.

چینی وزیر خارجہ کا دورئہ بھارت

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سطح پر کھینچاتانی ہو رہی ہے، نئے سیاسی و فوجی اتحاد معرضِ وجود میں آرہے ہیں۔ امریکہ یوریشیا کو چھوڑ کر بحرہند اور جنوبی چین کے سمندر میں پنجہ آزمائی کے لئے اپنے آپ کو تیار کررہا ہے۔ نریندر مودی کے بھارت کے وزیراعظم بننے کے بعد، جن کے وزیراعظم بننے میں امریکی تزویری ہدایت شامل ہیں، اِس کھینچاتانی میں تیزی آئی ہے۔ پچھلے تین مہینوں میں اس قدر کہ جس سے خوف آتا ہے کہ کوئی بڑی محاذ آرائی کے لئے صف بندی ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں چین کے وزیر خارجہ ونگ ای نے 8 اور 9 جون 2014ء کو بھارت کا دورہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترک باتیں اور مقابلے کے بجائے تعاون کے زیادہ امکانات ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ساتویں صدی کے چینی سیاح اور بدھ رہنما زوا چھانگ (Zuau Zhang) کے دورئہ گجرات کا ذکر کر کے تبت کے مسئلے کو اٹھایا اور دونوں رہنمائوں نے زوا چھانگ کے نام پر ثقافتی وفود تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔ چینی وزیر خارجہ ونگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھیں گے۔

بھارت جب مشرق کی طرف دیکھنے کی پالیسی اپنا رہا ہے تو چین مغرب کی سمت رجوع کررہا ہے تاہم چین اور بھارت کے سرحدی علاقے کے لوگوں کو ویزا دینے کی پالیسی ترک کرنے کے ارادہ کا اظہار نہیں کیا اس لئے کہ مقامی لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے اور وہاں کوئی سرحدی تنازع بھی نہیں ہے اور بہت سے علاقے پر سرحد بندی بھی نہیں ہوئی ہے اس لئے جب تک سرحدوں کی حد بندی نہیں ہوتی یہ صحیح طریقہ ہے اور ویزا دینے کا معاملہ سرحدوں پر گفتگو کاری کو متاثر نہیں کرے گا۔ مداخلت کے معاملہ میں چینی وزیر خارجہ نے میڈیا کو دشنام دیا کہ وہ اچھی اور چونکا دینے والی خبر کی تلاش میں رہتے ہیں اس لئے وہ اس کو اچھالتے ہیں ورنہ چین کی طرف سے مداخلت نہیں ہو رہی ہے اور صدیوں سے معاملات ایسے ہی چل رہے تھے، اب اِس معاملے کو میڈیا نے اٹھا کر طوفان کھڑا کردیا ہے۔ تجارتی توازن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارت سے زیادہ درآمدات کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح تجارتی توازن جو اِس وقت چین کے حق میں ہے وہ متوازن ہو جائے گا۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں کہ ڈیڑھ لاکھ چینیوں نے بھارت کا دورہ کیا، چینی سیاحت کے دلدادہ ہیں اور بھارت سیاحت کے حوالے سے ایک اچھا ملک ہے۔ چینی وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے بھی تیار ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے بلٹ ٹرین وہ بھی 320 KM فی گھنٹہ کی رفتار اور ایسی کہ پانی کا گلاس اپنی جگہ پر جما رکھا رہے اور نہ گرے، تعمیر کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہائی اسپیڈ ٹرین نظام کو تعمیر کے لئے دستیاب ہیں اور ایکسپریس وے بنانے میں بھی چین کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور بھارت کی معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کی اہل ہیں۔

اس کے علاوہ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین ہیکل اساسی بنانے میں بھی اپنا مقام رکھتا ہے، انڈیا اور چین تعاون کرے اور اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو دُنیا بھر کی معیشت پر حاوی ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی نے اُن کے دورے کے دوران بہت احتجاج کیا،دہلی کے قریب ایک علاقہ جو یوپی میں ہے وہ میڈیا سٹی بھی کہلاتا ہے پرتشدد احتجاج میں ایک شخص پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا مگر بھارتی پولیس نے معاملے کو بڑھنے نہیں دیا۔ چین کی خواہش ہے جیسا کہ چین نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اپنا پہلا دورہ چین کا کریں اسی طرح وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے نئے وزیراعظم نریندر مودی بھی اپنا پہلا غیرملکی دورہ چین کا کریں تاہم لگتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھوٹان اور جاپان کے دورے کے بعد جولائی میں برکس (Brics) کے اجلاس کے موقع پر برازیل میں چینی وزیراعظم سے ملیں گے۔ چین بھارت کو رام کرنے کے لئے کئی طریقے استعمال کررہا ہے، 28 جون کو نہرو اور چواین لائی پنج شیلا جو 1954ء میں ایک کانفرنس کے دوران طے ہوئے تھے اور اس واقعہ کو بیتے اب 60 سال ہو گئے اُس کی یاد منانے کے لئے چین انتہائی پرجوش دکھائی دے رہا ہے اور بھارت کے لوگ سوچ رہے ہیں کہ اُن کے لئے امریکہ اچھا ہے یا چین۔ ایک طرف ترقی ہے اور امن ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ نتھی ہونے سے محاذ آرائی ہے اور تباہی مگر شاید بھارت کو مہا بھارت کی خواہش عقل پر حاوی ہوگی اور وہ امریکہ کے ساتھ ہی اپنا خونی سفر جاری رکھیں گے۔ اس پر راشٹریہ سیوک سنگھ کے ترجمان اور مقبول لیڈر رام منڈے کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی آمد کا بہت ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے مگر نواز شریف کی حیثیت ثانوی ہے کیونکہ وہاں سیکورٹی ادارے مضبوط ہیں، اس کے باوجود بھی دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان مفادات کا ٹکرائو اور دونوں میں دوری ہے۔

چین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ دونوں ممالک بھارت کے لئے دردسر ہیں۔ پاکستان کو انہوں نے ناکام ریاست قرار دے کر اہمیت ہی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ من موہن سنگھ نے ناکام ہونے میں دس سال لگائے نواز شریف یہ سفر ناکامی دو سال میں پورا کرلیں گے۔ میرے خیال میں رام منڈے کی خام خیالی ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ ہرات میں بھارت کے قونصل خانے پر حملہ عین اس دن ہوا جب نریندر مودی کو حلف اٹھانا تھا، دراصل بھارت کے بجائے میاں نواز شریف کو پیغام تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے خارجہ پالیسی کا چیلنج پاکستان سے نہیں چین سے ہے۔ اُن کا فرمانا تھا کہ چین کے بارے میں بھارتی بھول جاتے ہیں کہ کئی ادوار گزر گئے نہرو سے نکسن مگر چین کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی اب اس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ مودی کے دورِ حکومت میں چین اور بھارت کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے قائم ہوں گے۔ ہمارے نزدیک بھارت کا ذہن طے شدہ ہے وہ ایک ہزار سال تک غلام رہے ہیں، وہ دنیا میں اپنا سکّہ جمانے کے لئے تیاری کر رہے ہیں اس لئے وہ امریکہ کے ساتھ جڑے۔ اس نے بھارت کو سول ایٹمی ٹیکنالوجی دے کر ایک طرح سے اُس کو ایٹمی حیثیت عطا کی۔ اُس کو بھی وہ چین سے تعلقات کے حوالے سے پیش نظر رکھیں گے۔ تعجب ہوگا کہ وہ امریکہ کے بجائے چین سے راہ و رسم بڑھائیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ دونوں ممالک سے ہی اچھے تعلقات رکھیں۔ ایسا کرنے کا اُن کے پاس خوب تجربہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.