.

بھارت کا ہائیڈروجن بم اور خطے کے ممالک

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ میں قائم ’’ایٹمی عدم پھیلاؤ پالیسی تعلیمی مرکز‘‘ نے 9 جون 2011ء میں دنیا میں چلنے والے ایٹمی پروگراموں کے بارے میں رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ کا عنوان ’’اکیسیویں صدی میں جوہری ہتھیاروں کا استقلال یا طوائف الملوکی: چین، بھارت اور پاکستان‘‘ تھا۔ رپورٹ تھامس ڈبلیو گراہم نے مرتب کی۔ اس رپورٹ میں جوہری ہتھیاروں کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے طویل تفصیلات درج ہیں لیکن اس مضمون کے حوالے سے چند تفصیلات پیش کرنے پر اکتفا کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس دور میں تقریباً دنیا کے پچیس ممالک ایسے ہیں جن کے جوہری پروگرام کو سٹیج 1 سے سٹیج 10 تک مانا جا سکتا ہے۔ ان ممالک کو مزید پانچ گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا گروپ وہ ہے جو کہ اپنے جوہری پروگراموں کو محدود کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس گروپ میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ ممالک اپنی جوہری طاقت کو کم کرنے کی سر توڑ کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں لیکن اس کوشش کے باوجود ان ممالک میں جوہری طاقت یعنی جوہری ہتھیاروں کی اہمیت کو بدستور تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اس قسم کی پالیسی کو اپنانے کے باوجود عملی طور پر جوہری طاقت کو کم کرنے کے اقدامات محدود نظر آتے ہیں۔ دوسرا گروپ وہ ہے جو کہ اپنی جوہری طاقت کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں چار ممالک یعنی روس، پاکستان، کوریا اور ایران شامل ہیں۔ یہ ممالک جوہری ہتھیاروں کو اپنی بنیادی طاقت کے طور پر اپنانے کی کوشش میں ہیں۔ خاص طور پر روس اور پاکستان تو صرف جوہری ہتھیاروں کو ہی اپنی فوجی طاقت کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان کی فوجی حکمت عملی کی بھی یہی بنیاد ہے۔ ایران اور کوریا بھی بدستور ایسی پالیسی اپنانے کی کوشش میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں ممالک نے یہ حکمت عملی اس لیے اپنائی ہے کہ انہیں اپنی سکیورٹی کے حوالے سے امریکہ سے خطرہ ہے۔

تیسرے گروپ میں تین ممالک شامل ہیں۔ یعنی چین، اسرائیل اور بھارت۔ یہ تینوں ممالک محدود طریقے سے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کی فکر میں ہیں اور یہ دنیا کے دوسرے ممالک کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو کس طریقے سے آگے بڑھاتے ہیں تا کہ وہ بھی اسی انداز میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے لے جائیں۔ چوتھا گروپ ان ممالک سے متعلق ہے جو کہ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اندرونی خلفشار کو روکنے اور اپنے آپ کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کا ذریعہ جوہری ہتھیاروں کو سمجھتے ہیں۔ ان میں برما، شمالی کوریا اور شام شامل ہیں۔ پانچویں گروپ میں ایران اور شمالی کوریا کو شامل کیا گیا ہے جن کے جوہری پروگرام مسلسل طاقت پکڑ رہے ہیں اور گمان ہے کہ ان کے ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے بعد یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے جو کہ نہ صرف خطرناک ہو گی بلکہ پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔

اس رپورٹ کے مطالعہ اور تجزیہ کے بعد اندازہ ہو تا ہے کہ اس کے مندرجات خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے حوالے سے ایک خاص نظریے کے تابع ہیں۔ اس میں پاکستان کو ایسا جوہری ہتھیاروں سے متعلق ملک گردانا گیا ہے جو کہ مسلسل اس طاقت میں اضافے کا خواہاں ہے جو کہ حقیقت سے بعید ہے۔ اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو اس گروپ میں دوسرے ممالک بھی ایسے ہیں جنہیں ایک خاص نظریے کے تابع اس میں شامل کیا گیا ہے۔ ورنہ پاکستان کی جوہری پالیسی بڑی واضح ہے۔ پاکستان نے یہ صلاحیت صرف اور صرف دفاعی نظریہ کے تحت حاصل کی ہے اور اس کا معیار صرف دفاعی ضرورت کی حد تک رکھا گیا ہے۔

دوسرا مقصد اس کا استعمال پر امن مقاصد کے لیے ہے جس کے تحت ہر قسم کی سہولتیں بین الاقوامی اداروں کے سامنے واضح ہیں۔ پاکستان نے کبھی بھی جوہری توانائی کے حصول کے بعد کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم کا اظہار نہیں کیا بلکہ خطے میں تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کار کو ترجیح دی ہے۔ ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت اور مکمل کنٹرول کے لیے ایسا نظام وضع کیا ہے جسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بھارت کے بارے میں مثبت ریمارکس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی اور نظریہ کار فرما ہے۔ بھارت نے ایک نہیں دو دفعہ ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان نے دوسری دفعہ جوابی طور پر دھماکے کیے اور اس کا ایٹمی پروگرام بڑے واضح طور پر فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

بھارت نے آج تک بین الاقوامی ضابطوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اپنے جوہری مراکز کے معائنہ سے انکار کیا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ نے بھارت کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی اجازت دی ہے جو کہ کسی طرح سے بین الاقوامی ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی جمعہ کو شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اپنے میسور کے ایٹمی پلانٹ کو توسیع دے رہا ہے اور ان مقاصد کے حصول کے بعد بھارت یورینیم کے اس معیار سے افزودہ کرنے کے قابل ہو جائے گا کہ اس سے ’’تھرمو نیو کلیئر ہتھیار‘‘ بنائے جا سکیں۔ عام فہم زبان میں تھرمو نیوکلیئر ہتھیار ہائیڈروجن بم ہیں جو کہ ایٹم کے پھٹنے سے حاصل ہونے والی حرارت سے پھٹتے ہیں اور ایسی تباہی پھیلاتے ہیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت 2015ء تک یہ صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بن جائے گا۔ اس سے بھارت ہر سال 160 کلو گرام یورینیم افزودہ کرنے کے قابل ہو جائے گا جو کہ 90 فیصد کی حد تک خاص افزودہ ہو گی۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے کو میسور کے بھارتی پلانٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے اور اس ادارے نے اس رپورٹ کے بارے میں ابھی اتک اپنا کوئی ردعمل بھی نہیں دیا۔

اس تازہ ترین رپورٹ نے جوہری توانائی سے متعلق ماہرین اور اداروں میں کھلبلی مچا دی ہے اور بہت سی انگلیاں بھارت پر اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر بھارت کی طرف سے مستقل طور پر دی جانے والی تسلیاں کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اس رپورٹ کے بعد سخت مشکوک ہو گیا ہے۔ بھارت کے اس عمل کے بعد خطے کے ممالک خاص طور پر چین اور پاکستان میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور قیاس آرائیاں ہیں کہ اس سے خطے میں جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ بھارت کے اس عمل کو بطور خاص منفی انداز میں دیکھا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو بین الاقوامی طو رپر وہ جوہری قوانین کو تسلیم نہیں کر رہا دوسری طرف اسے دنیا کے بڑے ممالک سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں اور ان تمام اقدامات کے باوجود بھارت اپنے خطرناک جنگی جوہری پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے۔

2011ء کی جس رپورٹ کا اوپر کے پیرائے میں ذکر کیا گیا ہے وہ بھی بھارت کے جوہری پروگرام کے بارے میں حقیقت حال آشکارا کرنے سے قاصر ہے۔ ان تمام حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے میں بعض طاقتیں بھارت کی اس ضمن میں بے جا سرپرستی کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے جنگی عزائم کو بڑھ چڑھ کر آگے بڑھا رہا ہے اور اس پر بین الاقوامی ادارے اور بڑے ممالک کوئی قدغن لگانے پر آمادہ نظر نہیں آتے لیکن دوسری طرف پاکستان، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک پر سخت نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہیں باقی ممالک سے الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے حالات خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کریں گے اور مستقبل میں امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.