.

ازبک عسکریت پسند اور پاکستان

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

8 جون کو کراچی ائیر پورٹ کے اولڈ ٹرمینل پر حملے کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ شمالی وزیرستان میں فوری آپریشن کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے قبول کی۔ عام خیال یہ ہے کہ دونوں کے مراکز شمالی وزیرستان میں ہیں لہٰذا شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ناگزیر تھا۔ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے اس سے قبل 2012ء میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے پشاور ایئرپورٹ پر حملے میں بھی حصہ لیا تھا۔ آئی ایم یو کو حرکت اسلامی ازبکستان بھی کہا جاتا ہے اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف اسکی جنگ 2002ء سے جاری ہے۔ ازبک عسکریت پسندوں کیخلاف پہلا باقاعدہ آپریشن 25 جون 2002ء کو جنوبی وزیرستان میں اعظم ورسک کے قریب کازاپنگا کے علاقے میں ہوا تھا۔

اس آپریشن میں پاکستان آرمی کی 23 بلوچ اور ٹوچی سکائوٹس نے حصہ لیا تھا۔ اس آپریشن میں پاکستان کی مدد کیلئے مبینہ طور پر امریکی سی آئی اے کے تین اہلکار بھی موجود تھے اور ان تین اہلکاروں کی حفاظت کیلئے ایس ایس جی کے دس جوان بھی کازا پنگا کے علاقے میں پہنچائے گئے۔ مبینہ طور پر سی آئی اے کے یہ اہلکار سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعہ پاکستانی فوج کی خاطر خواہ مدد نہ کر سکے۔ فوج کی ایک کمپنی اور ٹوچی سکائوٹس کے 35 جوان ازبک عسکریت پسندوں کی اصل تعداد سے بے خبر تھے۔ اس آپریشن میں پاکستانی فوج کے دو افسروں سمیت 12 جوان شہید ہوئے۔ دو ازبک مارے گئے ایک گرفتار ہوا باقی فرار ہو گئے۔ جنوری 2004ء میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شین وارسک میں ازبک عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا سرچ آپریشن کیا گیا لیکن ناقص معلومات کی وجہ سے بڑی کامیابی نہ ملی۔ اس دوران کلوشہ کے علاقے میں ازبک عسکریت پسندوں نے ایف سی کے جوانوں کو اغوا کر لیا۔

اس واقعے کے بعد کلوشہ میں ازبکوں اور انکے حامی مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن ہوا جس میں پاکستان آرمی کے 22 پنجاب کا اہم کردار تھا۔ اس آپریشن کے بعد 27 مارچ 2004ء کو مقامی عسکریت پسندوں کے کمانڈر نیک محمد اور پاکستان آرمی کے درمیان امن معاہدہ ہو گیا جس میں طے پایا کہ غیر ملکی عسکریت پسند ایک ماہ کے اندر اندر ہتھیار ڈال دیں گے یا علاقہ چھوڑ دینگے ۔ ایک ماہ گزرنے کے باوجود ازبک عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد جنوبی وزیرستان میں موجود رہی۔ 18 جون 2004ء کو نیک محمد امریکہ کے پہلے ڈرون حملے کا نشانہ بن گیا جسکے بعد عسکریت پسندوں اور پاکستان آرمی کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ فروری 2005ء میں بیت اللہ محسود کے ساتھ امن معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ غیر ملکی عسکریت پسند پر امن طریقے سے رہیں گے اور اپنی رجسٹریشن کرائینگے لیکن اس معاہدے پر بھی عملدر آمد نہ ہوا ۔

یہ پہلو بہت اہم ہے کہ ابتداء میں اسلامک موومنٹ ازبکستان کے عسکریت پسندوں نے جنوبی وزیرستان کے ان علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے جو پاک افغان سرحد کے پاس تھے۔ یہ وزیر قبائل کے علاقے تھے جب ازبک عسکریت پسندوں نے ان علاقوں میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیئے تو وزیر قبائل نے انہیں علاقہ چھوڑنے کیلئے کہا جس کے بعد ازبکوں نے محسود قبائل کے علاقوں میں پناہ حاصل کی اور شمالی وزیرستان میں منتقل ہونے لگے۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلامک موومنٹ آف ازبکستان میں بھی اختلافات پیدا ہوئے۔ ازبک عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کا خیال تھا کہ پاکستان کے اندر کارروائیوں کی بجائے آئی ایم یو کو افغانستان میں کارروائیوں پر توجہ دینی چاہئے اور شمالی افغانستان کے علاقوں مزار شریف اور قندوز کو اپنا مرکز بنا کر ازبکستان میں مسلح مزاحمت کو تیز کرنا چاہئے۔ اس موقف کے حامی گروپ کی قیادت نجم الدین جلالوف کر رہا تھا جو ابو یحییٰ محمد فاتح کے نام سے مشہور تھا۔

آئی ایم یو کے سربراہ طاہر یلدا شوف کا خیال تھا کہ شمالی افغانستان میں قدم جمانا مشکل ہے فی الحال پاکستان کے قبائلی علاقے محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ جلالوف نے آئی ایم یو سے علیحدگی اختیار کر لی اور اسلامک جہاد یونین کے نام سے علیحدہ گروپ بنا لیا۔ اس گروپ نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر افغانستان میں کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ آئی ایم یو نے بیت اللہ محسود کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھیں۔ جلانوف کے گروپ میں بہت سے ترک، قازق، آذربائیجان اور کرد نوجوان بھی شامل ہوگئے جبکہ آئی ایم یو نے افغان ازبکوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کر دیا جو پاکستان میں مہاجر بن کر زندگی گزار رہے تھے۔ 2006ء میں جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا۔ ان دونوں نے اپنے اپنے علاقوں سے آئی ایم یو کے عسکریت پسندوں کو نکال دیا۔ 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے بعد تحریک طالبان پاکستان معرض وجود میں آئی تو اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے پاکستانی طالبان کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ آئی ایم یو کی چھتری تلے چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کے عسکریت پسندوں کی تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ نے بھی پناہ حاصل کرلی۔

آئی ایم یو کی پاکستان میں سرگرمیاں پاک چین تعلقات کیلئے بھی مشکلات پیدا کر رہی تھیں دوسری طرف امریکی فوج 2014ء کے آخر تک افغانستان سے واپسی کا اعلان کر چکی تھی اور تیسری طرف بھارت میں نریندر مودی وزیر اعظم بن چکے ہیں جو افغانستان میں ہر قیمت پر بھارتی اثر و رسوخ میں اضافے کے حامی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ شمالی وزیرستان کو غیر ملکی عسکریت پسندوں سے پاک کرنا بہت ضروری ہے یہ یقینی نہیں کہ شمالی وزیرستان میں حکومت کی رٹ قائم ہونے کے بعد تحریک طالبان پاکستان اور آئی ایم یو ختم ہو جائے گی لیکن یہ طے ہے کہ شمالی وزیرستان سے منسلک پاک افغان سرحد پر کنٹرول مضبوط بنا کر نہ صرف پاکستان میں مداخلت کرنے والوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے بلکہ افغان حکومت کے کئی تحفظات بھی دور کئے جا سکتے ہیں لیکن اس کیلئے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں میں اعتماد کی فضا قائم کرنا بہت ضروری ہے۔

افغان حکومت بدستور یہ الزام لگا رہی ہے کہ کابل سے ہرات تک اکثر حملوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے جبکہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو افغان صوبے کنڑ میں افغان انٹیلی جنس نےپناہ دے رکھی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ڈرون طیاروں نے افغانستان میں ملا فضل اللہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ملا فضل اللہ کی سرگرمیوں کا مرکز شمالی وزیرستان نہیں بلکہ سوات، باجوڑ، مہمند، پشاور اور کراچی ہے۔ 2007ء میں سوات میں شروع ہونے والے آپریشن ’’راہ حق‘‘ اور 2009ء کے آپریشن ’’راہ راست‘‘ میں ملا فضل اللہ بچ نکلے تھے ۔ آپریشن ضرب ’’عضب‘‘ کے دوران وہ شمالی وزیرستان میں موجود نہیں ۔ ان کے ساتھی افغانستان کے صوبے خوست اور پکتیا میں شمالی وزیرستان سے جانے والے پناہ گزینوں کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں۔ شمالی وزیرستان سے پاکستان کے مختلف علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ گرمی کا موسم ہے اور رمضان المبارک شروع ہونیوالا ہے ۔ شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کے مسائل ہم سب کی توجہ مانگ رہے ہیں۔ ان مسائل کی اصل وجہ کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کرنے والے قرار دیئے جا سکتے ہیں لیکن مسائل کا حل پوری پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے۔ مت بھولئے کہ 2009ء میں سوات آپریشن کے دوران لاکھوں افراد نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا لیکن میڈیا نے انکے مسائل پوری قوم تک پہنچائے اور ساری قوم نے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کی۔ شمالی وزیرستان کے متاثرین کو گرمی، بھوک اور بیماری سے بچانے کیلئے میڈیا کو پھر اہم کردار ادا کرنا ہے تاکہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کے مسائل کسی بڑے انسانی المیے کا باعث نہ بنیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.