی کی گرفت کرنے کے ساتھ ایک اعلیٰ اقدار والی اقلیت کے طور پر ہمیں اپنی استعداد کا مظاہرہ کرنے ہوگا کہ ہم اپنے جذبہ موحدانہ اور منفرد مزاج وطن کا عادلانہ امتزاج اور قومی اتحاد و تفرق کے مابین باہمی اثر و نفوذ قائم کرسکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں تحقیق کرنی ہوگی کہ وقت کی نزاکت ہمیں بین ثقافتی سمجھ بوجھ اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا کیسا عجیب و غریب موقع فراہم کر رہی ہے اور اس مقصد سے کیا وہاں دیانت، گفت وشنید ، حصہ داری اور استغراق کی گنجائش ہے؟ پچھلے برس میں نے فرانس میں منعقد 6 براعظموں پر مشتمل 20 ایسے ممالک کے کنونشن میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی جہاں مسلمان غالب اقلیت ہیں۔ کننونشن میں اتفاق رائے سے کہا گیا تھا کہ کرہ ارض پر بدلی ہوئی موجودہ صورتحال ملت اسلامیہ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ دنیا میں مشترک زندگی گزارنے کے باہمی ارتکاب کا اقرار کرے کیونکہ ہم قرآنی ہدایت (55.10) : (مفہوم) زمین کو پروردگار نے سب مخلوقات کیلئے بنایا ہے ۔

اب جبکہ مودی صاحب کے پاس ملک کی کمان ہے اور وہ پارلیمنٹ کے فرش پر اپنے عہد کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے پچھڑے پن کو دور کرنے کیلئے مخصوص اقدام کریں گے تو ملک کو انھیں آگاہ کردینا چاہیے کہ اصل میں مندرجہ ذیل کام ہونے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کو ملک میں انکے حقوق واپس ملیں اور انھیں ان کا وقار لوٹایا جاسکے۔ :

(i) جسٹس سچر کمیٹی کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو نیا حدبندی کمیشن فوراً تشکیل دینا چاہیے، اس ہدایت کے ساتھ کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے جن انتخابی حلقوں میں مسلمان بہت زیادہ ہیں اور وہاں شیڈیولڈ کاسٹ کے لوگ بہت کم ہیں، انھیں ریزرویشن سے آزاد کیا جائے اور انکے بجائے ان حلقوں کو ریزرو کیا جائے جہاں شیڈیولڈ کاسٹ بہت زیادہ ہیں اور مسلمان بہت کم ہیں۔

(ii) سپریم کورٹ میں 4-5 برس سے زیر التوا مقدموں میں جن میں عیسائیوں اور مسلمانوں نے 1950ء کے صدارتی حکم نامہ میں سے پیراگراف 3 (شیڈیولڈ کاسٹ کی تعریف میں مذہب کی قید) کو حذف کرنے کا دعوہ پیش کیا ہے، ان مقدموں میں وزارت قانون کو اپنا بیان حلفی بغیر مذید تاخیر کے دائر کردینا چاہیے۔

(iii) انڈین وقف سروس قائم کی جانے چاہیے، ٹھیک اسی طرح جیسے متعدد ریاستوں میں ہندو مندروں اور پرتشٹھانوں کے انتظام و انصرام کے لیے ریاستوں کے قوانین کی رو سے ہندو سینئر عہدہ داران کو حکومت بھرتی کرتی ہے۔

(iv) وزارت فروغ انسانی وسائل کو سچر کمیٹی کی سفارش (Statement12.1) کا نفاذ کرنا چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ کیلئے متبادل طریقہ کار بنایا جائے، جس میں ذاتی قابلیت کی اہمیت %60 اور امیدوار کے پچھڑے پن کی اہمیت %40 مانی جائے ۔

(v) وزارت داخلہ کے احکامات کے تحت دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ افراد کے مقدموں کے تصفیہ کے لیے میعاد بندفاسٹ ٹریک کورٹ تشکیل دی جائیں اور دہشت گردی کے الزامات سے عدالتوں کے ذریعہ بری ہوجانے والے ہر شخص کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ بطور حرجانہ ادا کیا جائے۔

(vi) وزارت داخلہ کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں’’نشانہ پرلے کر فرقہ وارانہ تشدد کیے جانے کی روک تھام کا بل ‘‘ پاس کروائے ۔

(vii) وزارت خزانہ کو چاہیے کہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے پروگرام اور دیگر اقتصادی مواقع میں مسلمانوں کیلئے قومی بجٹ می خصوصی کمپوننٹ مختص کرے۔

(viii) پلاننگ کمیشن کو چاہیے کہ اقلیتوں کی ترقی کے نظریہ سے بنائی جانے والی انفراسٹرکچر اسکیموں کو تشکیل دینے اور انکے نفاذ کیلئے ، ضلع یا بلاک کے بجائے ، دیہی علاقوں میں گاؤں اور شہری علاقوں میں وارڈ کو اکائی بنائے۔

(ix) وزارت برائے پرسنل اور وزارت داخلہ کو چاہیے کہ 1400 اضافی آئی پی ایس افسروں کی خصوصی تقرری کے لیے محدود مسابقتی امتحان کی پالیسی کو ختم کرے ، کیونکہ اس طریقہ سے مسلمانوں کی راہ مسدود ہوتی ہے۔

(x) جے پی سی اور سچر کمیٹی کی سفارشوں کی بنا پر وزارت اقلیتی امور کو چاہیے کہ وقت رولس میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کرے : اور ، سنٹرل وقف کاؤنسل کا اکریٹری حکومت ہند میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے سے کم کا نہیں ہوسکتا، دوئم ہوئی بھی وقف جائداد کرایہ کے رواں بازاری ریٹ سم کم پرلیز پر نہیں دی جائے، اور سوئم ، کوئی بھی لیز آرڈر جاری کرنے سے پہلے صوبائی حکومت کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

(xi) وزیر اعظم کے دفتر کو یقینی بنانا چاہئے کہ جو وقف جائئیدادیں سرکاری قبضہ میں ہیں انہیں خالی کر کے وقف بورڈ کو سونپ دیا جائے۔

(xii) وزارت فروغ انسانی وسائل کو چاہیے کہ رواں مدرسہ اسکیم (SPQEM) کا اردو و دیگر زبانوں میں ترجمہ کروا کے ملک کے مدارس میں تقسیم کرے، اس کام کے لیے ہر سال ملنے والی پچس لاکھ روپے کی گرانٹ اس کام میں استعمال نہیں ہورہی ہے۔ مدارس کی ڈگریوں اور سرٹیفیکٹ کو اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ڈگریوں و سرٹیفکیٹ کے مساوی تسلیم کرنے کیلئے NIOS و UGC کے ذریعہ میکانزم تیار کیا جائے۔

(xiii) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار بحال کیا جائے۔ (xiv) وزارت خزانہ کو چاہیے کہ بینکنگ سیکٹر میں غیر سودی مالیات کے متبادل کی اجازت دے ۔

(xv) وزارت فروغ انسانی وسائل کو چاہیے کہ مرکزی اردو ٹیچر اسکیم کا صوبوں میں نفاذ کروائے۔

(xvi) وزیر اعظم کے دفتر کو چاہیے کہ مساوی مواقع کمیشن قائم کرے۔ وزیر اعظم کے دفتر کو چاہیے کہ تنوع پر مبنی مراعات کی اسکیمیں بنانے کا حکم دے۔ اس تمام کاروائی پر نظر رکھنے کیلئے وزیر اعظم کو چاہیے کہ ایک مستقل مشاورتی کمیٹی کی تشکیل کریں جیسا کہ بی جے پی کے منشور میں بھی لکھا ہے کہ ملک میں تناسب اور اعتماد قائم رکھنے کیلئے وہ بین المذاہب میکانزم قائم کرے گی۔

"کالم نگار کی رائے العربیہ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں"

بشکریہ روزنامہ 'راشٹیہ سہارا" دہلی

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.